افغان صدر کا پاکستان مخالف نیان محسن داوڑ کا خیر مقدم ،سیاسی قیادت عوام کا منہ توڑ جواب

افغان صدر کا پاکستان مخالف نیان محسن داوڑ کا خیر مقدم ،سیاسی قیادت عوام کا ...

  

کابل،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ایک ٹویٹ میں مبینہ طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انسا نی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام حکومت پاکستان پر لگاتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی اور کہا افغان حکومت کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سول سوسائٹی کے کارکنوں اور پرامن مظاہرین کیخلاف تشدد پر شدید تشویش ہے ،ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف کھڑے رہنے والے ہر شہری اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی حمایت ہر حکومت کی ذمہ داری ہے ورنہ اس کے طویل منفی نتائج برآمد ہوں گے۔جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ محسن داوڑ نے افغان صدر اشرف غنی کے پا کستا ن مخالف بیان پر ان کا شکریہ ادا کر ڈالا، وزیرستان سے تعلق رکھنے والی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کے ایم این اے محسن داوڑ نے اشرف غنی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان الفاظ پر ان کا شکریہ ادا کیا اور الزام عائد کیا کہ میری خواہش ہے ارمان لونی کے قتل کے جرم کو ہماری ریاست تسلیم کرے نہ کہ ہمارے غموں پر کریک ڈاؤن کیا جائے ،اب وہ ہمدردی کرنیوالوں کی بھی مذمت کررہی ہے ،یہ کس طرح کا انسانیت کا معیار ہے۔

اشرف غنی بیان

اسلام آباد ،کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی کے ٹویٹ کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے کہا اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ یانات ہمارے ملکی معاملات میں سنگین مداخلت ہے ۔انہوں نے افغان قیادت پر زوردیا کہ وہ عوام کی دیرینہ سنجیدہ شکایت پر توجہ مرکوز کرے اور دوسروں کے خلاف بیان بازی کی بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دے جبکہ دیگر کئی پاکستانی سیاستدانوں نے بھی افغان صدر کے پاکستان مخالف بیان کی شدید مذمت کی تاہم جبکہ سوشل میڈیا پر سابق وزیرمملکت خارجہ حنا ربانی کھر ،وفاقی و ز یر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان ،سینئر صحافی حامد میر ،سماجی کارکن مشرف زیدی،صحافی مبشر ز ید ی،سیاسی رہنما جان اچکزئی اور دیگر نے بھی اشرف غنی کے ٹویٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کی،جبکہ دیگر نے بھی @اور ہیش ٹیگ کیساتھ اشرف غنی کے ٹویٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ ایک ٹوئٹر صارف ارسلان خان کا کہنا تھا غنی صاحب، پلیز افغانستان اور اس میں رہنے والے لوگوں پر دھیان دیجئے، ایک اور صارف محمد سعد صالح نے کہا جن کی خود کوئی حیثیت نہ ہو، وہ بولتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ، اگر تم واقعی اپنے ملک کے بارے میں مخلص ہو تو آخر امریکی فوج کے انخلا پر کیونکر تمہارے پسینے چھوٹنے لگے ہیں؟ کیا تمہارے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟صارف اعجاز کا کہنا تھا میں امن مذاکرات کے حوالے سے آپ کی مایوسی سمجھ سکتا ہوں لیکن کٹھ پتلی حکومت کیساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ٹوئٹر صارف عرفان احمد وقار کا کہنا تھا کیا آپ کے اپنے ملک میں کوئی مسئلہ نہیں؟ پاکستان وہ ملک ہے جس نے لاکھوں افغا نو ں کو دہائیوں تک پناہ فراہم کی ،آپ شکریہ ادا کرنے کے بجائے اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔چوہدری صدام وڑا ئچ کا کہنا تھا پہلے اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں۔ حسان شاہ کا کہنا تھا یہ ٹوئٹ ایک ایسی حکومت کی جانب سے آیا ہے جس کی حکمرانی صرف کابل تک محدود ہے۔ عمر انور اعوان نے کہا بہتر ہے آپ اپنی حکومت کیلئے اسٹینڈ لیجئے جو ان دنوں مشکلات کا شکار ہے۔ ٹو ئٹر صارف رانا کا کہنا تھا ہم جانتے ہیں اپنے مسائل سے کس طرح نمٹیں۔ بہتر ہے آپ افغانستان پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔روحینہ کا کہنا تھا میں آپ کو آئینہ دکھانا چاہتی ہے ۔، کیا مجھے اجازت ہے؟

مزید :

صفحہ آخر -