تبدیلی سرکار بھی ڈلیور نہ کر سکی تو یہ بد قسمتی ہو گی، قاری زوار بہادر

تبدیلی سرکار بھی ڈلیور نہ کر سکی تو یہ بد قسمتی ہو گی، قاری زوار بہادر

  

لاہور( شہزاد ملک : تصاویر : ذیشان منیر) جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ قاری زوار بہادر نے کہا ہے کہ جب مولانا فضل الرحمن پانچ سال (ن) لیگ کے ساتھ حکومت میں رہیں گے اور سراج الحق پانچ سال تک پی ٹی آئی کی حکومت کے اتحادی رہنے کے بعد محض الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے اور اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایم ایم اے کو دوبارہ قائم کرینگے تو پھر ایسی صورت حال میں ایسے اتحاد کو کامیابی کیسے ملے گی ایم ایم اے کے اتحاد کوالیکشن میں کامیابی کیلئے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کی ضرورت ہے جیسے مولانا شاہ احمد نورانی کی زندگی میں قائم ہوا تھا ‘ تحریک لبیک والے اگر ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے صرف ان حلقوں میں ٹارگٹ کرکے اپنے امیدوار کھڑے کرتے جہاں پر ان کا اچھا ووٹ بینک ہے تو آج ان کی بھی اسمبلی میں نمائندگی ہوتی‘ حکومت حج کے اخراجات میں اضافہ واپس لے‘ حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرے اگر تبدیلی سرکار بھی عوام کو ڈلیور نہ کر سکی تو یہ بد قسمتی ہو گی کیونکہ اگر اس کی ناکامی کے بعد پھر پیپلز پارٹی یا (ن) لیگ کو ہی موقع دیا جائیگا تو پھر ملک و قوم کیلئے اچھا نہ ہو گا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے روز نامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا س میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کو کروڑوں اربوں روپے کا کھیل بنا دیا ہے جس کی وجہ سے ہم جیسی مذہبی جماعتوں کے لوگ ملک بھر سے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر سکتے نہ ہی ہمارے پاس انتخابی جلسے کیلئے ہیلی کاپٹر ہیں ،ہماری دعا ہے کہ حکومت ڈلیور کرے ،ابھی تک تو حکومت نے عوام کو مایوس ہی کیا ہے اس قدر مہنگائی بڑھی ہے کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے حج جیسے مقدس سفر کو مہنگے کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پرانی والی قیمتوں پر ہی حج کروایا جائے ۔ احتساب ہونا چاہئے لیکن یہ بلا تفریق اور بلا تمیز ہی ہونا چاہئے پھر ہی عوام اس پر اعتماد کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -