چین نے پاکستان سے رابطہ سازی مزید بہتر بنانے کیلئے ہائی وے نیٹ ورک کی تعمیر پر 24ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کر دیا

چین نے پاکستان سے رابطہ سازی مزید بہتر بنانے کیلئے ہائی وے نیٹ ورک کی تعمیر ...
چین نے پاکستان سے رابطہ سازی مزید بہتر بنانے کیلئے ہائی وے نیٹ ورک کی تعمیر پر 24ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کر دیا

  


بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) چینی حکومت نے مسلمانوں کی اکثریت والے صوبے سنکیانگ میں ہائی ویز کیلئے 24ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کر دیا ۔

ڈان نیوز کے مطابق چین کی حکومت نے سی پیک کے بعد اب پاکستان سے رابطہ سازی کو مزید بہتر بنانے کیلئے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں ہائی وے نیٹ ورک کی تعمیر پر 24ارب ڈالر کی خطیر رقم لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مقصد کیلئے فنڈز کا اجراع کر دیا گیا ہے جو سڑکوں کی تعمیر پر صرف ہونگے تاکہ شاہراہ ریشم اکنامک بیلٹ سے ملحقہ ممالک کے ساتھ ملکر تجارت کا مرکز بننے میں چین کیلئے معاون ثابت ہو سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ان نئے منصوبوں سے مقامی افراد کے لئے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہونے کا امکان ہے ۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے اپنے انٹرویو کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے کبھی بھی اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی جبکہ خطے میں ریلویز منصوبوں کی تعمیر کیلئے 1ارب ڈالر سے زائد اور سول ایوی ایشن پراجیکٹس کیلئے بھی 70کروڑ روپے لگائے جائیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں ، ریلویز اور ایئر پورٹس منصوبوں کی تعمیر کیلئے اس سال ہونے والی سرمایہ کاری 2011ءسے 2015ءکے دوران ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر کیلئے مجموعی فنڈنگ سے تجاوز کر جائیگی ۔”خطے میں وسیع پیمانے پر ہائی وے نیٹ ورک کی تعمیرہماری ترجیخات کا حصہ ہے کیونکہ اس وقت صوبے سنکیانگ میں 40فیصد شہر اور علاقے ہائی ویز سے منسلک نہیں ہیں “۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

زہانگ نے کہا کہ ہائی ویز کے بغیر سنکیانگ کی تیل ، کوئلے اور زرعی اجناس کو خطے سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا اور اگر ایسا کیا جائے تو اس پر کرائے کی مد میں بہت زیادہ خرچے آئے گا تاہم اگریہ ہائی وے نیٹ ورک مکمل ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں لاجسٹک کے اخراجات 30فیصد تک کم ہو سکتے ہیں ۔”چین 6ہزار 96کلو میٹر طویل ہائی ویز کی تعمیر اسی سال شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے “۔

اس وقت صوبے سنکیانگ اور چین کے دیگر علاقوں کو مشرقی حصے سے ملانے کیلئے کوئی ہائی ویز موجود نہیں ہیں اور خطے اور چین کے ہمسایہ ممالک کو مغر ب سے ملانے والی موجود ہ سڑکیں مستقبل کی تجارت کی طلب کو پورا نہیں کر سکتیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرانسپورٹیشن کے بغیر شاہراہ ریشم کے معاشی بیلٹ پر تجارتی مرکز بننا ممکن نہیں ہے۔

مزید : قومی


loading...