درجنوں کرکٹر بے روزگار، پی سی بی کا محکمہ جاتی ٹیمیں ختم کرنے کا فیصلہ

درجنوں کرکٹر بے روزگار، پی سی بی کا محکمہ جاتی ٹیمیں ختم کرنے کا فیصلہ

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کا 52 واں اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، پی سی بی نے اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا اس میں اجلاس کے اہم مندرجات سامنے نہیں لائے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے وزیراعظم کی ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اراکین پر واضح کردیا کہ محکمہ جاتی ٹیموں کا کوئی مستقبل نہیں ، تفصیلات کے مطابق ریجنز کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا،نئے ڈومیسٹک سیزن میں اب 8ریجنز فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں گی جس میں محکموں کو ملا کر ٹیمیں بنائی گئی ہیں،البتہ ریجنز اور محکموں کے معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔نئے قوانین کے مطابق فرسٹ کلاس سیزن کا آدھا خرچ محکمے اور آدھا بورڈ ادا کرے گا، محکموں کو درجنوں کرکٹرز کو فارغ کرنا پڑے گا۔ جو 8ریجنز قائداعظم ٹرافی کھیلنے کیلئے منتخب ہوئے ہیں ان میں کراچی حبیب بینک، لاہور سوئی نادرن گیس، ملتان زرعی ترقیاتی بینک، اسلام آباد پی ٹی وی، فیصل آباد نیشنل بینک، راولپنڈی خان ریسرچ لیبارٹریز، پشاور واپڈا اور فاٹا سوئی سدرن گیس کمپنی شامل ہیں۔علاوہ ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں جواب طلبی کے عمل کی بنیاد رکھتے ہوئے چیئرمین پی سی بی اور ارکین گورننگ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق اورسلیکٹر وسیم حیدر کو بورڈ آف گورنرز اجلاس میں طلب کرکے ان سے ٹیم کی کار کردگی اور ٹیم سیکشن کے حوالے سے میڈیا میں اٹھائے جانے والے سوالوں کے جوابات طلب کیے۔ذرائع کے مطابق انضمام الحق اور وسیم حیدر کو اجلاس میں جو کچھ سننا پڑا وہ انکی توقع سے کافی زیادہ تھا، اراکین گورننگ بورڈ اراکین نے انہیں کافی سخت سوالات کئے اور انہیں سلیکشن کے معیار کو بہتر بنانے اور اقربا پروری سے اجتناب کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

پی سی بی

مزید :

صفحہ آخر -