بیسویں قسط، بدنام زمانہ جیل سے ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی مظالم کی کہانی

08 فروری 2017 (16:44)

بوسنیائی قیدی:

گوانتاناموبے میں بوسنیا سے تعلق رکھنے والے شیخ جابر، ابو شیما محمد، مصطفی اور الحاج بھی قید تھے جو بہت ہی مظلوم تھے۔ ان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ گوانتاناموبے کیوں لایا گیا اور جرم کیا ہے؟ ابو شیما کو تو سزا کے لیے پانچویں کیمپ میں بھی لے جایا گیا۔ شیخ جابر نے مجھے بتایا کہ ہم نے ہر تفتیش کار سے اپنا قصور پوچھا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ بعض کہتے کہ آپ امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم ثبوت مانگتے تو کہتے کہ ثبوت ضروری نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ نے ماضی میں کچھ کیا ہو۔ ہو سکتا ہے آپ مستقبل میں امریکی تنصیبات پر حملہ کریں اور امریکیوں کو نقصان پہنچائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پانچوں بوسنیائی بھائیوں نے زندگی میں نہ کبھی افغانستان دیکھا تھا اور نہ کسی تنظیم سے ان کا تعلق تھا۔ ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے سربوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔

بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی کی کہانی۔۔۔انیسویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دو بے بس حکمران:

میں نے بحیثیت افغان سفیر کئی بار اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا نوٹس لیا جائے اور بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے۔ مجھے ہر بار یقین دہانیاں کرائی گئیں ۔ اپنی گرفتاری سے قبل حامد کرزئی اور جنرل پرویز مشرف دونوں سے مسلسل رابطہ رکھا اور ان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے شمال میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کو رہا کیا جائے اور ان سے وحشیانہ سلوک کو روکا جائے مگر دونوں بے بس نظر آتے تھے۔

پاکستانی اہلکاروں کا مک مکا:

غسان جو عرب تھا، نے بتایا کہ میں اپنے چند ساتھیوں سمیت لاہور کے ایک ہوٹل میں کرائے کے عوض کمرہ لے کر اس انتظارمیں بیٹھا تھا کہ کسی طریقے سے پاکستان سے باہر نکل سکوں۔ پاکستان سے باہر جانا آسان تھا مگر اس کے لیے رقم کی ضرورت تھی جو میرے پاس نہیں تھی۔ باہر بھجوانے کا کام پاکستانی اہلکار باقاعدہ مک مکا کرکے کرتے تھے۔ جب سودا طے نہ ہوا تو انہی اہلکاروں نے چھاپا مار کر گرفتار کر لیا۔ انہوں نے جب چھاپہ مارا تو ہمارے پاس سبزیاں کاٹنے والی چھریاں تھیں جبکہ ان کے پاس بھاری اسلحہ تھا۔ اس کے باوجود ہم نے خوب مزاحمت کی۔ ہماری مزاحمت دیکھ کر اہلکاروں نے کہا کہ ہم آپ کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ نہیں آپ کے ساتھ امریکی ہیں اور ہم خود کو امریکا کے حوالے نہیں کریں گے۔ اہلکاروں نے کہا کہ آپ کو امریکا کے حوالے کرنے نہیں بلکہ پوچھ گچھ کرنے کے لیے گرفتار کیا جارہا ہے۔ ہم نے خدا اور رسولﷺ کے واسطے دیئے اور کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور عرب مجاہدین ہیں مگر وہ نہیں مانے۔ محاصرہ کرکے جب انہوں نے ہمیں گرفتار کر لیا تو بااثر دکھائی دینے والے چند افراد آئے اور قسم اٹھا کر کہا کہ ہم لشکر طیبہ کے لوگ ہیں اور آپ کے ساتھی ہیں آپ مزاحمت نہ کریں۔ پھر ان پاکستانی اہلکاروں نے پہلے ہمیں لوٹا اور پھر امریکی فوجیوں کو لایا گیا کہ آئیں دیکھیں۔ ہم کس طرح آپ کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکیوں کی تحقیق:

ایک دن مجھے تحقیق کے لیے لے جایا گیا ۔کچھ نئے تفتیش کار وہاں آئے ہوئے تھے جن کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک ٹھگنی کالی خاتون بھی ساتھ تھی اور ایک پٹھان ترجمان بھی ساتھ تھا۔ میز پر پینے کا پانی رکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک نقشہ میز پر رکھا جس کی ابتدا افغانستان سے ہوتی ہوئی امارات اور امارات سے سوڈان اور سوڈان سے یورپ اور انتہاء جنوبی امریکا تک پہنچتی تھی۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس راستے افغانستان سے سونے کی غیر قانونی تجارت ہوتی رہی ہے اور آپ بھی اس میں شریک تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ افغانستان میں سونے کی کان اور افغانستان کی سونے کی برآمد ثابت کریں تو میں سب کچھ ماننے کے لیے تیار ہوں لیکن وہ بضد تھے اور باربار اصرار کرتے رہے کہ آپ اس دھندے میں (جس کا کوئی وجود نہیں) شامل تھے۔

ان کا ایک اور سوال یہ تھا کہ آپ ہر مہینے پشاور کس لیے جاتے تھے؟ یہ تفتیش کار خصوصی طور پر امریکا سے گوانتاناموبے آئے تھے لیکن بڑے بے عقل تھے جو مثبت و منفی سوال میں فرق تک نہیں کر سکتے تھے اور یا تو پھر وہ ہمیں بے وقوف اور بچے سمجھتے تھے اس لیے اس طرح کے بے ربط سوالات کرتے تھے۔

مجھ سے افغانستان کی تمام سیاسی مذہبی تنظیموں، معدنیات جیسے تیل، گیس ، کرومائیٹ، سنگ مرمر، ہیرے اور جواہرات نیز تمام دارس اور علما کے بارے میں پوچھا گیا۔ اسی طرح میرے سامنے مختلف ممالک میں علماء کی مجالس کی تصویریں لائی گئیں جس میں صد سالہ دارالعلوم دیو بند کانفرنس، پشاور میں قطبیہ کا جلسہ منصورہ میں اور لیبیا میں علماء کرام کے اتحاد اور جلسہ کی تصاویر نمایاں تھیں۔ مجھ سے ان تصویروں میں دکھائے گئے مقررین اور دیگر شریک علماء کے متعلق الگ الگ پوچھا گیا ۔ان میں ایسے مدارس اور علماء بڑی تعداد میں موجود تھے جن کو میں نے کبھی نہ دیکھا نہ سنا اور نہ ہی ان مدارس کا نام معلوم تھا۔ یورینیم کی افزودگی کا سوال بھی بار بار مجھ سے کیا جاتا رہا۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

نائن الیون کے بعد جب امریکی افواج نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی امن پسندقیادت کوبھی چن چن کر تحقیقات کے نام پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں انہیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا تاہم ان میں سے اکثر قیدی بے گناہ ثابت ہوئے ۔ملا عبدالسلام ضعیف افغان حکومت کے حاضر سفیر کے طور پر پاکستان میں تعینات تھے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹراور سفارت کے تمام آداب و اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو مجبور کرکیااور انکو گرفتارکرکے گوانتانہ موبے لے جاکر جس بیہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد کوروا رکھا اسکو ملاّ ضعیف نے اپنی آپ بیتی میں رقم کرکے مہذب ملکوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا ۔انکی یہ کہانی جہاں خونچکاں واقعات ، مشاہدات اور صبر آزما آزمائشوں پر مبنی ہے وہاں ملاّ صاحب کی یہ نوحہ کہانی انسانیت اورامریکہ کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔دورحاضر تاریخ میں کسی سفیر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک اقوام متحدہ کا شرمناک چہرہ بھی بے نقاب کرتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان مٰیں شائع ہونیوالی تحاریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں