نیب کا رخ تحریک انصاف کی طرف!

نیب کا رخ تحریک انصاف کی طرف!
نیب کا رخ تحریک انصاف کی طرف!

  

میری خواہش ہے وزیر اعظم عمران خان اپنے قریبی ساتھی اور پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر اس قسم کا ردعمل ظاہر نہ کریں جس طرح کا مسلم لیگ (ن) ظاہر کرتی رہی ہے۔ تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے چھ ماہ ہونے کو آئے ہیں اور یہ پہلی گرفتاری ہے جو نیب کے اس ایکٹیو ازم کے تحت ہوئی ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے جاری ہے اور جس کی زد میں شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق و سلمان رفیق بھی آ چکے ہیں۔

تحریک انصاف کو اب بڑے تحمل سے عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے معاملے کو برداشت کرنا چاہئے۔ اگر اس کے رہنماؤں نے ذرا سی بھی بے احتیاطی سے کام لیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ نیب نے دباؤ میں آکر عبدالعلیم خان کو گرفتار کیا ہے تاکہ اپوزیشن کی طرف سے یکطرفہ احتساب کا جو الزام لگ رہا ہے اس کی تلافی کی جا سکے۔ تحریک انصاف کو یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ عبدالعلیم خان کو انکوائری کے لئے بلا کر گرفتار کر لیا گیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے شہباز شریف کو بھی اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا۔ عبدالعلیم خان پر بھی ناجائز اثاثوں اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا الزام ہے، جن کی وہ منی ٹریل نہیں دے سکے۔

تحریک انصاف کو تو ایک طرح سے تقویت ملی ہے، اب وہ کہہ سکتی ہے کہ نیب ہمارے زیر اثر نہیں،بلکہ آزادانہ کام کر رہا ہے۔ اب شہباز شریف اور خواجہ برادران کی گرفتاری بھی سیاسی انتقام کی بجائے صاف و سادہ احتساب کا نتیجہ کہلائے گی۔

رفتہ رفتہ ہم اس منزل تک پہنچ گئے ہیں جو ہمارا دیرینہ مطالبہ تھی کہ احتساب بغیر کسی تعصب، مخالفت اور دباؤ کے ہونا چاہئے۔ ایک عرصے تک ہمارے ہاں یہ تاثر قائم رہا ہے کہ صرف ان کا احتساب ہوتا ہے جو حکومت میں نہیں ہوتے۔ یہ بھی تاریخ کے حقائق ہیں کہ جو اپوزیشن کو چھوڑ کر حکومت کے ساتھ آ ملتا تھا، اس کی فائل بھی بند ہو جاتی تھی۔

اس وجہ سے نیب کے بارے میں یہ کہا گیا وہ سیاسی انتقام کا ایک ادارہ ہے، جس کا کام وفاداریاں تبدیل کرانا اور حکومتِ وقت کا آلہ کار بن کر کام کرنا ہے، موجودہ نیب کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آئے روز یہ کہتی ہیں کہ عمران خان اور نیب میں گٹھ جوڑ ہے، ملی بھگت سے اپوزیشن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مثالیں یہی دی جاتی تھیں کہ تحریک انصاف کی متعدد شخصیات کے خلاف بھی نیب کی انکوائری چل رہی ہے، مگر انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا، ان میں عبدالعلیم خان کا نام سرفہرست تھا۔

دلچسپ بات ہے کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں خود کہا تھا کہ نیب یا تو ان کے خلاف انکوائری ختم کرے یا پھر انہیں گرفتار کر لے۔ نیب نے ان کی دوسری خواہش پوری کر دی ہے۔ اس گرفتاری کے بعد اپوزیشن خاموش ہو کر نہیں بیٹھ جائے گی،بلکہ تحریک انصاف کے ایسے تمام رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کرے گی جن کے خلاف نیب تحقیقات کر رہی ہے۔

عبدالعلیم خان کوئی عام رہنما نہیں، ان کا شمار عمران خان کے قریب ترین ساتھیوں میں ہوتا ہے۔جب انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا مرحلہ آیا تو عبدالعلیم خان اس کے مضبوط امیدوار تھے، مگر جس بات نے عمران خان کو روک دیا، وہ نیب میں ان کے خلاف جاری انکوائری تھی۔ اس زمانے میں بھی عبدالعلیم خان نے یہی کہا تھا کہ انکوائری کا شوشہ اس لئے چھوڑا گیا ہے تاکہ میرا سیاسی کیرئیر داغدار کیا جائے اور وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے مجھے نکال دیا جائے۔ خیر انہوں نے عمران خان کا اس حوالے سے فیصلہ خوشدلی سے قبول کیا، عمران خان نے اس کی تلافی اس طرح کی کہ اُنہیں کابینہ کا سینئر وزیر بنا دیا اور ایک طرح سے ان کی حیثیت وزیر اعلیٰ کے نمبر ٹو جیسی ہو گئی، تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی کہ عمران خان اور عبدالعلیم خان کے درمیان گہری دوستی کا تعلق موجود ہے اور عبدالعلیم خان وزیر اعظم عمران خان سے جو چاہیں کروا سکتے ہیں۔

اب نیب نے اگر وزیر اعظم عمران خان کے اتنے قریبی ساتھی کو دفتر بلا کر گرفتار کر لیا ہے، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ نیب مستقبل میں تحریک انصاف کے ان وزراء پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے جو مختلف انکوائریوں کا حصہ ہیں۔ ان میں وزیر دفاع پرویز خٹک کا نام سرفہرست ہے، اسی طرح خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

نیب نے عبدالعلیم خان کو گرفتار کر کے اپنا یہ تاثر تو بنا لیا ہے کہ اس کی نظر میں کوئی مقدس گائے نہیں اور نہ ہی یہ امتیاز ہے کہ اپوزیشن اور حکومت میں شامل افراد کا احتساب مختلف پیمانوں سے ہوگا، تاہم اب نیب کو یہ تاثر بھی قائم کرنا چاہئے کہ وہ تیزی سے تحقیقات مکمل کر کے چالان بھی احتساب عدالت میں بھیجتا ہے اور اس پر فیصلہ بھی آ جاتا ہے۔ابھی تک تو نیب کا ذکر ایک ایسے ادارے کے طور پر آتا ہے جو گرفتار کرنے اور ریفرنس بھیجنے میں تو ماہر ہے، لیکن اپنے کیس کو عدالت میں ثابت نہیں کر سکتا۔

کئی ہائی پروفائل کیسوں میں تو نیب کا ریفرنس ہی تیار نہیں ہوتا، شہباز شریف کی گرفتاری کو کئی ماہ ہو گئے ہیں ابھی تک ریفرنس کا مرحلہ نہیں آیا۔ خواجہ برادران کب تک نیب کی حراست میں رہیں گے اور تفتیش ہی چلتی رہے گی۔احتساب آرڈیننس میں تو ان مراحل کی واضح مدتیں مقرر کی گئی ہیں،پھر معاملات کو برسوں تک لٹکایا کیوں جاتا ہے؟ اب عبدالعلیم خان کی یہ بات تو درست ہے، ان کے خلاف انکوائری 2015ء میں شروع ہوئی تھی، کئی برس تک نیب صرف اس کیس سے کھیلتا رہا حتیٰ کہ انتخابات بھی ہوئے اور عبدالعلیم خان جیت بھی گئے، لیکن یہ انکوائری چلتی رہی، پھر حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو عبدالعلیم خان کا نام صوبائی وزیر اعلیٰ کے لئے سرفہرست تھا، مگر وہ بیل اس لئے منڈھے نہیں چڑھی کہ نیب میں علیم خان کی طلبیاں بھی جاری تھیں۔ اس مرحلے پر بھی نیب نے کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا۔ عمران خان انہیں کابینہ سے باہر نہیں رکھ سکتے تھے، اس لئے انہیں سینئر وزیر کا قلمدان دے دیا گیا۔ اگر وہ وزیر نہ بنتے تو شاید اپوزیشن کے اتنے بڑے نشانے پر بھی نہ آتے۔ وزیر بننے کے بعد وہ ریڈار پر آ گئے۔ ان کا نام لے کر نیب اور عمران خان پر تنقیدی گولہ باری کی جاتی۔ اب سوال یہ ہے کہ نیب نے اتنا انتظار کیوں کیا؟ اب کون سے نئے شواہد مل گئے ہیں جو پہلے نہیں تھے۔

اب یہ تاثر تو ضرور پیدا ہوگا کہ نیب باآاخر اپوزیشن کے داؤ میں آ گیا اور اس نے عبدالعلیم خان کو گرفتار کر کے معاملات کو متوازن کرنے کی کوشش کی ہے۔ عبدالعلیم خان کی گرفتاری حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان یہ اکثر کہتے ہیں کہ چھ ماہ مکمل ہونے کو آئے ہیں کسی حکومتی شخصیت کا کوئی مالی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، مالی اسکینڈل سامنے آیا یا نہیں؟البتہ ایک صوبائی وزیر کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری ضرور عمل میں آ چکی ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں عبدالعلیم خان کی گرفتاری تحریک انصاف کے حق میں ایک بڑا واقعہ ثابت ہو گی۔ ان کی گرفتاری سے تحریک انصاف کے اس مؤقف کو نئی جان ملی ہے، جو غیر جانبدارانہ احتساب کے حوالے سے عمران خان ہمیشہ بیان کرتے رہے ہیں وہ ریاست مدینہ جس کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے، اسے حقیقی ثابت کرنے کے لئے یہ گرفتاری بھی ایک دلیل کے طور پر استعمال کی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں عبدالعلیم خان کی پارٹی کے لئے یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی۔

وہ حکومت کے لئے سب سے بڑا الزام بھی بنے ہوئے تھے اور اب بے لاگ احتساب کی سب سے مضبوط دلیل بھی وہی ہیں۔ وہ جس اعتماد سے کہتے تھے کہ ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، اب انہیں دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ نیب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ کسی کو گرفتاری کرتا ہے تو اس کے بعد اس کے خلاف ریفرنس ضرور دائر کرتا ہے۔

اس کے پاس اتنے ثبوت موجود ہوتے ہیں، جو ریفرنس دائر کرنے کے لئے کافی ہوں، جس کے بعد وہ گرفتاری کا تردد کرتا ہے۔ گویا عبدالعلیم خان کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہوگا۔ اس کا مطلب ہے اب ان کی بریت احتساب عدالت سے ہی ہو سکے گی۔ یہی کچھ شہباز شریف اور خواجہ برادران کے خلاف بھی ہوگا۔ فرق یہ ہے کہ اب یکطرفہ احتساب کی دہائی دینا مشکل ہو گا۔

نیب اگر عبدالعلیم خان یا تحریک انصاف کے کسی اہم رہنما کو گرفتار نہ کرتا تو مسلم لیگ (ن) کے پاس یہ پروپیگنڈہ کرنے کی پوری گنجائش ہوتی کہ نیب کے ذریعے جھوٹے کیسز بنوا کر حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے، لیکن اب ایسے ہر الزام کا جواب عبدالعلیم خان کی صورت میں تحریک انصاف کے پاس موجود ہے۔ پچھلے دنوں چیئرمین نیب خاصے مضطرب رہے ہیں، انہوں نے کئی فورمز پر اس بات کی وضاحت کی کہ نیب آزادانہ کام کر رہا ہے،ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ گرفتاری کے اختیارات وہ صوابدیدی طور پر کیسے استعمال کر رہے ہیں، اگر انکوائریوں کے دوران شہباز شریف اور خواجہ برادران کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو پھر باقی سیاسی لوگوں کو جن کا تعلق حکومتی جماعت سے بھی ہے، گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا عبدالعلیم خان کی گرفتاری کا سبب یہی ہے کہ نیب اعتراضات و الزامات کے غبارے سے ہوا نکالنا چاہتا ہے؟ اس کا جواب فی الوقت تو دینا ممکن نہیں،البتہ عبدالعلیم خان کے خلاف ریفرنس کا مرحلہ کتنی جلد آتا ہے، اس سے اندازہ ہو سکے گا۔

اب یہ بھی اتفاق ہے کہ کچھ دن پہلے ہی پنجاب اسمبلی میں پروڈکشن آرڈر کا قانون پاس کیا گیا ہے، جس کا فائدہ اب سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو بھی حاصل ہو گا، اور وہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر شہباز شریف کی طرح دھواں دھار تقریر کر سکیں گے۔ پھر شاید پی ٹی آئی والوں کے لئے یہ کہنا مشکل ہو جائے کہ ایک شخص جو نیب کی حراست میں ہے،وہ پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی میں کیسے آ سکتا ہے، گویا اس گرفتاری نے دونوں طرف کے لئے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں اور آسانیاں بھی۔

مزید :

رائے -کالم -