وہ مبارک مقام جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا، تصاویرمنظرعام پر آگئیں

وہ مبارک مقام جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا، تصاویرمنظرعام پر آگئیں
وہ مبارک مقام جہاں سے اسلام کا آغاز ہوا، تصاویرمنظرعام پر آگئیں

  


مکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)غار حراء کو سرچشمہ نورہدایت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہیں سے انسان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی پرمبنی پیغام کا آغاز ہوا اور دنیا کے کون کونے تک جا پہنچا۔مکہ مکرمہ سے دور سطح سمندر سے 634 میٹر بلند غارحرامیں نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تدبر وتفکر میں مشغول تھے کہ پہلی وحی نازل ہوئی اور اب ممکنہ طورپر پہلی مرتبہ اس کی اندرونی تصویر بھی منظرعام پر آگئی ۔

العربیہ کے مطابق مسجدالحرام سے چار کلومیٹر دور غار حراسے خانہ کعبہ کا براہ راست نظارہ ممکن ہے،وہاں ایک ہی وقت میں زیادہ سے زیادہ چھ افراد سما سکتے ہیں جبکہ یہاں تک پہنچنے کے لیے اچھی خاصی جسمانی طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ چڑھائی چڑھتے ہوئے وہاں تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔ جبل النور کی چوٹی پر پہنچ کر وہاں سے غار حرا کے اندر جانے کے لیے مزید 20 میٹر چلنا پڑتا ہے۔ دنیا کے کسی اور مقام پر ایسا کوئی غار نہیں یہ غار باہر سے کافی حد تک اونٹ کی کوہان سے مشابہت رکھتی ہے، دن ہویا رات ، کوئی ایسا وقت نہیں جب وہاں مسلمان زائرین نہ پہنچ رہے ہوں۔

حرمین شریفین کے محقق محی الدین الھاشمی نے العربیہ کو بتایاکہ زیارات کے لیے آنے والے زائرین نہ صرف غار حراسے پتھر اور کنکریاں توڑ کرتبرک کے طور پراپنے ساتھ رکھتے ہیں بلکہ یاد گار کے لیے وہاں پر کوئی عبارت بھی لکھ ڈالتے ہیں۔ بہت سے زائرین اس جگہ کے تقدس کا خیال رکھنے کے بجائے وہاں پر فالتو چیزیں بھی پھینک آتے ہیں ۔

مزید : رئیل سٹیٹ


loading...