ساتویں 3روزہ لاہور لٹریری فیسٹیول کا آغاز22 فروری کو ہوگا

ساتویں 3روزہ لاہور لٹریری فیسٹیول کا آغاز22 فروری کو ہوگا

  

لاہور(پ ر) ساتواں تین روزہ سالانہ لاہور لٹریری فیسٹیول 22 فروری کو الحمرا آرٹس سینٹر میں شروع ہو گا۔ اس سال اندرون اور بیرون ملک سے جو دانشور اور پالیسی ساز شرکت کر رہے ہیں ان میں لیلٰی ابولیلا، یوجین روگن، عائشہ جلال، سپائرو پولیلس، کیتھرین شوفیلڈ، فرانسیسکا اورسنی، انیسہ ہیلاو، ہیریٹ سنڈیز، رک ایسٹراؤڈ، مرزا وحید، صنم مہر، املی ہنام، جمال معجوب اور کئی دیگر شامل ہیں۔ میلے کا پروگرام ایونٹ سے قبل جاری کیا جائے گا۔ (گزشتہ سال کا ہوم ایڈیشن بکر ونر بن اوکری، پولیٹزر ونر پال سیلوپیک، لکھنؤ سے اردو افسانہ نگار انیس اشفاق، ایمی ونر رض احمد، ٹرین سپاٹنگ مصنف ایروائن ویلش اور مصنف و پریزنٹر رضا ایسلن) ایل ایل ایف کا پہلا ایڈیشن فروری 2013 میں شروع ہوا تھا جس میں مصنف اور سماجی کارکن طارق علی کی پاکستانی سٹیج پر واپسی ہوئی۔ ’’ عالمی سطح پر ایک حقیقی لبرل کی شہرت کے حامل‘‘ عمران خان جو اب وزیراعظم پاکستان ہیں نے ٹویٹ کیا کہ طارق علی نے (پاکستان تحریک انصاف کے ) لاہور لٹریری فیسٹیول میں پاکستان کے لئے تبدیلی کے پیغام کی حمایت کی ہے۔ ایل ایل ایف خود کو خصوصی طور پر عالمی میڈیا میں تسلیم کرا چکا ہے۔ مونٹی پائیتھان کے مائیکل پالن نے 2017 میں لاہور آمد کے بعد قرار دیا تھا کہ ایل ایل ایف ایک خزانہ ہے اور شہر کو اسے محفوظ بنانا چاہیے اور ایسا ہوگا۔ آج کل ادبی میلوں کی اتنی زیادہ قدر نہیں تاہم ایل ایل ایف کا معاملہ مختلف ہے اور یہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ کالم نگار اور ایل ایل ایف سپیکر روجر کہن نے دو سال قبل نیویارک ٹائمز میں لکھا کہ یہ ایک شاندار تخلیق، تصورات اور مزاکرے کا پلیٹ فارم ہے۔بی بی سی نے اسے مختلف دنیاؤں کے تصورات و نظریات سے وابستہ پاکستان کا جشن قرار دیا

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -