یہ دستور زباں بندی

یہ دستور زباں بندی
یہ دستور زباں بندی

  

سنا ہے ایک دانشور جو مہذب اور شائستہ انداز میں اپنے حکمرانوں کے طرز حکمرانی پر سوال اٹھاتا تھا. وہ اپنے عوام کے حقوق, اظہار رائے کی آزادی اور حقوق نسواں کی بات کرتا تھا. سنا ہے یہ باتیں اس کے حکمران کو سخت ناگوار گزرتی تھیں. اتنی ناگوار کہ سوال اٹھانے والے ہاتھ کٹوا ڈالے. اور سوال اٹھانے والی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کردی سنا ہے اور بھی بہت سے دیسوں میں سوال اٹھانے والے ناصرف اٹھا لیے جاتے ہیں بلکہ اکثر جان سے جاتے ہیں سوال کب باغی ہوتے ہیں؟ سوال تو ہمارے دوست ہیں.

سوال نئی راہیں تلاش کرنے اور اپنی منزلوں کو پانے , نئے زاویے سے دیکھنے اور نئی جہتیں کھولتے میں ہمارے رہبر و رہنما ہیں. سوال طاقتور کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور کمزور کی طاقت بن کر اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سوال سیکھنے اورسکھانے ،سمجھنے اور سمجھانے کا وسیلہ ہے جن معاشروں میں سوال کرنے کی آزادی ہے ان معاشروں کو جواب اور عذر تلاش نہیں کرنا پڑتے. وہاں سب بے خوف و خطر اور آزادی سے اپنی راہیں متعین کرتے ہیں اور کامیابی سے اپنی منزلیں پالیتے ہیں. سوال نہ صرف بنیادی انسانی حق ہے بلکہ انسانی شخصیت اور معاشرے کی مساوات پر مبنی تعمیر احسن کی بنیاد فراہم کرتا ہے.

سوال کی بنیاد بچپن میں اور اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے۔جب ایک بچہ ماں باپ سے سوال کرتا ہے تو ان کا جواب بچے کی شخصیت پر گہری چھاپ چھوڑتا ہے. معیاری اور سچ پر مبنی جوابات مثبت اور متوازی, سچی اور کھری, خوف خدا اور احسن ایمان کی حامل شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔اسی طرح جب طالب علم اپنے استاد سے سوال کرتا ہے تو طالب علم کا مطمح نظر استاد کے علم کو جانچنا نہیں بلکہ استاد کے علم سے استفادہ کرنا ہوتا ہے. اس کا مطمح نظر کلاس میں خلل ڈالنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے علم کی پیاس بجھانا ہوتا ہے۔

اگر معلم طالب علم کے سوال کو اہمیت دیتا ہے اور اس تشنگی کو سمجھتا ہے تو اس کا جواب طالب علم کے لئے نئے افق کھولتا ہے جو اسے بلندیوں تک لے جاتے ہیں. ایسے استاد اپنے ہونہار طالب علموں کے نا صرف دل میں بستے ہیں بلکہ زندگی کے سفر میں ان کے رہبرورہنما ٹھہرتے ہیں۔ ایسے تمام قابل احترام اساتذہ جو اپنے ہونہار طالب علموں کو نہ صرف سوال کرنے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں بلکہ سوال کرنا انکی عادت بنا دیتے ہیں قوم کے معمار اور محسن ہیں کیوں کہ انہوں نے ایسے آزاد اور خود مختار معاشرے کی تشکیل دی جو ہر قسم کے جبر اور استحصال کے سامنے نہ صرف ڈٹ کر کھڑا ہوا بلکہ ظلم اور غلامی کے ہر ضابطے کو توڑ ڈالا. یوں ہی نہیں کہا جاتا استاد معاشرے کی تعمیر و تشکیل کرتے ہیں۔ سوال اور اس کی تمام جہتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے. اگر آپ ایک سوال معاشرے کے مختلف طبقوں سے کریں تو عین ممکن ہے ان کے جواب آپکو اپنی ڈائیورسٹی سے حیران کردیں. ممکن ہے ایک سوال کے سو جواب ہوں اورسب کے سب درست ہوں۔

سوال اگر ملک و ملت کی تعمیر اور ترقی کا ہو اور یہی سوال اگر طالب علم سے کیا جائے تو جواب بہتر اساتذہ, اچھا نصاب, معیاری درسگاہیں, انٹرنیشنل لیول کی ریسرچ لیب اور لائبریریز قرار پائیں گی. یہ وہ راستہ ہے جس پر عمل کرکے سنگاپور , یورپ امریکہ چین اور ملائیشیا نے نہ صرف ترقی کی ہے اور اپنے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے بلکہ دنیاکی راہنما قومیں ٹھہری ہیں. ان قوموں نے ثابت کیا ہے کہ صرف معیاری تعلیم ہی آگے بڑھنے کا آزمودہ اور کامیاب ترین نسخہ ہے۔

سوال اگر کسی معلم یونیورسٹی سے کیا جائے تو جواب یہی ہوگا کہ اگر بنیادی سہولتیں اور معیاری درسگاہیں فراہم کی جائیں تو وہ ایسے ان گنت ہیرے تراش کر قوم ملت کے دامن کو مالا مال کر سکتا ہے جو اس قوم کو نہ صرف ترقی کی معراج تک پہنچا دیں بلکہ قوم و ملت کا نام دنیا بھر میں روشن کریں۔ سوال اگر کسی چوکی پہ کھڑے پولیس والے سے پوچھا جائے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے تو جواب یہ ٹھہرے کہ آگے بڑھنے کا راستہ صرف یہ ہے کہ ملک میں امن امان ہو اور تمام دہشت گرد اور مجرموں کو پابند سلاسل کیا جائے.

تاکہ امن قائم ہو. اور صرف امن ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ سوال اگرکسی سرحد پہ سرحدی محافظ سے کیا جائے تو جواب یہ ٹھہرے کہ اگر سرحد محفوظ ہو تو قوم پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا پورا دھیان اپنی تعمیر و ترقی پر دے کر آگے بڑھ سکتی ہے. جو سرحدوں کی حفاظت کیلئے نہ صرف ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں بلکہ وقت آنے پر اپنی قوم و ملت کی آبرو کے لیے جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

یہی سوال اگرکسی ہاری سے کیا جائے تو جواب پانی, بجلی معیاری بیج, کھادوں اور کرم کش ادویات کی دستیابی ٹھہرے گا. اگر ہاری کو یہی سہولتیں بروقت اور کم نرخوں پر فراہم کی جائیں تو زمین ایسا سونا اگلے کہ ناصرف ملکی اجناس کی تمام ضروریات کو پورا کریں بلکہ اسے بیرون ملک برآمد کر کے زرمبادلہ کما سکیں۔ یہی سوال اگرکسی تاجر یا صنعتکار سے کیا جائے تو جواب بجلی اور گیس کی مناسب قیمتوں پر بلاتعطل فراہمی, اور سرخ فیتے سے نجات ٹھہرے گا.

مناسب نرخوں پر بجلی اور گیس اگر فراہم کر دی جائے اور ساتھ میں افسر شاہی کی غیرضروری مداخلت کم کر دی جائے تو انیس سو ساٹھ کی دہائی سے بڑا صنعتی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ یہی سوال اگر کسی صحافی سے پوچھا جائے تو جواب ٹھہرے گا اظہار رائے کی آزادی ہو اورہرشخص جواب دہ ہو۔اگر یہی سوال کسی وکیل یا قانون دان سے کیا جائے تو آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہوگا کہ قانون کا احترام کیا جائے. قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔

اگر یہ سوال کسی سیاستدان سے کیا جائے تو جواب یہ ٹھہرے گا ملک میں جمہوریت ہو اور وہ اور جو عوامی نمائندے جمہوری طریقے سے آتے ہیں اور جنہیں عوام اپنا منتخب نمائندہ بنا کر بھیجتے ہیں انہیں اقتدار ملنا چاہیے.

انہیں عوام کیلئے قانون سازی اور فیصلوں کا پورا پورا حق ہونا چاہیے اور عوام کی خدمت کرنے کے لیے پوری مدت کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے. تاکہ الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ سکیں. اور اپنے نمائندے چُننے کا حق صرف پاکستان کے عوام کو ہونا چاہیے تاکہ عوام کے حقیقی نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچ کر ان کی خدمت کر سکیں۔

سوال تو ایک ہی ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے ترقی کیسے کرنی ہے. جوابات کہنے کو تو بہت مختلف ہیں مگر ایک سے ہیں اور درست ہیں. کیونکہ جب ملک نے آگے بڑھنا ہے تو کسی ایک شعبے, کسی ایک شخص کے آگے بڑھنے سے نہیں کی بلکہ قوم کے تمام طبقوں اور خاص و عام کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا اور یہی راستہ ہے آگے بڑھنے کا۔

مزید :

رائے -کالم -