نوشہرہ اور رسالپور میں اراضی کا لیز قواعد کے برعکس منسوخ کرنے کا اقدام کالعدم

نوشہرہ اور رسالپور میں اراضی کا لیز قواعد کے برعکس منسوخ کرنے کا اقدام ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے نوشہرہ اوررسالپور میں 10کنال رہائشی اراضی کالیزقواعد کے برعکس منسوخ کرنے کاکالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گذار کو وہ پیرکے روز ملٹری سٹیٹ آفیسرکے روبروپیش ہو جبکہ ملٹری سٹیٹ آفیسرکوہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے درخواست گذار کے جواب پرپندرہ یوم کے اندر فیصلہ دے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے چوہدری محمداسلم نامی درخواست گذار کی رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاہے کہ 1999ء میں درخواست گذار کو سروے نمبر184 اور371رسالپوراورنوشہرہ کینٹ میں الاٹ ہوئی اور اسی کو بنیاد بناکرباقاعدہ طورپر انتقال بھی ہوا مگر 24 جون 2013ء اور19مئی2010ء کو یہ لیزمنسوخ کردئیے گئے نوشہرہ میں واقع اراضی سے متعلق ایم ای او نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ یہ اراضی حکومت کی منظوری کے بعد الاٹ نہیں ہوسکتی جبکہ رسالپورکی اراضی سے متعلق جو ٹرانسفر آرڈر پیش کیاگیاہے وہ جعلی ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ حقائق کو بالائے طاق رکھ کریہ قدم اٹھایاگیاہے عدالت نے دوطرفہ دلائل مکمل ہونے پرلیزمنسوخی کے احکامات کالعدم قرار دے دئیے جبکہ ایم ای او کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گذار کونئے نوٹس جاری کرکے جواب موصول ہونے کے بعد اس پرفیصلہ دے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...