تمام مسالک کے علماء کی مشاورت سے نصاب پر نظر ثانی کی جائے گی : رویز خٹک

تمام مسالک کے علماء کی مشاورت سے نصاب پر نظر ثانی کی جائے گی : رویز خٹک

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صحت اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں میں عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی، کرپشن کے خاتمے، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو صوبائی حکومت کا میگا پر ا جیکٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صرف سڑکوں اور پلوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ نظام کو ٹھیک کیا جائے ۔سسٹم کو ٹھیک کرنا اس ملک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں نئے جنرل آئی سی یو اور لائبریری کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا۔ وزیر صحت شہرام خان ترکئی، شوکت یوسفزئی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صوبائی حکومت کے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سسٹم کو ٹھیک کرنا اس ملک کا میگاپراجیکٹ ہے اور وقت کا تقاضا بھی ہے کہ ماضی کے کرپٹ نظام کو تبدیل کیا جائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے صوبے میں حکومت سنبھالی تو ان کے سامنے نظام کو ٹھیک کرنے کاایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔سڑک یا پل کی تعمیر تو آسان کام ہے کیوں کہ اس میں مزاحمتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مگر کئی دہائیوں پر محیط کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے ۔کیونکہ جن لوگوں کے اس کرپٹ نظام سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں وہ اصلاحی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں مگر ہم نے یہ چیلنج قبول کیا۔ہمارا عوام سے وعدہ اور عزم تھا کہ اس کرپٹ نظام کو ٹھیک کریں گے۔ عوام کو حقوق اور انصاف کی فراہمی سب سے بڑا منصوبہ ہے۔صوبائی حکومت شفاف طرز حکومت، لوٹ مار کے خاتمے اور عوام کو خدمات کی فراہمی کو میگا پراجیکٹ سمجھتی ہے۔ اگر ہم ترقیافتہ اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو قوم اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ اگر عمارتیں موجود ہوں مگر ادارے ڈلیور نہ کر رہے ہوں تو ان کا کیا فائدہ۔ اگر دنیا نے ترقی کی ہے تو یہی وجہ ہے کہ وہاں نظام شفاف ہے اور ادارے ڈلیور کر رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہاں تک سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کا سوال ہے تو سب کو معلوم ہونا چاہئے اور سب جانتے بھی ہیں کہ صوبے بھر میں تعمیراتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ صوبائی حکومت نے تعمیر کے شاہکار حیات آباد باب پشاور فلائی اور ریکارڈ قلیل مدت اور معقول لاگت میں مکمل کرکے دکھایا۔ 40ارب روپے کی لاگت سے سوات موٹر وے کی تعمیر شروع ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جو صوبائی حکومت خود اپنے وسائل سے تعمیر کر رہی ہے۔ چمکنی سے حیات آباد تک ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے پر بھی کام شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات کا ماضی کی حکومتوں سے موازنہ کریں اور دیکھیں کہ اس حکومت اور سابقہ حکومتوں میں کیا فرق ہے۔ یہ ملک سب کا ہے ہم سب نے مل کر اس کو آگے لیکر جانا ہے اسکے ساتھ مخلص ہونا چاہئے۔ بہتری کے لئے تجاویز دیں اور جو ادارے ڈلیور کر رہے ہیں ان کا حوصلہ بھی بڑھائیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت نے غریب عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات دینے کے لئے متعدد اصلاحات کی ہیں ۔ صحت انصاف کارڈ کا اجراء غریب دوست اقدام ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 18لاکھ مستحق خاندان سالانہ 3سے 5لاکھ روپے تک مفت طبی سہولیات حاصل کرسکیں گے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو 70کروڑ روپے دے چکے ہیں۔ غریب عوام کے مفاد میں ہسپتال کو آئندہ بھی مطلوبہ وسائل فراہم کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو داد دینی چاہئے کہ وہ انتہائی سنگین حالات کا بھی مقابلہ کر لیتا ہے۔ معمول کے مریضوں کے علاوہ دہشتگردی، قدرتی آفات اور دیگر حادثات کے نتیجے میں مریضوں کے بوجھ کو بھی خوش اسلوبی سے اٹھا لیتا ہے۔ ہمیں کمزوریوں کے ساتھ خوبیوں کا بھی اعتراف کرنا چاہئے تاکہ اداروں کا حوصلہ بڑھے۔ رویوں میں تبدیلی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں نرسنگ سٹاف کو تربیت دی جا رہی ہے۔ مریض کے ساتھ اچھا رویہ آدھا علاج ہے۔ رویوں کی تبدیلی ضروری ہے کیونکہ یہ مجموعی تبدیلی سے باہم مربوط ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر انتہائی کم وقت میں منصوبوں کی تکمیل پر وزیر صحت، ہسپتال انتظامیہ اور دیگر حکام کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے نئے جنرل آئی سی یو کے لئے الیاس بلور کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے آئی سی یو کو الیاس بلور کے خاندان سے موسوم کرنے کی بھی تجویز دی۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبائی سطح پر اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ تمام مسالک کے علماء کی مشاورت سے پورے نصاب پر نظر ثانی کی جائے گی اور علماء کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جتنا ممکن ہو اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 31(2) کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی شعائر کی ترویج اور تعلیمات کے فروغ کیلئے نئی قانون سازی اور تمام ممکنہ اقدامات کریں اس کا کسی کو احساس نہ ہونا قابل افسوس ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں متحدہ علماء بورڈ سے گفتگو اور پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں معیار تعلیم کو بلند کرنے اور تعلیمی نصاب کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بار متحدہ علماء بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ صوبے میں سود اور رشوت کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی گئی ہے۔ پرائمری تک ناظرہ قرآن اور چھٹی سے بارھوویں تک ترجمہ قرآن اور عقیدہ ختم نبوت پر مضمون شامل نصاب کیا جا چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے نصاب تعلیم کی اصلاح کیلئے علماء کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق اسلامی تعلیمات و اقدار کے فروغ، رشوت و سود کے خاتمے اور نصاب کو اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے ۔ سودی نظام اور رشوت نے غریب کو جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لعنت کا نام و نشان ختم کرنا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے سود اور رشوت کے خاتمے کیلئے باضابطہ قانون پاس کیا ہے کیونکہ یہ معاشرے کی ضرورت اور حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اب سود خور کو گرفتار کیا جائے گا۔ علماء ہماری رہنمائی کریں ہم ایسے کام روکیں گے جو دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرآنی تعلیمات کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 31(2) پر بھی آج تک عمل نہ ہو سکا جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ہم نے اپنے بچوں کی تعلیمی بنیاد مضبوط بنانی ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی تربیت کرنی ہے۔انصا ف پر مبنی معاشرہ ہماری منزل ہے بچوں کو دینی تربیت اور کردار سازی کیلئے دینی علوم سے روشناس کرانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دینی علوم سے دوری نے ہماری پریشانیوں اور مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔ انفرادی اور اجتماعی کردار کی داغ بیل ڈال کر اور شعوری و فکری تربیت دے کر نوجوان نسل کو اجتماعی ذمہ داری سے عہدہ برآہ ہونے کیلئے تیار کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر علماء کی کمیٹی بنائی جو ہر مسلک کے دو ممبران پر مبنی ہو گی ۔ کمیٹی محکمہ تعلیم اور اوقاف کے ساتھ بیٹھ کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی تاکہ پورے سلیبس کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نہ صرف سفارشات کا خیر مقد م کرے گی بلکہ اس کو دینی فریضہ سمجھ کر سلیبس کا حصہ بنائے گی ۔وزیراعلیٰ نے سکولوں میں ترجمہ قرآن پڑھانے کے حوالے سے صوبائی حکومت کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ طلباء کی عمر اور ذہنی استعداد کے لحاظ سے تقسیم کرکے پڑھایا جائے۔ واضح رہے کہ پرائمری کی سطح پر ناظرہ قرآن اور چھٹی جماعت سے 12ویں تک ترجمہ قرآن لازمی پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے علماء کی سفارشات کو ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں لے جانے کا عندیہ دیا اور کہا کہ حکومت دین کے کاموں میں تعاون کرے گی ۔ علماء نے اس موقع پر دینی تعلیم کے فروغ اور سود و رشوت کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کے اقداما ت کو سراہا اور اپنی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...