پولیس ٹارگٹ کلنگ روک پائے گی؟

پولیس ٹارگٹ کلنگ روک پائے گی؟
پولیس ٹارگٹ کلنگ روک پائے گی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جمعہ کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں صرف 45 منٹ کے دورانیہ میں ٹارگٹ کلنگ کی دو وارداتوں میں طرفین کے دو نمایاں ترین افراد کی ہلاکت نے امن و امان کی صورت حال کو دگرگوں کر ڈالا،ساڑھے گیارہ بجے کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح دہشت گردوں نے غربی سرکلر روڈ پر سابق بلدیاتی ممبرتیمور بلوچ کو سر میں گولیاں مار کے موت کی نیند سلا دیا،ابھی اس دردناک واقعہ کی بازگشت فضا میں تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ سوا بارہ بجے کے قریب پھر دو موٹر سائیکلوں پہ سوار چار حملہ آوروں نے شہر کے وسط میں واقع محلہ شاہین میں فائرنگ کر کے امام بار گاہ کے متولی مطیع اللہ عرف موتی کو مار ڈالا،ہسپتال کی ایمرجنسی میں دونوں کی نعشیں اکٹھی پہنچیں تو وہاں مقتولین کے حامیوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی ،تاہم پولیس نے مداخلت کر کے صورت حال کو سنبھال لیا،شاہین محلہ میں متولی کی ٹارگٹ کلنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اسکی تدفین سے قبل ہی سوشل میڈیا میں وائرل ہو گئی، جس میں چاروں ملزمان کے چہروں کی شناخت واضح تھی،پولیس افسران دعوی کرتے ہیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چار میں سے تین دہشتگردوں کی شناخت کر لی گئی،جن میں مبینہ طور پہ لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے بدنام ٹارگٹ کلر حاجی الیاس کے علاوہ یاسر الیاس اور وقاص شیخ شامل ہیں ،لیکن معتبر ذرائع ان دعووں کی تصدیق نہیں کرتے،صرف ایک دن کے وقفہ کے بعد اتوار کی سہ پہر موٹر سائیکل پر سوار دو دہشتگردوں نے یونیورسٹی تھانہ کے ہیڈ کانسٹیبل ویت اللہ کو سر میں گولیاں مار کے اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ چھٹی گزارنے آبائی گاؤں روڑی آئے ہوئے تھے،نئے سال کے ایک ماہ چار دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کی یہ چوتھی واردات تھی جس میں تین شہریوں کے علاوہ ایک پولیس افسیر جان گنوا بیٹھا،اس سے قبل بیس جنوری کو عیدگاہ کلاں کے قریب انیس سالہ حسن علی کو دہشتگردوں نے سر میں گولیاں مار کے ابدی نیند سلا دیا تھا۔

سخت ترین حفاظتی انتظامات اور قدم قدم پر پولیس ناکوں کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کی چار مہیب وارداتوں نے شہرکو خوف و بے یقینی کی وادی میں دھکیل دیا، پولیس نے حسب معمول ہائی الرٹ جاری کر کے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیئے،جس سے اجتماعی حیات سسک کے رہ گئی،گزرے ہوئے عشرہ محرم سے ایک ماہ قبل قدیم شہر کے دس دروازوں کے علاوہ شہر میں داخل ہونے والی سترہ گزر گاہوں پر پولیس کی جو چیک پوسٹیں قائم ہوئی تھیں وہ اب بھی ہمہ وقت فعال ہیں،جہاں آنے جانے والے ہر شخص کو اپنی شناخت کرانا پڑتی ہے،سرکلر روڈ سمیت ضلع بھر کی شاہراوں پر چوبیس گھنٹے پولیس موبائلیں اور کیو آر ایف مسلسل محو خرام رہتی ہیں،چار ماہ تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری بند رہی،پچھلے ماہ عید گاہ کلاں کے قریب اٹھارہ سالہ نوجوان حسن علی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد پولیس نے اس گنجان آباد علاقہ کی مرکزی گزر گاہ پہ مستقل ناکہ لگا لیا ،تاہم اس سب کے باوجود دہشت گردی کے آشوب پر قابو پانا ممکن ہوا نہ شہریوں کو احساس تحفظ مل سکا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پچھلے سال یہاں دہشت گردی کی 21 وارداتوں میں 10 پولیس اہلکاروں کے علاوہ 15 شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اب نئے سال کے پہلے مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کی چار وارداتوں میں پولیس اہلکار سمیت چار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، لیکن سوائے ناقابل برداشت حفاظتی انتظامات کے پولیس اور کچھ نہیں کر سکی،جس سے ایک طرف قومی خزانہ پر لاکھوں روپے ماہوار کا بوجھ پڑا تو دوسری جانب شہری بھی حفا ظتی اقدامات کے ہاتھوں نالاں ہو گئے ہیں،دن رات چیکنگ شہریوں میں خوف و بے یقینی کے احساس کو مزید گہرا کر رہی ہے اور سخت سیکیورٹی انتظامات شہری آزادیوں کی تحدید کے علاوہ بنیادی حقوق کی پامالی کاسبب بنتے ہیں،ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایسی تحریریں پوسٹ ہونے لگی ہیں،جن میں پولیس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ’’سپاہ کے کڑے پہروں میں شہریوں کے ہاتھ پاوں باندھ کے موت کے حوالے کرنے کی بجائے فورسز ہٹا کے انہیں آزادی سے مرنے کی مہلت دی جائے‘‘۔بیشک اس نظم

و ضبط کا بیشتر حصہ،جو انسانیت پر حاوی ہے،قانون کا رہین منت نہیں،بلکہ اس کا سرچشمہ زندگی کے اجتماعی اصول اور انسان کی فطرت ہے ،صرف قانون کی لاٹھی سے سوسائٹی کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش،معاشرہ کی نازک انگلیوں کو کچل ڈالے گی۔ہمارے ارباب اختیار کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ دہشتگردوں کی طرف سے شہریوں کو بلا تفریق قتل کرنے کا مقصد سماجی حیات کا پیہہ جام رکھنا ہوتا ہے، بدقسمتی سے ٹارگٹ کلنگ کی ہر واردات کے بعد ہمارے صاحبان بست و کشاد کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں اور وہ بدحواسی میں اندھا دھند حفاظتی انتظامات کر کے پوری معاشرتی زندگی کو مفلوج کر دیتے ہیں،گویا،دہشتگرد تشدد کے ذریعے جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں پولیس حفاظتی


انتظامات میں شدت پیدا کر کے لاشعوری طور پہ ان مقاصد کی تکمیل کر دیتی ہے۔افسوس کہ گزشتہ بیس سالوں میں پولیس کمانڈ نے اپنے تجربات سے سیکھ کر دہشت گردی اور تشدد کو روکنے کا کوئی فول پروف میکنانزم تشکیل دینے کی بجائے اپنا پورا فوکس، زیادہ سے زیادہ اختیارات و مراعات کے حصول پر مرتکز رکھا،جس میں بہرحال وہ کامیاب ہوئے، اس وقت خیبر پختون خوا پولیس کو لامحدود اختیارات اور غیر معمولی مراعات میسر ہیں، لیکن ان میں دہشت گردی اور جرائم کو روکنے کی مہارت مسلسل کم ہو رہی ہے،صوبہ بھر میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے علاوہ سماجی جرائم کی شرح تیزی سے بڑھی،جس نے پولیس کی افادیت بارے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے مگر افسوس کہ پولیس کی قیادت شہریوں کو مطمئن کرنے کی بجائے زندہ حقائق سے انکار پر اتر آئی ہے،جس کی نمایاں مثالیں گرہ مٹ میں شریفان بی بی کو برہنہ پریڈ کرانے جیسے انسانیت سوز واقع اور مردان کی چار سالہ اسما کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کی تردید کے علاوہ کوہاٹ میں میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کے بہیمانہ قتل کو وقت کی گرد میں دفن کرنے کی شعوری کوشش میں ملتی ہیں۔

بلاشبہ پولیس نے خود مختاری کے شوق میں مطلق العنانی کی جس راہ کا انتخاب کیا وہ اسے بندگلی تک لے آئی، جہاں پولیس جیسی کرائم فائٹنگ فورس معاشرے اور ریاستی ڈھانچہ سے الگ تھلگ ، تنہا ہوتی نظر آتی ہے،اب وہ اجتماعی سرکاری نظام کی معاونت سے بے نیاز اور اپنے ڈیٹرنٹ سے محروم ہونے والی ہے،ماضی میں جب تک پولیس کو مجسٹریسی سسٹم اور سول بیوروکریسی کا کور میسر رہا اس وقت تک پولیس کا ڈیٹرنٹ توانا اور اسکی ادارہ جاتی حیثیت زیادہ منظم تھی۔

اب اسے اخلاقی حمایت کے لئے پی ٹی آئی کی قیادت اور سیاسی کارکنوں کی حمایت کی ضرورت پڑتی ہے جو بجائے خود کسی سرکاری ادارے کی ساکھ کے لئے تباہ کن اثرات کی حامل ثابت ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -