حکومت اور اپوزیشن کارکردگی کے تناظر میں!

حکومت اور اپوزیشن کارکردگی کے تناظر میں!
حکومت اور اپوزیشن کارکردگی کے تناظر میں!

  



قومی اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جو اگرچہ 20ہزار افراد کے لئے تو بہت مایوسی اور حوصلہ شکنی کا پیغام لائی ہوگی، لیکن 20کروڑ پاکستانیوں کے لئے بالواسطہ طور پر کسی خوشخبری سے کم نہیں ۔

اس خبر کے مطابق پاکستان میں طویل ترین لوڈ شیڈنگ کے باعث تیزی سے پروان چڑھنے والی یو پی ایس انڈسٹری کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کے اکثریتی علاقوں سے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔

خبر کے مطابق اس کام سے وابستہ 20ہزار کے قریب افراد بے روزگار ہوگئے ہیں اور یوپی ایس کی کھپت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بھی تین سے پانچ ہزار تک کمی آچکی ہے۔

جو یو پی ایس پہلے 12ہزار میں فروخت ہوتا تھا اب وہ مارکیٹ میں 9ہزار روپے میں دستیاب ہے ،جبکہ 15ہزار والا یو پی ایس اب 10ہزار روپے میں بھی کوئی خریدنے کو تیار نہیں ۔

اسی ضمن میں یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ بیٹریوں کی قیمتیں بھی کھپت کی کمی کے باعث بہت جلد 2سے 3ہزار روپے تک کم ہوجائیں گی ۔ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ یقیناًمسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کا اتنا بڑا کارنامہ ہے، جس کی بہر حال تحسین کی جانی چاہئے ۔

مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں جب وفاق اور پنجاب میں حکومت قائم کی تو ملک بد ترین دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ سمیت معاشی و اقتصادی بحرانوں کی زد میں تھا۔کیماڑی سے خیبر اور تافتان سے مظفر آباد تک بم دھماکے، خود کش حملے روز کا معمول تھے۔

روشنیوں کے شہر ، عروس البلاد کراچی میں یومیہ 30سے 35افراد جرمِ بے گناہی میں قتل کیے جا رہے تھے۔یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ این آر او کی بنیاد پر قائم پیپلز پارٹی کی حکومت کے پانچ سالہ سابقہ دورِ حکومت میں2008ء سے 2012ء کے دوران کراچی اور سند ھ کے مختلف شہروں میں بیسیوں ہڑتالیں کرواکر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کے ساتھ قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔112روپے فی لیٹر پیٹرول کا استعمال عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو چکا تھا۔

ملک کے طول و عرض میں کسی میگا پراجیکٹ پر کام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ریلوے کو غلام احمد بلور نے تباہی کے آخری درجے تک پہنچا دیا تھا ۔16تا20گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی چیخیں تو نکالی ہی ہوئی تھیں ، ملک بھر کی فیکٹریاں اور کارخانے بھی پیداوار بندکر چکے تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے پورے دور حکومت میں ایک یونٹ بجلی تک پیدا نہیں کی گئی۔بے روزگاری اور غربت کا جن گلی کوچوں میں رقصاں تھا ۔

ایوانِ صدر سے آصف علی زرداری کے جاری کردہ فرامین میں عوام نام کی مخلوق کے لئے کسی نرمی و رعایت کا اعلان دکھائی ، سنائی نہیں دیتا تھا ۔ ایم کیو ایم ، اے این پی اور مسلم لیگ (ق) المعروف ’’ قاتل لیگ ‘‘ پر زرداری اور گیلانی کی طرف سے خصوصی نوازشات کی فقط ایک ہی قیمت تھی کہ زرداری حکومت کو کسی بھی حال میں گرنے نہ دیا جائے۔

2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر پر ہونے والے امریکی کمانڈوز کے’’ غیر قانونی‘‘ حملے پر ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کی پُر اسرار و معنی خیز خاموشی ایک ’’اوپن سیکرٹ‘‘ ہے کہ یہ حملہ سول لیڈر شپ کی’’ رضامندی ‘‘لے کر کیا گیاتھا۔ اسی طرح سابقہ دورِ حکومت میں میمو گیٹ سکینڈل نے ملکی سلامتی پر خطرناک سوالیہ نشان لگادئیے تھے ،جو آج تک لاینحل ہیں۔یہیں تک بس نہیں ،امریکا کی بد نام زمانہ خفیہ ایجنسی’’ بلیک واٹر‘‘ کے اہلکار پی پی کے دورِ حکومت میں پاکستان کے طول و عرض میں دندناتے پھر رہے تھے، جن پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو جرأت نہیں تھی۔الغرض ، ملکِ خداداد پاکستان جغرافیائی ، نظریاتی اور معاشی اعتبار سے دیوالیہ ہونے کے عین قریب تھا۔ایسے دگرگوں حالات میں قائم ہونے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ’’ہنی مون پیرئیڈ‘‘ گزارنے کی رعایت بھی نہیں دی گئی۔قیامِ حکومت کے فوراً بعد ہی پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک نے مل کر نواز حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا تھا۔

اس قدر نامساعد حالات میں حکومت قائم ہونا اور پھر حکومت بننے کے فوراً بعدٹانگیں کھینچنے سے موجودہ حکومت ڈے وَن سے بلاجواز اندرونی دباؤکا شکار رہی۔ پھرمیاں نواز شریف کی حکومت پر دباؤ کو برقرار رکھنے کے لئے عمران خان ، طاہر القادری، الطاف حسین ، آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو، چوہدری شجاعت، پرویزالٰہی اورپرویز مشرف سمیت ہر چھوٹے بڑے سیاستدان نے ’’حصہ بقدرِ جثہ ‘‘ کے تحت اپنا اپنا حصہ ڈالا اور آج تک یہ حصہ بڑی ’’ ایمانداری ‘‘ سے ڈالتے چلے جا رہے ہیں۔

ان سب ’’ ایمانداروں ‘‘ کو موجودہ حکومت سے ایک ہی رنجش ہے کہ نواز شریف یا شاہد خاقان عباسی کی جگہ اسے وزیر اعظم کیوں نہ بنا دیا گیا !!اتنی گھمبیر صورت حال میں حکومت سنبھالنے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ان درپیش چیلنجوں سے گھبرانے کی بجائے ہمت، حوصلے ، یکسوئی ، عقل و دانش کے استعمال اوراپنے طویل سیاسی تجربات کی روشنی میں بہترین حکمت عملی کے ذریعے مخالفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے طوفانِ بد تمیزی اور پیدا کردہ بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

نہ صرف چار ماہ سے زاید عرصہ پر محیط مادر پدر آزاد اور شتر بے مہار طرز کے دھرنے کو کلین بولڈ کیا ۔ ٹکڑوں میں بٹی اپوزیشن کی طرف سے فوج کو بار بار سول حکومت پر ایک بار پھر شب خون مارنے پر راغب کرنے کی متعدد شرمناک کوششوں کو سول ،ملٹری کے درمیان اعتماد و احترام کی فضاء کو برقرار رکھ کر میاں نواز شریف اور ملٹری قیادت نے نہ صرف ناکام بنا دیا ،بلکہ ہر موقع پر یہ واضح پیغام سامنے آیا کہ ’’ سول اور ملٹری لیڈر شپ اپنی اپنی حدود و اختیار ات کو پہچان چکی ہے اور ماضی کی غلطیوں کو آئندہ دھرایا نہیں جائے گا۔‘‘ سول ملٹری قیادت کی بالغ نظری سے ’’ امپائر‘‘ کی انگلی آج تک اٹھی ، نہ آئندہ اِن شا اللہ کبھی اٹھے گی ۔

یہ بات پوری قوم کے لئے خوش کن اور امید افزا ہے کہ تمام تر بحرانوں اور سازشوں کے باوجود سول اور ملٹری آج بھی ایک پیج پر ہیں۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سول ملٹری قیادت ایک صفحہ پرنہ ہو تی تو سی پیک، گوادر اور ’وَن بیلٹ وَن روڈ ‘جیسے عالمی اہمیت کے حامل منصوبے کبھی آغاز نہ ہو پاتے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسپشن انڈیکس کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن میں واضح کمی ہوئی ہے اور پاکستان جو پہلے کرپشن کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں126نمبر پر تھا، اب 116نمبر پر آگیا ہے۔ یہ رپورٹ بھی موجودہ حکومت کی کارکردگی کے ضمن میں جاندار اور مثبت اشاریہ ہے۔

توانائی کے منصوبوں اور میگا پراجیکٹس کی تعمیر ملک کے طول و عرض میں ایک جال کی شکل میں پھیلی دکھائی دے رہی ہے، جو بہت خوشگوار اثرات کا حامل ہے ۔

یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ ورلڈ بنک سمیت کئی عالمی مالیاتی اداروں اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے بھی موجودہ حکومت کی معاشی کامیابیوں کا اعتراف کیا ہے۔

’اقتصادی راہداری ‘ منصوبوں کے ضمن میں چین کی طرف سے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے بخوبی اندازہ ہو رہا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان معاشی طور پر ایک مضبوط اور مستحکم طاقت بن کر ابھرے گا۔ وفاقی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر نے اور معیشت کا پہیہ ایک بار پھر رواں کر دینے کے علاوہ چین کے ساتھ مل کر حقیقی معنوں میں ایک ’’نئے پاکستان ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔

اگر عوام کے اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہونے والی اس حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جاتا ، اس کے راستے میں بلاجواز رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتیں ، ٹانگیں کھینچنے اور الزامات لگانے کی سیاست نہ کی جاتی ، اپوزیشن کی طرف سے مثبت اور تعمیری کاموں پر تعاون اور حوصلہ افزائی کی جاتی تو آج پاکستان کی صورت حال یقیناًاس سے کئی گنا زیادہ بہتر اور اچھی ہوتی ۔

یہ سوچ کرب دیتی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بار بار ترقی کے عمل کو سیاست کی نذر کیا گیا اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی پر اپنی انا اور ذاتی مفادات کو مقدم رکھا گیا ۔

اب صورت حال یہ ہے کہ تمام تر سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے وفاق اور پنجاب میں پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف بھی منصب اقتدار پر اتنا ہی عرصہ گزار چکی ہیں۔

آئینی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس مزید چند ماہ کا عرصہ باقی ہے۔ان ساڑھے چار سالوں میں اپوزیشن جماعتیں محض وفاق کے خلاف محاذ آرائی کی سیاست کرتی رہیں ،جس کی وجہ سے ان کے اپنے صوبے بری طرح نظر انداز ہوئے ۔ اگر اپوزیشن جماعتیں وفاق کے خلاف صف بندی پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے اپنے صوبوں کی حالت بہتر کرنے پر دن رات ایک کرتیں تو آج نہ صرف ان کے صوبے بہت بہتر حالت میں ہوتے، بلکہ ان کے ووٹ بنک میں کمی کی بجائے بہت بڑا اضافہ ہوچکا ہوتا ، لیکن المیہ یہ ہے کہ شیخ رشید جیسے بَڑ بولے مشیروں کی موجودگی میں ایسے معقول فیصلے کرنا یقیناًبہت مشکل ہوجاتا ہے۔

بہر حال اب بھی اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے پاس وقت ہے کہ وہ مرکز کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے اپنے صوبوں پر بھر پور توجہ دیں، تاکہ آئندہ انتخابات میں وہ اپنے صوبوں میں پیش کردہ کارکردگی کی بنیاد پر پورے پاکستان میں ووٹ مانگنے کی پلاننگ کرنے کے قابل ہو سکیں ، لیکن اگر انھوں نے اپنے حاصل مینڈیٹ پر توجہ نہ دی اور اپنے صوبوں کو چھوڑ کر وفاق کے خلاف ہی اپنی توانائیاں صَرف کرتے رہے تو ان کو اپنی ہی کہی ہوئی یہ بات ہر دَم ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ ’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔

‘‘اگر مرکز میں ناقص کاکردگی کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو 2013ء میں عوام کے انتقام کا نشانہ بن کر صرف سندھ تک محدود ہونا پڑا تھا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی کو منہ کے بَل گرنا پڑا تھا تو آئندہ الیکشن میں عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا اور پیپلز پارٹی کو سندھ سے ’’بے دخلی ‘‘ کا پروانہ بھی تھما سکتے ہیں۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر غور و فکر کرے !

مزید : رائے /کالم