سردار دریشک کا شہباز شریف کو خط، پی اے سی اجلاس میں دلچسپ صورتحال

سردار دریشک کا شہباز شریف کو خط، پی اے سی اجلاس میں دلچسپ صورتحال

  

اسلام آباد (این این آئی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن سر دار نصر اللہ دریشک نے شہباز شریف کو خط لکھا ہے کہ آپ ایف آ ئی اے کو مطلوب ہیں اجلاس کی صدارت نہ کریں جس پر کمیٹی کے چیئر مین شہباز شریف نے جواب دیا ہے میرا کیس ایف آئی اے نہیں نیب کے پاس ہے ،ایف آئی اے کی جانب سے مجھے کوئی سمن نہیں ملا ، آپ کے لیڈرعمران خان نے ملتان میٹرو کے حوالے سے الزام لگایا جس کا جواب فلور آف ہاؤس پر دے چکا ہوں ،عمران خان نے میرے خلاف ایک ٹیم چین بھیجی لیکن ان کو کچھ نہیں ملا جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے اراکین شہباز شریف کے معاملے پر ایک پیج پر آگئے اور شہباز شریف کو اجلاس کی صدارت جاری رکھنے کا کہہ دیا ۔جمعرات کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو شہبازشریف نے بتایا کمیٹی کے رکن سردار نصراللہ دریشک نے خط لکھا ہے آپ ایف آئی اے کو مطلوب ہیں، اجلا س کی صدارت نہ کریں۔شہباز شریف نے استفسار کیا کہ ڈی جی صاحب کیا مجھے ایف آئی اے نے سمن کیا ہے جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا نہیں، اس موقع پر اراکین کمیٹی نے ہنستے ہوئے شہباز شریف کو اجلاس جاری رکھنے کا کہا ، سر دار نصر اللہ دریشک نے کہا آ پ اورنج ٹرین میں مطلوب ہیں ۔شہبازشریف نے کہا میں اورنج ٹرین اور میٹرو کیس میں ملزم نہیں،نصر اللہ دریشک نے کہااخلاقی طور پر آپ کو کمیٹی کی صدارت نہیں کرنی چاہیے ۔شہباز شریف نے کہا آپ کے لیڈرعمران خان نے ملتان میٹرو کے حوالے سے الزام لگایا جس کا جواب فلور آف ہاؤس پر دے چکا ہوں ۔اگر مجھے ذرا سا بھی شبہ ہوتا تو میں اس اجلاس کی صدارت نہ کرتا ۔ مسلم لیگ (ن)کے رکن رانا تنو یر حسین نے کہا اگر براہ راست کسی پیرے میں کسی کا نام ہو پھر تو اٹھ جانا چاہیے لیکن یہاں ایسی کوئی بات نہیں ۔لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہاکمیٹی کے اجلاس میں پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے ۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا اگر سردار صاحب کی بات مان لی جائے تو پھر کئی ممبران کو اجلاس سے اٹھنا پڑیگا، کوئی ایسا طریقہ کار بنا لیں کہ کمیٹی کو کیسے چلانا ہے؟۔رانا تنویر حسین نے کہا کسی حکومتی منصوبے پر تحقیقا ت ہوں تو کیا وزیراعظم کام کرنا چھوڑ دے؟۔ عمران خان کیخلاف نیب کیس چلا رہا ہے مگر پھر بھی چیئرمین نیب سے ملاقات کی۔تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہامیرے خیال میں جس کے بھی دور حکومت کے پیرے ہوں اس سے حکومت سے متعلق کسی بھی رکن کو کمیٹی میں نہیں بیٹھنا چاہیے ۔خواجہ آصف نے کہا ہم نے جنرل پرویز مشرف کے دور کے پیرے بھی دیکھے لیکن ایسی صورتحال نہیں دیکھی ۔شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئر مین بنانے پر اجلاس کے دور ان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اراکین ایک پیج پر آگئے اس موقع پر مسلم لیگ (ن ) ا و ر پیپلز پارٹی کے اراکین سینیٹر شبلی فراز کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ شہباز شریف نے کہاماضی میں کیا ہوا پتہ ہونا چاہیے ؟جس پر حنا ربانی کھر نے شبلی فراز کو جواب دیا ہمیں اس کمیٹی اور اراکین کو عزت دینا ہوگی ۔ لیگی رکن شیخ روحیل اصغر نے کہااراکین کیساتھ ایک الگ اجلاس رکھ لیں ، خبر بنانے کیلئے ایسی باتیں کی جاتی ہیں ۔

دریشک خط

مزید :

پشاورصفحہ آخر -