سپریم کورٹ کا سنگِ میل فیصلہ

سپریم کورٹ کا سنگِ میل فیصلہ

  

سپریم کورٹ نے سیاسی جماعت کی تشکیل اور احتجاج کے حق کو آئینی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملک میں انتشار اور ملکی سالمیت کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، احتجاج کے حق سے دوسروں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں، جائز مطالبات کے لئے اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق آئینی و قانونی قدغنوں سے مشروط ہے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے2017ء کے فیض آباد دھرنے سے متعلق43صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت قانون پر عمل نہیں کرتی تو اس صورت میں الیکشن کمیشن کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، قانون کا اطلاق ہر ایک پر یکساں ہوتا ہے اور اُن پر بھی جو حکومت میں شامل ہوتے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جو کسی دوسرے کے خلاف فتویٰ دیتا ہے،جس سے کسی کو نقصان پہنچے یا اس کی راہ میں رکاوٹ آئے اس کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ1997ء یا پریونیش آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے حلف کے سابقہ الفاظ کی بحالی اور غلطی درست کرنے کے باوجود تحریک لبیک نے دھرنا جاری رکھا، اس دھرنے سے جڑواں شہر مفلوج ہو گئے اور سپریم کورٹ سمیت تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا کام متاثر ہوا، جبکہ دھرنے کے دوران گالیاں اور دھمکیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں،دھرنا قائدین نے دھمکیوں اور گالیوں کے ساتھ نفرت پھیلائی، ہر حکومت مخالف دھرنے کا حصہ بن گیا۔

2017ء میں فیض آباد میں دیئے جانے والے دالے دھرنے سے نہ صرف ملکی معیشت اور املاک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا،بلکہ جب پولیس نے دھرنے کے شرکاء کے خلاف کارروائی شروع کی تو جوابی کارروائیوں سے بڑی تعداد میں پولیس والے زخمی ہو گئے، جن میں بعض کے بارے میں ایسی اطلاعات بھی اُن دِنوں آتی رہیں کہ اُن کے زخم ایسے ہیں کہ وہ عمر بھر کے لئے مفلوج یا اپاہج ہو سکتے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء نے پولیس پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے، جو کھلی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتے،اِس لئے یہ سوال بھی اُٹھ کھڑا ہوا تھا کہ دھرنے کے شرکا کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے،جس سے منسلک یہ سوال بھی اہم تھا کہ دھرنے والے ہر قسم کی تیاری کر کے بیٹھے تھے، اِسی لئے تو انہوں نے آنسو گیس کے شیل بھی ذخیرہ کر رکھے تھے اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ شرکاء دھرنے کو پُرامن رکھنے پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اگر کوئی اُن کے ارادوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا تو انہوں نے اس کے خلاف آنسو گیس کے شیل پھینکنے کی بھی تیاری کر رکھی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں احتجاج کے پُرامن حق کو تو تسلیم کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے اجتماع کی آزادی کا حق بھی ہے تاہم اگر ایسا کوئی اجتماع یا احتجاج دوسروں کے حقوق کو متاثر کرتا ہے تو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام آباد میں دھرنا کلچر متعارف کرائے جانے کے بعد سے یہ معمول بن گیا کہ چند درجن یا چند سو لوگوں نے اکٹھے ہو کر کسی ایسے مقام پر ٹریفک بند کر دی، جہاں سے ایک منٹ میں سینکڑوں گاڑیاں گزرتی تھیں۔ یوں لاکھوں لوگوں کو مشکلات سے دوچار کیا گیا، کسی بھی احتجاج کا حق اُس وقت تک ہی قانونی کہلا سکتا ہے جب تک وہ دوسرے شہریوں کے نقل و حرکت کے حق کو متاثر نہیں کرتا،لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں دن دیہاڑے کسی معروف سڑک پر اس انداز میں کرسیاں بچھا کر جلسہ شروع کر دیتی ہیں کہ راہ گیروں کے لئے پیدل گزرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، ایسے جلسوں سے نامور مقررین خطاب کرتے ہیں،انہیں بھی ایک لمحے کے لئے خیال نہیں آتا کہ جس جلسے سے وہ خطاب کر رہے ہیں اس کی باقاعدہ اجازت بھی نہیں لی گئی اور زور زبردستی کر کے یا ہجوم کی قوت کے ذریعے جلسے کا اہتمام کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں گریٹر اقبال پارک جب سے بنا ہے،اِس میں جلسے کے انعقاد کی گنجائش نہیں رہی اور انتظامیہ نے یہاں جلسوں کی ممانعت کر رکھی ہے،لیکن بہت سی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اصرار ہوتا ہے کہ وہ اسی جگہ جلسہ کریں گی۔جلسے کے انعقاد کی صورت میں پھولوں کی کیاریوں، روشوں اور پودوں کو نقصان پہنچتا ہے،لیکن اس کی کسی کو پروا نہیں ہوتی، جلسہ کرنے والے اپنا کام کر کے چلے جاتے ہیں اور انتظامیہ بعد میں نقصان پورا کرنے کے لئے اُنہیں بل بھیجتی رہتی ہے۔ معلوم نہیں کبھی کسی نے بل ادا کیا یا نہیں،لیکن بہتر تو یہی ہے کہ جلسوں کے منتظمین اس کے لئے کوئی ایسا مقام منتخب کریں جہاں جلسے کی صورت میں دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

لاہور کی شاہراہِ قائداعظم پر ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر قانوناً پابندی ہے،لیکن اس سڑک پر بھی ہر دوسرے چوتھے روز کوئی نہ کوئی پریشرگروپ سڑک کے عین درمیان چند رکاوٹیں کھڑی کر کے یا ٹریفک روک کر پورے شہر کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے،کیونکہ جب رکاوٹوں کی وجہ سے شاہراہِ قائداعظم کی ٹریفک دوسری سڑکوں کی طرف موڑی کی جاتی ہے تو اُن پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور جگہ جگہ ٹریفک جام ہو جاتی ہے اور چند منٹ کا سفرگھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا، اس ہجوم میں ایمبولینسیں بھی پھنس جاتی ہیں، جن میں بعض اوقات مریضوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے،لیکن بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اس احتجاج کو روکنے کی کوئی کامیاب کوشش کی ہو، نتیجہ یہ ہے کہ دیکھا دیکھی ہر کوئی یہاں اپنے احتجاج کا ’’ حق‘‘ استعمال کرنے کے لئے پہنچ جاتا ہے اور یوں دوسروں کی حق تلفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے کی روشنی میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ انتظامیہ ایسے مظاہروں،احتجاجوں اور دھرنوں سے نپٹنے کے ئے کوئی سٹینڈرڈ طریقِ کار طے کرے اور جو لوگ اور تنظیمیں اکثر و بیشتر ایسے احتجاجات منعقد کرنے کے لئے معلوم و معروف ہیں اُن سے رابطہ کر کے کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جائے کہ احتجاج سے دوسرے شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب سے دھرنا کلچر متعارف ہوا ہے، سڑکیں اور شہر بند کرنے کو اپنا حق سمجھ لیا گیا ہے اور بعض سیاسی رہنما تو کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وہ دارالحکومت بند کر دیں گے،لیکن اُن کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا، ہمارے خیال میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مظاہروں اور دھرنوں کے سلسلے میں ایک سنگِ میل فیصلے کی حیثیت رکھتا ہے جو بہت سے رہنما اصول بھی متعین کر دیتا ہے اور احتجاج کرنے والے اگر اس پر عمل کریں تو شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہوسکتا ہے۔ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہئے اور ریاستی اداروں کو باہمی ربط ضبط کے ساتھ کسی بھی مظاہرے یا دھرنے سے نپٹنے کے لئے قابلِ عمل پالیسی بنانی چاہئے اور اداروں کے درمیان کوئی ایسے خلا نظر نہیں آنے چاہئیں،جو کسی مظاہرے سے نپٹنے میں رکاوٹ بنتے ہوں، منافرت پھیلانے اور تشدد آمیز الفاظ کے استعمال کی شہرت رکھنے والے سیاست دانوں کو خصوصی طور اس فیصلے کا مطالعہ کرنا چاہئے شاید اُن کے دِل پرکوئی دلیل اثر کر جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -