ایک کھلا خط

ایک کھلا خط
ایک کھلا خط

  

میرا یہ کھلا خط وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے امورِ سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری کے نام ہے کہ اب وہ پردیس میں مصروفِ کاراپنے ہم وطنوں کے مسائل سے نبرد آزما ہوں گے۔ جنابِ زلفی بخاری! وزیراعظم عمران خان اور امیر قطر تمیم بن حمد الثانی کے مابین مذاکرات میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ قطر ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرے گا۔ بڑا بروقت اور درست فیصلہ ہے۔

2022ء میں قطر فٹ بال کے عالمی کپ ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ سٹیڈیم اور کھیل کے میدان تعمیرکرنے کے لئے اسے فرض شناس اور جفا کش افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے اور پاکستانی مزدور سے زیادہ سخت جان اور ایماندار کرۂ ارض پر موجود نہیں۔ یہ ہم وطن پردیسی ہو کر وطنِ عزیز کے خزانے میں ہر سال کم از کم3کروڑ ڈالر سالانہ کا اضافہ کرتے رہیں گے، لیکن ایک بات، نہ آپ کو اور نہ وزیراعظم کو ان جان گسل حالات کا اندازہ ہے، جن سے یہ بے صدا تارکینِ وطن نبرد آزما ہوتے ہیں۔

1973ء میں جب اوپیک نے مغرب کو ارسال کئے جانے والے تیل کے اپنے سوتے بند کیے تو نیو یارک، لندن اور پیرس کی صنعتوں پر موت کا سکوت طاری ہو گیا۔ تب خلیجی ممالک پر یہ منکشف ہوا کہ ترقی یافتہ ممالک کی اقتصاد کی روح تیل کے طوطے میں تھی اور وہ صرف خلیجی ممالک کے پنجرے میں بند تھا۔ سیال سونے کے نرخ بڑھے اور خلیج کے اطراف تعمیر کا آغاز ہوا۔ تب70ء کی دہائی کے وسط میں پاکستانی محنت کش رختِ سفر باندھے ان صحراؤں میں آن اُترے۔ ہر سُو تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے اور صحرا کی رات کی تاریکیاں جگمگاہٹ میں ڈھل گئیں۔ اُفق پر سارسوں کی طرح مشینیں سر اُٹھانے لگیں،دن اور رات کا شور جب سکوت میں اُترتا تو ایک حسین عمارت وجود میں آ چکی ہوتی۔

جنابِ ذوالفقار بخاری! دوسری عالمی جنگ میں خس و خاشاک کئے گئے جاپان اور جرمنی نے بھی اُٹھتے وقت اتنی تیزی سے اپنی تجسیم نہیں کی تھی جتنی سرعت سے خلیجی صحرا موتیوں میں تبدیل ہوا اور اس کی کرشمۂ تعمیر کی تشکیل کرنے والا کوئی اور نہیں، صرف پاکستانی تھا۔ اُس وقت کسی قوم کی یہاں موجودگی نہیں تھی۔

صحرا کے ذروں کو درخشندگی بخشنے والوں میں نہ کوئی ہندوستانی تھا اور نہ بنگلہ دیشی، نہ کوئی لبنانی سنگ و خشت سے اُلجھتا تھا اور نہ کوئی مصری، 50درجے سنٹی گریڈ سے اوپر کے درجہ حرارت میں دھوپ میں پتھر اٹھائے منزلوں پر منزلیں بلند کرتا، صرف پاکستانی مزدور تھا جو ان صحرائی ریاستوں کو اپنا گھر سمجھ کر ان کی دِل و جان سے تعمیر کر رہا تھا۔اپنے مبارک گمان میں وہ یوں اپنے لئے بخشش کا سامان کر رہا تھا! اور جنابِ ذوالفقار بخاری! جب دن کا جلتا سورج مغرب کی آغوش میں پناہ لیتا تو اس تھکن سے نڈھال بدن پسینے سے تر لباس میں اپنا آپ لپیٹے واپس ہوتا۔ شب بسری کے لئے اپنے چند ساتھیوں کی شراکت میں کرائے پر لئے گئے ڈیرے پر پہنچنے سے پہلے قریبی تندور پر صف میں لگ کر روٹی خریدتا۔

نانِ جویں سنہری نیند کا سندیسہ لاتی اور دن بھر کی تکان زمین پر ہی پڑے بدن کو اپنے پیاروں کے خواب جا دکھاتی اگلی صبح کا عذاب جھیلنے کے لئے۔جب اختتامِ مہینہ پر اُسے مشاہرہ ملتا تو ڈیرے پر جانے سے پہلے وہ قریبی ترسیلِ زر کرنے والی کسی کمپنی سے وطنِ عزیز میں اپنے پیاروں کو رقم ارسال کر دیتا۔ اپنے لئے صرف اتنا پس انداز کرتا،جس سے اُس کا مہینے کا خورو نوش ہو سکے۔ ہر برس کے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو اس کے احباب منظر ہو جاتے اور انہیں گھر بیٹھے باقاعدگی سے نان و نفقہ اور دیگر لوازمات کے لئے رقم ارسال کی جاتی۔

ان کا ارسال کیا گیا زرِمبادلہ بڑی خاموشی سے حکومتی ذخائر میں اضافہ کرتا رہتا۔ ایک انتہائی محب وطن جفا کش بدن ہر ماہ کی یکم کو گزشتہ کئی برسوں سے بڑی معصومیت سے خلیجِ عرب کی ریاستوں سے اپنے وطنِ عزیز کی اقتصاد میں حصہ ڈال رہا ہے۔ دس، پندرہ، بیس، چالیس برس تک یہ مشین اپنے مُلک کے اقتصادی اشاریوں کو بلند رکھتی رہی ہے اور پھر اب اختتامِ کار پر اکثریت وطن کو لوٹ رہی ہے، جہاں نئے مسائل، نئے عذاب اس کے منتظر ہیں۔

جناب ذوالفقار بخاریٖ آپ دہری شہریت رکھتے ہیں۔ آپ برطانوی بھی ہیں۔

60ء کی دہائی کے آغاز میں جب منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو صدر محمد ایوب خان کی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں میرپور، ڈڈیال اور ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والے دوسرے علاقوں سے آزاد کشمیر کے شہریوں کو سفری دستاویزات جاری کر کے اُنہیں لندن کے لئے بحری جہازوں پر سوار کرا دیا۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچتے ہی جاں گسل مشقت کی اور برطانوی ٹیکسٹائل کی صنعت میں جان ڈالی۔ یہ لوگ برطانوی حکومت کی ضر ورت بن گئے، چنانچہ ہر تارکِ وطن کو پانچ برس کے قیام کے بعد وہاں کی شہریت دے دی گئی۔ پاکستان ان کا دوسرا وطن بن گیا۔

آج یہ اپنے آبائی وطن جاتے ہوئے اکثر اوقات برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔ تیسری نسل اُردو خواندگی اور تحریر سے بے بہرہ ہے۔ امریکہ کو نقل مکانی کرنے والے پاکستانیوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ عدالتوں میں امریکی آئین کی حفاظت کا حلف اُٹھا چکے ہیں۔

عمر رسیدہ پاکستانی اپنے آبائی دیہات کا سوچ کر دِل گرفتہ ہوتے ہیں، نوجوان نسل مائیکل جیکسن کی شیدائی ہے۔ آباؤ اجداد کے آبائی مقام سے اُسے کوئی سروکار نہیں!

تو جنابِ ذوالفقار بخاری! آپ یہ حقیقت جان لیں کہ آج کرہِ ارض پر اگر کوئی مقام ایسا ہے، جہاں کے سو فیصد پاکستانیوں کے لئے صرف ایک ہی مادرِ وطن ہے تو وہ خلیج عرب کا پھیلا دامن ہے۔ سعودی عرب، قطر، امارات، بحرین اور کویت میں مقیم ہمارے تارکینِ وطن کے لئے پہلا مُلک اسلامی جمہوریہ پاکستان! دوسری جگہوں پر مقیم ہمارے ساتھیوں کے لئے پاکستان کی حیثیت ثانوی ہے۔

او پی ایف کے حالیہ اجلاس میں اور آپ کے بیان میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے امور پر زیادہ توجہ دی جائے گی!لیکن میری آپ سے دست بستہ التجا ہے کہ آپ عمران خان صاحب کو اِس بات پر مائل کریں کہ وہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور ہر صوبائی اسمبلی میں ان بے صدا پردیسیوں کے لئے پانچ پانچ، نشستیں مختص کر دیں۔ ٹرمپ ہمیں سالانہ دو ارب ڈالر دے کر سرعام ہمیں دھمکیاں اورگالیاں دیتا پھرتا ہے اور20ارب ڈالر دینے والے یہ غریب الوطن سر جھکائے اپنے وطنِ عزیز کے ہوائی اڈوں پر اُترتے ہیں،امیگریشن اور کسٹم والوں کی گھرکیاں برداشت کرتے ہیں اور گھر پہنچتے ہیں تو روح فرسا خبریں منتظر ہوتی ہیں، ان کی اراضی،گھر پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہوتا ہے، جھگڑے منتظر ہوتے ہیں، سر پھٹول،پولیس،کچہری! یہ تو گھر کے عذاب ہوئے! اور باہر کے بھی ہوتے ہیں۔

زلفی بخاری صاحب! ایک لاکھ افراد قطر ارسال کرنے سے پہلے یہ امر یقینی بنا لیں کہ ان جفاکش انسانوں کو معاہدے کے مطابق مشاہرہ ملتا رہے اور انہیں وہ تمام سہولتیں میسر کی جائیں، جن کا وعدہ کیا گیا ہے اور ہاں! معاہدے کے اختتام پر انہیں نہایت عزت و احترام سے بقایا جات ادا کر کے پاکستان روانہ کیا جائے۔ خلیج میں پاکستانی تارکین کا بے حد احترام کیا جانا چاہئے،کیونکہ اس خطے کی ہر شاہراہ، ہر عمارت کی ہر اینٹ پر صرف پاکستانیوں کی انگلیوں کے نشانات اور ان کے پسینے کی مہک ہے۔

مزید :

رائے -کالم -