دراصل مسلم ممالک کشمیرکی آزادی نہیں چا ہتے

دراصل مسلم ممالک کشمیرکی آزادی نہیں چا ہتے
دراصل مسلم ممالک کشمیرکی آزادی نہیں چا ہتے

  


مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی راہ میں غیر مسلم سے زیادہ اسلامی ملک رکاوٹ نظر آتے ہیں ۔ یہ او آئی سی کا فورم ہو یا اسلامی دنیا کا کوئی اور پلیٹ فارم ،کشمیریوں کی حمایت میں امت مسلمہ زبانی نعرہ لگانے سے زیادہ کچھ نہیں کرپارہی۔اسکی وجہ انکے بھارت کے ساتھ مفادات ہیں ۔

کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟ ظاہری سے بات ہے بھارت ۔ اب بھارت سے آزادی کے لیے کس طرح دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔؟ اسکا ایک حل ہے کہ اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ کشمیر موقف پر ایک ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔لیکن کیا ایسا ممکن ہے۔؟ذرابھارت کے قریب تر ہمسایہ ممالک کا جائزہ لیجئے۔ بنگلہ دیش کشمیر پر خاموش ہے۔بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر اعتراف کیا ہے کہ ہاں وہ بھی مکتی باہنی میں شامل تھا جس نے مشرقی پاکستان کو توڑا۔ یہ ہے حال ایک اور مسلمان ملک کا جو بالکل بھارت کے ساتھ واقع ہے۔ گویا بنگلہ دیش کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کی حمایت کا قصہ ختم ہی سمجھنا چاہئے۔اب چلتے ہیں ایران کی جانب جو بہت بڑااسلامی ملک ہے۔ بھارت کی ایران کے ساتھ پیار کی پینگوں کا عالم یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا جو سب سے بڑا نیٹ ورک پاکستان کے خلاف آپریٹ ہو رہا ہے وہ ایران کی سرزمین سے ہوتا ہے۔ ایران اور افغانستان ملکر بھارت کے ساتھ ایران سے پاکستانی بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لیے پورٹ میں حصہ دار بن چکے ہیں۔ افغانستان کا یہ حال ہے کہ اُس کی فوج تک کو بھارت ٹریننگ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام تر تحریک کا مرکز افغانستان ہے اور اُسے بھارت آپریٹ کر رہا ہے۔ بھارتی اور افغانی سربراہان مملکت آپس میں اس طرح شیر و شکر ہیں کہ خدا کی پناہ۔ افغانی طلبہ بھارت جا کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے بے شمار قونصلیٹ قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دفاتر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔

اب اسلامی دُنیا کے سب سے اہم ترین ملک سعودی عرب کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کے لیے پاکستانی مسلمان ہر وقت جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اِس ملک میں پاکستانیوں کو ملازمت کے دوران وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ ہمارے دُشمن ملک بھارت کے باشند وں کو حاصل ہیں۔ حال ہی میں سعودیہ کا سب سے بڑا سول ایوارڈ مودی کو دیا گیا ۔ یہ ہے بھارت کے ساتھ سعودی عرب کی محبت کا عالم ۔ بھارت کی فی کس آمدنی میں اُن بھارتیوں کا بہت اہم کردار ہے جو کہ عرب دُنیا میں کمائی کر رہے ہیں۔ بھارت اور سعودی عرب کا آپس میں تجارتی حجم پاکستانی تجارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ لطف کی بات یہ ہے ایران اور سعودی عرب جو آپس میں سرد جنگ میں بر سر پیکار ہیں۔ یہ دونوں ممالک بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ گویا سعودی عرب بھی بھارت پر کشمیر کی آزادی کے لیے دباؤ نام کی کوئی چیز نہیں ڈال سکتا ۔اب مشرق وسطی کی بات ہو جائے۔ متحدہ عرب امارات نے بھارت میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا معاہدہ کر لیا ہے۔لہذا بھارت کے ساتھ تگڑے کاروباری مراسم رکھنے والے سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، مشرق، وسطی کے مسلمان ممالک کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت میں کیونکر آگے جائیں گے۔حالانکہ یہ ملک چاہیں تو بھارت کو اسکا وعدہ یاد دلاسکتے ہیں ۔27اکتوبر1947ء کو بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعظم برطانیہ کو ایک ٹیلی گرام نمبر 402 ارسال کیا جس میں لکھا تھا کہ ہمارانقطہ نظر جو ہم نے بارہا عوام کے سامنے رکھا ہے کہ کسی بھی متنازعہ علاقہ یا ریاست کے الحاق کا فیصلہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا اور ہم اس نقطہ نظر پر قائم ہیں۔ نہرو نے ایک اور ٹیلی گرام 31اکتوبر1947ء کو وزیراعظم پاکستا ن کے نام ارسال کیا جس میں درج تھا کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام الحاق کا فیصلہ کریں گے، یہ اُن تک ہے کہ وہ جس بھی ملک سے چاہیں‘ الحاق کریں۔

یہی وہ دوغلی اور منافقانہ پالیسی تھی جس پر پہلے دن کی پہلی ساعت سے ہی بھارتی رہنما کاربند تھے اور انہوں نے اِسی اندھی روشنی سے لوگوں کو گمراہ کیا اور بدستور گمراہ کرتے چلے گئے۔ نہرو نے اپنے وعدے کا اعادہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی برادری کے سامنے بھی کیا اور بعد کے برسو ں کے دوران وہ مسلسل اس خوبی کے ساتھ اِس کا اعادہ کرتے رہے کہ گویا وہ کشمیر میں استصوابِ رائے کروانے کے لیے ازخود تیار بیٹھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہ تھا۔ اسکی ایک وجہ یہی اسلامی برادر ملک ہیں جو بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا کر کشمیریوں کی کھل کر حمایت کرنے میں منافقت کرتے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...