معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ آٹھویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ آٹھویں قسط
معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ آٹھویں قسط

  


امریکا کی جنتِ ارضی کا سفر

امریکا جانا میرے پروگرام میں ابتدا سے شامل تھا کیونکہ میرے پاس اپنی بہن کا کافی سامان تھا اور ان سے ملے ہوئے بہت دن بھی ہوگئے تھے۔اب جب کہ میرے سارے ابتدائی اور ضروری کام ہوچکے توامریکا جانے کے لیے مناسب وقت آگیا تھا۔ مگر مسئلہ وہی تھا کہ کینیڈا میں نیا ہونے کی بنا پر مجھے امریکا جانے کی اجازت ملنی بہت مشکل تھی۔مزید یہ کہ میں فی الوقت کوئی ملازمت بھی نہیں کررہا تھا جو ایک بہت بڑا منفی نکتہ تھا۔ان حالات میں مجھے سرحد پر موجود امیگریشن آفیسرکو مطمئن کرنا تھا۔ وہ اگر مجھے سرحد سے لوٹادیتا تو بہت خواری ہوتی۔بہرحال میں نے اللہ کا نام لے کر جانے کا ارادہ کرلیا۔

معلوماتی سفرنامہ۔ ۔ ۔ ساتویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

میں روانگی سے ایک دن قبل ٹرین کا ٹکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلا۔ واپس آتے ہوئے میں بینک گیا تاکہ سفر کے لیے پیسے نکال سکوں۔میں بینک کاؤنٹر کی لائن میں جاکر کھڑا ہوگیا۔ میرا نمبر آیا تو میں اتفاق سے ایک ایسے کاؤنٹر پرگیا جہاں ایک مسلمان خاتون تھیں۔ انہوں نے مجھ سے بہت زیادہ جرح کی اور میرے سارے کاغذات چیک کیے۔ مگر آخر میں معذرت کرکے بتایا کہ حال ہی میں کسی نئے آنے والے کا اے ٹی ایم کارڈ کھوگیا اورکوئی دوسراشخص اس کے ذریعے اس کے اکاؤنٹ سے پیسے نکلواکر چلتا بنا اس لیے مجھے ایسا کرنا پڑا۔

میں نے اس بات کا برا نہیں منایا۔ لیکن ایک دوسری بات مجھے پسند نہیں آئی۔ یہ ان کے حجاب کا طریقہ تھا۔ پچھلے دنوں فرانس اور ترکی میں مسلم طالبات کو سر پر اسکارف پہننے سے جبراًروکا گیا۔ اس بات کا مسلم میڈیا پر بہت چرچاہوا۔ شاید اسی کا ردعمل تھا کہ مغرب میں مسلمان خواتین اکثر سر پر اسکارف لے لیتی ہیں۔ میں نے اپنے قیام کے دوران ایسی بہت سی خواتین کو دیکھا۔ اور سب کو مشترکہ طور پر وہی غلطی کرتے ہوئے دیکھا جو ان خاتون نے کررکھی تھی۔ ان کے سر پر اسکارف توتھا مگر سینے پر لباس کے اوپر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ یہ بظاہر ایک چھوٹی بات ہے مگر اللہ تعالیٰ نے سورۂ نورمیں اس چھوٹی بات کو جس طرح خصوصی طور پر بیا ن کیا ہے اس بنا پر میں نے بھی با اہتمام اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھا۔ بالخصوص مغرب میں مسلم خواتین اسکارف پردہ ہی کی نیت سے پہنتی ہیں۔اس لیے انہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ رہا مشرق تو وہاں ایک زمانے میں دوپٹہ اسی مقصد کے لیے گھروں میں پہنا جاتا تھا کہ سر اور سینہ دونوں بیک وقت اچھی طرح ڈھک جائیں۔ مگر اب یہ بیچارہ ایک پٹی کی شکل میں نسوانی شانوں پراِدھر اُدھر کہیں پڑا رہتا ہے اور مغربی تہذیب کے ہاتھوں مشرق کے شکست خوردہ علم کی طرح نظر آتا ہے۔

امریکی سرحدپر

اگلی صبح میں یونین اسٹیشن کے لیے روانہ ہوا۔ یہ ٹورنٹو کا ریلوے اسٹیشن ہے جہاں سے مجھے نیویارک کے لیے ٹرین میں بیٹھنا تھا۔ کینیڈا میں یہ سروس (VIA TRAIN) کہلاتی ہے۔ یہی ٹرین سرحد عبور کرکے امریکی ٹرین میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جہاں کینیڈین عملہ کی جگہ امریکی عملہ لے لیتا ہے اور ٹرین کا نام’’ ایم ٹریک ‘‘ ہوجاتا ہے۔ میں ٹرین چلنے سے بمشکل دس منٹ قبل اسٹیشن پہنچا اور بھاگم بھاگ ٹرین پر سوار ہوا۔ اس روز موسم کافی سرد تھا کیونکہ ہوا تیز تھی اور بادل چھائے ہوئے تھے۔ٹورنٹو میں سڑکوں پر جگہ جگہ درجۂ حرارت بتانے کے لیے سائن بورڈ بنے ہوئے ہیں۔جن کے مطابق اس وقت درجۂ حرارت چھ ڈگری تھا۔ ونڈ چل نہ جانے کتنی ہوگی۔

ہماری ٹرین وقت پر روانہ ہوئی اور دو گھنٹے بعد سرحد پر پہنچ گئی۔راستے بھر میں امیدو بیم کی کیفیت میں رہا۔ بیچ میں کچھ سرسبز و شاداب وادیاں اورجھیلیں بھی آئیں مگر میں کسی منظر سے لطف نہ لے سکا۔کیونکہ اس بات کاپورا ا مکان تھا کہ مجھے واپس کردیا جائے۔ نیاگرا فالزکی سرحد پر ٹرین رکی تو امریکی امیگریشن کے کچھ افسران ٹرین پر چڑھے۔ امریکا جانے والے صرف دو بوگیوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس لیے یہ لوگ انہی دو بوگیوں میں پھیل گئے اور ایک ایک مسافر کا انٹرویو کرنے لگے۔ میرے پاس ایک افسر آیا اور سوالات کرنے گا۔ میرا کیس بہت کمزور تھا مگر وکیل بہت مضبوط۔ میں اسی کے بھروسے پر چلا تھا اس لیے بہت اطمینان سے اس کے سارے سوالوں کے جواب دیے۔ آخرکار وہ افسر میری باتوں سے مطمئن ہوگیا۔ میں نے اپنے وکیل، اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے خواری سے بچالیا۔

امیگریشن افسران کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جو ہر سیٹ کے نیچے جاکر شاید منشیات کی بو سونگھتا تھا۔یہ لوگ ایک گھنٹے تک ٹرین میں رہے اور متعدد لوگوں کو پکڑ کر لے گئے۔ ہماری ٹرین جو پہلے ہی کافی خالی تھی اور بھی خالی ہوگئی۔ غالباً وقت کی طوالت کی بنا پر ٹرین کا سفر کوئی بہت زیادہ پسندیدہ سفر نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ سرحد عبور کرنے کے بعد ٹرین امریکی نیاگرا فالزکے اسٹیشن پر آدھ گھنٹے کے لیے رکی۔ میں اسٹیشن پر اترا تاکہ اپنی بہن کو فون کرکے بتادوں کہ میں نے سرحد کراس کرلی ہے۔ مگر یہ بھول گیا کہ میں امریکا آچکاہوں اور یہاں فون کرنے کے لیے امریکی کرنسی چاہیے جو میرے پاس اِس وقت نہیں ہے۔ اتفاق سے وہاں ایک پاکستانی لڑکی فون کررہی تھی۔ اس نے اپنے کارڈ سے مجھے فون کرنے کی پیشکش کی جو میں نے شکریہ کے ساتھ قبول کرلی۔

سفر نامہ اور ازدواجی زندگی

جب دوبارہ ٹرین روانہ ہوئی تو یہی لڑکی میرے پاس آئی۔ اس کا نام حنا تھا ۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ ٹورنٹو میں رہتی ہے۔ کالج کی طالبہ ہے اور ساتھ میں جاب بھی کرتی ہے۔اس وقت وہ اپنے انکل کے پاس نیویارک چھٹیاں منانے جارہی ہے۔ وہ اکیلی سفر کررہی ہے اور اس لیے بہت بور ہورہی ہے۔ میں بد قسمتی سے اسے کسی قسم کی کمپنی دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اولاً میں تنہائی چاہتا تھا۔ ثانیاً کمپنی دینے کے لیے مجھے اسے اپنے ساتھ بٹھانا پڑتا ۔ گو مغربی معاشرے میں یہ ایک معمول کی بات ہے، بالخصوص بس اور ٹرین میں تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں جہاں مردو زن ایک ساتھ ہی سفر کرتے ہیں۔ مگر مجھے یہ اچھا نہیں لگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب میں اپنے قیام کے دوران جب کبھی کوئی لڑکی ٹرین یابس میں میرے پاس آکربیٹھتی تو میں سیٹ چھوڑ کر کھڑا ہوجاتا۔ میں صرف اتنا اہتمام کرتا کہ میرا جسم اس کے جسم سے مس نہ ہونے پائے۔

یہ قارئین کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایسے بدذوق شخص کا سفر نامہ پڑھ رہے ہیں جو ریل کے ایک بہت رومانٹک سفر میں ایک تنہا نوجوان لڑکی کوساتھ بٹھانے سے گریزاں ہے۔ جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ تھوڑی دیر میں وہ لڑکی مصنف کے کندھے پر سر ٹکاکر سوجائے۔ ایک سفر نامے میں رنگ بھرنے کے لیے یہ آئیڈیل صورتحال ہے۔ مگر الحمد اللہ راقم کوئی بڑا مصنف یا ادیب نہیں ایک عام آدمی ہے جسے روزِ قیامت خدا کے علاوہ واپس جاکر اپنی بیوی کو بھی منہ دکھانا ہے۔ اور جو سفر نامے میں قارئین کی دلچسپی بڑھانے کے لیے، اپنی ازدواجی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔

دعا مانگنا اور پڑھنا

بہرحال میں نے بد تمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاقاً بھی حنا کو پاس بیٹھنے کے لیے نہیں کہا۔ اس نے کھڑے کھڑے میرے بارے میں دریافت کیا تو میں نے مختصراً اپنے بارے میں بتادیا۔ اس نے حیرت سے سوال کیاکہ امیگریشن والوں نے آپ کو کیسے چھوڑدیا۔ میں نے جواب دیا کہ اللہ نے میری مدد کی۔اس نے کہا کہ آپ نے بہت دعائیں پڑھی ہوں گی۔ میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ لیکن اس ایک جملے میں اس نے ہماری قوم کی پوری مذہبی نفسیات کو کھول کررکھ دیا۔ ہم اپنی مشکل کشائی کے لیے وظیفے اور دعائیں ’’پڑھتے‘‘ ہیں۔ جب انسان دعا ’’پڑھتا ‘‘ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے خیال میں ان الفاظ میں کوئی جادوئی تاثیر ہے۔ یہ کوئی جنتر منتر ہے جس کے زبان سے نکالتے ہی یا خاص اوقات میں خاص تعداد میں دہرالینے سے کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوجائے گا۔ جبکہ ہمارے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اصل چیز الفاظ نہیں ہوتے، وہ کیفیت ہوتی ہے جن میں ڈوب کر بندے کے قلب سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو سیدھے عرش تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک وقت میں ایک طرح کے ہوتے ہیں اور دوسرے وقت میں دوسری طرح کے۔ بعض اوقات تو الفاظ منہ سے نکل ہی نہیں پاتے۔ بس اٹھی ہوئی نگاہ، جھکا ہوا سر ، لرزتے ہوئے ہونٹ اور بہتے ہوئے آنسو بندے کواللہ عالم الغیب سے اس طرح جوڑدیتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا بن جاتی ہے۔ دعا خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے مگر ہم اسے بھی بے دلی سے دہرائے ہوئے الفاظ میں ضائع کردیتے ہیں۔

بہرکیف میرے پاس اس وقت قرآن ، بائبل اور تاریخ کے موضوعات پر بعض کتابیں تھیں جو میں نے اس کے سامنے رکھ دیں کہ ان میں سے کوئی کتاب پڑھ کر ٹائم پاس کرو۔ اس نے تاریخ کی کتاب لے لی۔ تاہم تھوڑی دیر میں آکر اس نے تاریخ کی کتاب یہ کہہ کر واپس کردی کہ اس کی زبان بہت ثقیل ہے۔اس کی جگہ وہ بائبل لے گئی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

عیسائیوں سے ایک مکالمہ

کینیڈا میں ٹرین کافی آہستہ چلی تھی مگر امریکی سرحد میں داخل ہونے کے بعد اس کی رفتارمیں کافی تیزی آگئی ۔ پہلا بڑا شہر بفلو (Buffalo) آیا۔ اس کے بعد متعدد چھوٹے چھوٹے اسٹیشن آئے۔ موسم خنک اور ٹھنڈا، سماں ابر آلود اور راستہ سرسبز و شاداب تھا۔ یہ سب مجھے بڑا اچھا لگ رہا تھا۔ میرا پورا سفر اسی طرح گزر جاتا مگر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی بنا پر سفر کا آخری نصف حصہ یعنی چھ گھنٹے کھڑکی سے باہر نگاہ ڈالنے کا موقع بھی نہ ملا۔

اس واقعے کے بیان سے قبل بہتر ہوگا کہ میں ارد گرد بیٹھے لوگوں کے بارے میں کچھ تفصیل بتادوں ۔ ٹرین میں دائیں بائیں دو دو آدمیوں کی دو نشستیں تھیں۔ ان کے درمیان گزرگاہ تھی۔میں تنہا بیٹھا تھا۔ جبکہ مجھ سے آگے دو ادھیڑ عمر میاں بیوی اور میرے پیچھے ان کی نوجوان بیٹی بیٹھی تھی۔ میرے دائیں طرف والی نشست پر ایک مسلم خاتون اپنی بچی کے ہمراہ سفر کررہی تھیں۔ ان کے پیچھے دو نوجوان بیٹھے تھے جن میں سے ایک کو امیگریشن والے پکڑ کر لے گئے ۔ بعد میں میرے پیچھے بیٹھی ہوئی لڑکی آگے اپنے والد کی جگہ پر آگئی اور اس کے والد میرے پیچھے والی نشست پر آکر بیٹھ گئے۔ ان کے ساتھ ایک اور خاتون آکر بیٹھ گئیں اور یہ دونوں عیسائی مذہب پر گفتگو کرنے لگے۔بالعموم اہل مغرب مذہب پر گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے مگر ان صاحب کا تعلق انڈیا سے تھا اور بیس سال قبل کینیڈاآگئے تھے۔ شاید عیسائیت قبول کی تھی اس لیے بہت پرجوش بھی تھے۔

اس دوران حنا پھر آگئی اور کہنے لگی کے میرا سفر نہیں کٹ رہا کیونکہ اکیلے سفر کرنا بہت مشکل کام ہے۔ مجھے اس سے پورا اتفاق تھا کیونکہ ایک پاکستانی لڑکی کے لیے بارہ گھنٹے کا تنہا سفر ایک قسم کی سزا ہی ہے۔ اس نے بائبل مجھے واپس کردی۔ اسی دوران میرے پیچھے بیٹھے ہوئے صاحب نے میرے پاس بائبل دیکھ کر پوچھا کہ کیا میں عیسائی ہوں۔ میں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا چونکہ آپ کے پاس بائبل تھی اس لیے میں نے ایسا سوچا۔میں مختصر بات کرنا چاہ رہا تھا اس لیے بات ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم مسلمان کتب سابقہ کو الہامی کتاب سمجھتے ہیں ،اس لیے میں بائبل کامطالعہ کر لیتا ہوں۔یہ کہہ کر میں خاموش ہوگیا۔انہیں شاید یہ گمان ہوا کہ میں عیسائی نہیں ہوں مگر عیسائیت سے متاثر ضرور ہوں اور اگر مجھ پر تھوڑی سی محنت کی جائے تو میں بھی عیسائی ہوجاؤں گا۔چنانچہ انہوں نے عیسائیت اور بائبل کی حقانیت پر گفتگو شروع کردی۔میں خاموشی سے ان کی بات سنتارہا مگر حنا کو اپنی بوریت دور کرنے کے لیے ایک شغل ہاتھ آگیا۔ اسے شاید اس طرح کی چیزوں میں کچھ دلچسپی بھی تھی کیونکہ بائبل لے جاتے وقت وہ یوحنا کی انجیل کے باب پر مجھ سے نشان لگواکرلے گئی تھی۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزید : کھول آنکھ، زمین دیکھ


loading...