پانی کے ذخائر میں اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، شوری ہمدرد

پانی کے ذخائر میں اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، شوری ہمدرد

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)ذخیرہ آب میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت اختیار کر گئی ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی معیاد کے دوران ڈیمز کا مکمل نہ ہونا ہے ،ڈیم کی تعمیر میں کم ازکم دس سے بیس سال کا عرصہ درکار ہوتاہے جسکی وجہ سے یہ منصوبے سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں لہذا آئندہ انتخابات میں ووٹ کے حصول کی خاطر ڈیمز کی تعمیر کو پس پشت ڈالنے کی بجائے ڈیمز کی تعمیر و تکمیل کو اوّلین ترجیحات میں شامل کیا جائے ۔شوریٰ ہمدرد نو منتخب حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ پر فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے گی ۔ کالا باغ اوربھاشا ڈیم ایک ہی سطح کی افادیت رکھتے ہیں لیکن کالا باغ ڈیم بھاشا ڈیم کی نسبت قلیل مدت وکم اخراجات میں رہتے ہوئے تیار کیا جا سکتاہے ، ڈیمز کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اور آنے والی حکومتیں اس سنگین قومی مسئلہ پر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ان خیالات کا اظہار ’’ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط بھی ناگیز‘‘کے موضوع پرشوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر انڈس واٹرشیراز جمیل میمن ،چیف انجینئرہائیڈرو ریسورس مینجمنٹ واپڈا لاہور شاہد حمید،سابق کمشنر انڈس واٹر سید جماعت علی شاہ ،قیوم نظامی،عمر ظہیر میر،میجر(ر)صدیق ریحان،، پروفیسر محمد احمد اعوان،میجر (ر)خالد نصرخالدہ جمیل چوہدری ، پروفیسر خالد محمود عطاء ،پروفیسر نصیر اے چوہدری، رانا امیر احمد خان، طفیل اختر،پروین سجل ،فرح دیبا، شائستہ ایس حسن و دیگر نے شرکت کی۔ماہرین نے مزید کہا کہ ناقص منصوبہ بندی کی بدولت آج ہمارے تینوں ڈیمز (تربیلا۔منگلا اور چشمہ ) میں دن بہ دن ذخیرہ آب میں کمی ہو رہی ہے اورآنے والے دنوں میں کسی ایک ڈیم کے برابرذخیرہ آب ختم ہو سکتا ہے ،پاکستان میں جون تا اگست (100دن)میں 80%آبی ذخائر دستیاب ہوتے ہیں جبکہ باقی 265یوم 20%آبی ذخائر رہ جاتے ہیں اگر سیلاب کے دنوں میں ذخیرہ آب کیلئے معقول منصوبہ بندی کی جائے تو بتدریج پانی کی کمی سے چھٹکارہ مل سکتا ہے جبکہپانی میں کمی کی ایک بڑی وجہ آبادی میں اضافہ بھی ہے ایک محتاط اعدادوشمار کے مطابق 1947-88 میں4کروڑ سے آبادی بڑھ کر اب 20کروڑ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ ذخیرہ آب اُتنا یا اس سے کم ہو گیا ہے۔ ،پانی کے استعمال میں احتیاط کے لیے ضروری ہے عوام لناس میں شعورو آگہی مہم چلائی جائے اور عدالتی سطح پر ایسے قوانین نافذ کئے جائیں جس سے پانی کا ضیاع نہ ہو ۔

ہمدرد

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -