رونق بازار، سفید پوش نظر انداز!

رونق بازار، سفید پوش نظر انداز!
رونق بازار، سفید پوش نظر انداز!

  

کیسا ہنگامی دور ہے کسی پل چین نہیں محروم طبقات تو امید بہار بھی نہیں رکھ پا رہے کہ سفید پوشوں کی سفید پوشی بھی جرم بن گئی وہ نہ مانگ سکتے اور نہ لُوٹ سکتے ہیں چنانچہ کڑھتے اور وزن گھٹاتے رہتے ہیں، ایک سنجیدہ سے پڑھے لکھے نے کہا یہ میڈیا والوں کو کیوں علم نہیں؟ کہ اس طبقے کا کیا حال ہے جو کبھی درمیانہ کہلاتا پھر نچلا درمیانہ ہوا اور آج کل غریب ہو گیا ہے۔

وہ نہیں جو لکیر سے نیچے ہیں یہ تو لکیر سے بس آتی سانس تک ہی اوپر رہ گیا ہے۔ میڈیا کے جو حضرات خود اس طبقے میں شمار ہوتے ہیں، وہ کیوں نہیں سوچتے، شاید ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ ان کو روز کسی نئے ایشو کی تلاش ہوتی ہے اور یہ مل بھی جاتا ہے اور پھر اسے اتنے دن ضرور چلایا جاتا ہے کہ ناظرین بھی اکتاہی جائیں۔ آج صبح ٹیلیویژن کھولا تو واقعی گزشتہ روز والا نیا ایشو ہی سامنے تھا نیب نے علیم خان کو گرفتار کر لیا۔

علیم خان نے وزارت سے فوراً استعفیٰ دے دیا پھر اس پر ردعمل اور تبصرے چل رہے تھے۔ دفتر آنے کے لئے نہر والا راستہ اختیار کیا جیل روڈ والے کراسنگ سے قرطبہ چوک کی طرف مڑے۔ ٹریفک معمول پر تھی۔

سروسز ہسپتال تک پہنچے تو ایک اور نظارہ موجود تھا۔ ڈی۔ ایس۔ جی۔ این گاڑیوں کی لمبی قطار تھی یاد آیا سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف سروسز ہسپتال کے وی وی آئی پی روم میں ہیں۔ ان کے امراض کو جانچنے کے لئے ٹیسٹ ہوئے۔

ڈاکٹروں کی رائے ان کو دل کے ہسپتال میں منتقل کرنے کی ہے، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے انکار کیا اور جیل جانے کو تیار ہیں۔ چنانچہ یہ سب گاڑیاں منتظر ہیں کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے وہ ناظرین کو لائیو دکھانا چاہتے ہیں۔

یہ مجموعی صورت حال ہے۔ اس میں تڑکا فرزند راولپنڈی لگاتے اور ہمارے برادرم فواد چودھری رونق لگا دیتے ہیں۔ یوں کام چل ہی رہا ہے کہ عبدالعلیم خان کی گرفتاری اور مستعفی ہونے کی اطلاع مل گئی۔ چلیں جناب! اب تو اسی پر بات ہو گی۔ پنجاب کے سینئر وزیر اور با اعتماد پارٹی لیڈر کی گرفتاری پر بھی ردعمل کئی طرح کا ہے تحریک انصاف والوں نے انصاف کا ترازو پکڑ لیا۔ وہ کہتے ہیں قانون اپنا راستہ لے گا۔

فواد چودھری نے تو فوراً ہی پی اے سی کے چیئرمین محمد شہباز شریف سے کہا کہ وہ بھی کمیٹی کی سربراہی چھوڑیں اور اپنے خلاف مقدمات بھگتیں۔ خود عبدالعلیم خان نے کہا کہ وہ قانون کا راستہ اختیار کریں گے کہ ان پر الزام غلط ہیں۔

نیب کے پاس تفتیش اور تحقیق کے لئے مسلسل پیش ہوتے رہے ہیں۔ اور ہر سوال کے جواب میں مکمل تفصیل مہیا کر دی ہے، اسی سلسلے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے جو حضرات ٹیلیویژن پروگراموں کے لئے مختص ہیں۔ ان کو طوعاً کرعاً ماننا پڑا، وہ کہتے ہیں ، ہم بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہیں۔

اب ذرا سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو سب سے پہلا ردعمل یہ تھا کہ نیب نے دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے اور اب علیم خان مسٹر کلین ہو کر آئیں گے۔ اس حوالے سے مزید بات آگے بڑھائی گئی تو یہ رائے دی گئی کہ محترم کی راہ میں نیب کی تحقیقات حائل تھی۔ اب عثمان بزدار کو سوچ لینا چاہئے کہ کلین چٹ ملتے ہی ان کی کرسی عبدالعلیم خان کے قبضے میں ہو گی۔ تاہم بعض ایسے حضرات بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ پروگرام جو بھی ہو اب پھنسے ہیں تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔

ان کو یہ بھی تو جواب دینا ہوگا کہ اپنی سستی ترین زمین ای او بی آئی کے پاس بہت مہنگے داموں بیچ کر اس وقت ڈھیروں منافع کیسے کما لیا اور اس میں کون کون ملوث تھا؟ لہٰذا یہ تانے بانے بھی کہیں جا کر ملتے ہی ہیں۔ لیکن نیب والے اتنی مشقت کیوں کریں گے؟ ان کا فریضہ تو یہ ہے کہ وہ تفتیش کریں اور بالآخر مسٹر کلین ثابت کر دیں۔

جہاں تک سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کا تعلق ہے تو یہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ وہ معتوب ہی سہی۔ اس ملک کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے۔ سزا ہوئی تو اس کے خلاف اپیل بھی دائر ہے۔ ان کی بیماری پر سیاست نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بالکل درست ہے۔ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ لیکن یہ یکطرفہ ٹریفک نہیں دونوں اطراف سے یہی کچھ کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ نوازشریف کا لندن میں پیچیدہ آپریشن ہوا وہ دو مرتبہ اس پریشانی سے گزرے یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنی اس بیماری کی پرواہ کئے بغیر انتخابی مہم چلاتے رہے۔

جلسے کرتے اور سفر میں رہے اب وہ کہتے ہیں اگر جسم کے اندر دل بڑا ہوا ہے تو میرا پہلے ہی بڑا تھا۔ اگر اس پر سیاست نہ ہو اور ڈاکٹروں کی رائے پر ہی عمل کیا جائے تو علاج یہاں بھی ممکن ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو یہ قبول نہیں وہ اپنے لیڈر کو لندن بھجوانا چاہتے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ جب علاج ملک ہی میں ممکن ہے تو باہر جانے کی کیا ضرورت ہے، سابق وزیر اعظم کو دو مختلف مقدمات میں سزا ہو چکی اور کیا سزا یافتہ فرد لندن جا سکتا ہے؟ بہر حال نوازشریف کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست زیر سماعت ہے۔ اس کے فیصلے پر بھی بہت کچھ منحصر ہے اگر عدالت ضمانت دے دیتی ہے تو پھر اگلا مرحلہ آئے گا کہ لندن جا کر علاج کی اجازت ملتی ہے یا پھر یہیں رہ کر علاج کر دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ بھی ایک آدھ ہفتہ میں ہو جائے گا۔ ان کا نام ای سی ایل میں ہے۔ ضمانت پر رہا ہوئے تب بھی لندن جانے کے لئے ای سی ایل سے نام نکلوانا ہوگا۔

یہاں تو یوسف رضا گیلانی کو ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جانے سے روک دیا گیا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں ہے۔ یہ کالی فہرست (بلیک لسٹ) کیا بلا ہے؟ کہ کسی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کا آنا جانا ممنوع ہے۔ یوسف رضا گیلانی کے مطابق وہ بھاگے تو نہیں جا رہے تھے۔

ان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت تھی اور وہ واپس آنے والے تھے کہ یہاں باقاعدگی سے کیس بھگت رہے ہیں۔ پھر ان کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ ان کا نام ’’کالی فہرست‘‘ میں درج ہے اور وہ ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے۔ یہ عالم ہے۔ ہمارا اور ایشو ہی ایشو رونق کے لئے سب کچھ ہے اور رونق لگی ہوئی ہے عوام کا اللہ حافظ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -