دینی مدارس کیخلاف کارروائی برداشت نہیں کرینگے ،مولانا حسین احمد

دینی مدارس کیخلاف کارروائی برداشت نہیں کرینگے ،مولانا حسین احمد

چارسدہ (بیورو رپورٹ) وفاق المدارس خیبر پختونخوا کے ناظم مولانا حسین احمد نے کہا ہے کہ چارسدہ کی ضلعی انتظامیہ ایک سیاسی جماعت کے اشاروں پر ناچ رہی ہے ۔ بلا وجہ اور بلا تحقیق دینی مدرسہ کی بندش پر کسی صورت خاموش نہیں بیٹھ سکتے ۔ آج تک کسی یونیورسٹی اور کالج کو نیشنل ایکشن پلان کے آڑ میں بند نہیں کیا گیا مگر قرآن و سنت کے اشاعت و ترویج کے اداروں کو بند کیا جا رہاہے ۔ وہ چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کے شوریٰ اجلاس کے بعد وفاق المدارس اور تحفظ مدارس کے دیگر ذمہ داران کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ ا س موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی ناظم وفاق المدارس مولانا حسین احمد ، تحفظ مدارس و علماء کے صدر سابق ایم این مولانا غلام محمد صادق اور معروف عالم دین مفتی عبداللہ شاہ نے کہا کہ عصری تعلیم کی ذمہ داری ریاست اور ریاستی اداروں نے اپنے ذمہ لئے ہیں جبکہ دینی علوم کی ترویج و اشاعت بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں مگر بد قسمتی سے حکومت قرآن و حدیث کے ترویج و اشاعت میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی بلکہ مخیر حضرات کے زکواۃ اور امداد سے دینی مدارس اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بحوبی سرا نجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان اور مروجہ قانون کے مطابق تمام دینی مدارس حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور آئین و قانون کے دائرہ میں رہ کر قرآن و سنت کی تعلیمات پھیلا رہے ہیں ۔ انہوں نے قومی وطن پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی ایماء پر تنگی میں تعلیم القرآن والسنت کو سیل کردیا گیا ہے جس سے سینکڑوں طلباء متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی بندش پر علمائے کرام اور دینی مدارس کے طلباء کسی صورت خاموش نہیں بیٹھ سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ چائے کی پیالی سے مکھی کو نکالا جاتا ہے مگر حکومت نے پوری پیالی انڈیل دی ۔ حکومت یاد رکھے کہ مدارس ہمارے لئے چائے کی پیالی تو دور کی بات اصل گھی سے بھی زیادہ عزیز ہے اور اس کے تحفظ کیلئے جانوں کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثا ر علی بار بار کہہ چکے ہیں کہ دینی مدرسوں میں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود چارسدہ کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے ایک سیاسی پارٹی کے ایماء پر انتہائی قدم اُٹھایا ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دینی مدرسہ میں غیر قانونی کام کے حوالے سے اطلاع پر پوری تحقیق ہونی چاہیے اور اگر کچھ ثابت ہو جائے تو مدرسہ کو بند کرنے کی بجائے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی گرفتاری پر ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے وفاق المدارس کے مرکزی قیادت سے رابطے جاری ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تعلیم القرآن ولسنت تنگی کو فوری طو رپر نہ کھولا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کرینگے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...