اسلام کے جانثاراُمت مسلمہ کے غمگسار،قاضی حسین احمدمرحوم

اسلام کے جانثاراُمت مسلمہ کے غمگسار،قاضی حسین احمدمرحوم

  

قاضی حسین احمد ان شخصیات میں سے تھے، جنہوں نے ایک منفرد انداز میں جماعت اسلامی کے کام کو آگے بڑھایا۔ ان کی سیاست سے کوئی لاکھ اختلاف کرے، مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں دینی جماعتوں کی سیاست میں ایک منفرد رول ادا کیا۔ ان کے سامنے ایک بڑا مشن تھا،جس کے لئے وہ ساری زندگی جدوجہد کرتے رہے۔

قاضی صاحب ایک مدت تک سینیٹر اور پھر قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہے۔ وہ ان دونوں پلیٹ فارموں پر اپنے مخالفین کو للکارتے اور حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ جماعت اسلامی مخصوص نظریئے اور سوچ کے حامل مخصوص وضع قطع والے لوگوں کی جماعت تھی، لیکن قاضی صاحب نے اس کو سیاسی اور عوامی جماعت بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ انہیں علامہ اقبال اور ان کے افکار سے بے حد محبت تھی۔ ان کے سینکڑوں اشعار انہیں ازبرتھے۔ اپنی تقاریر میں وہ ان کا خوب استعمال کرتے۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان کو علامہ اقبال ؒ کے افکار کی روشنی میں ترقی دی جائے۔

خاصا عرصہ پہلے میں سعودی عرب سے پاکستان چھٹی پر گیا ہوا تھا، ان دنوں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ محترم پروفیسر ساجد میر ، امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی وساطت سے مجھے بھی مہمانوں کی گیلری کا پاس مل گیا۔ اس روز قاضی صاحب کی بھی تقریر تھی۔ قاضی صاحب کی تقریر پہلی مرتبہ میں نے اسمبلی میں سنی۔ اس روز مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کس قدر بے باکی سے بات کرتے ہیں۔ ان کے دلائل بڑے زور دار تھے۔

جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور محترم میاں طفیل محمد جیسی قدآور شخصیات کے بعد جماعت کی قیادت سنبھالنا کوئی سہل کام نہ تھا،لیکن قاضی صاحب نے یہ ذمہ داری اس آن بان کے ساتھ نبھائی کہ ان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کو بھی داد دینا پڑی۔

2008ء کی بات ہے کہ وہ رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لئے سعودی عرب تشریف لائے تھے۔ اجلاس میں شرکت کے بعد وہ ریاض تشریف لائے۔ ان دنوں وہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے۔ میری خواہش تھی کہ وہ دارالسلام کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کریں، چنانچہ برادرم حافظ عبدالوحید کی وساطت سے ان تک میری خواہش پہنچائی گئی،جو انہوں نے قبول فرما لی۔ یہ ان کا بڑا پن اور ہمارے ساتھ محبت کا انداز تھاکہ انہوں نے دارالسلام کا دورہ کیا۔ اس روز مجھے ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم نے خاصی دیر تک نشر و اشاعت کے حوالے سے گفتگو کی۔ قاضی صاحب نے دارالسلام کے ہر شعبے کو بڑی اچھی طرح دیکھا۔ کارکنان سے فرداً فرداً ہاتھ ملایا اور ان سے باتیں کیں۔ ہم نے بھی ان کی آمد پر دارالسلام کو خوب سجایا تھا۔ مَیں نے ان کو دارالسلام کی شائع شدہ کتب اور آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں بریف کیا۔ انہوں نے بھی خوب دلچسپی لی۔ میرا خیال تھاکہ وہ ہمیں بہت تھوڑا وقت دیں گے، مگر یہ ان کا بڑا پن تھاکہ انہوں نے کوئی دو گھنٹے سے زائد وقت دارالسلام میں گزارا۔مَیں نے ان سے مہمانوں کی کتاب میں دارالسلام کے بارے میں تاثرات لکھنے کی درخواست کی۔انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں مندر جہ ذیل تاثرات لکھے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

’’محترم مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے دین کی اشاعت کے جذبے سے سرشار کیا ہے۔ دُنیا بھر میں دارالسلام کے ادارے کو منظم کر کے انہوں نے اس عالمی بستی کے ہر کونے تک قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی پہنچائی ہے۔ نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے: ’اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘ ان کے امتیوں کے ذمے ان کی نصرت لازمی ہے اور تعلیم کے ذریعے نبی کریمؐ کا پیغام پہنچانا ہر امتی کا فرض ہے۔ ’بَلِّغُو عَنِّيْ وَلَوْ آیَۃ‘ کے ارشاد گرامی کے مطابق دین کی اشاعت ہر امتی پر واجب ہے۔

مَیں ریاض میں دارالسلام کے مرکزی دفتر کے دور کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ دارالسلام کے تجربے سے استفادہ کرکے اسی نقشے کے مطابق علم دین کی اشاعت کے ذریعے سب لوگوں کو تمام انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔

ادارہ دارالسلام نے محققین کے ذریعے سے علمی تحقیق اور تراجم کا جو سلسلہ جاری کیا ہے یہ بھی ایک مبارک کوشش ہے اور تشنگان علم دین کے لئے ایک نعمت ہے‘‘۔ (قاضی حسین احمد)

دینی حلقوں میں دھرنا، ملین مارچ اور ریلیوں جیسی اصطلاحات ناپید تھیں، مگر قاضی صاحب نے اپنی انتہائی متحرک زندگی میں بے شمار ریلیاں نکالیں، سینکڑوں جلسے کیے، نہ جانے کتنے جلوسوں کی قیادت کی۔اَن گنت مظاہروں میں شریک ہوئے۔قاضی صاحب کے مرکزی جمعیت اہل حدیث اور پروفیسر ساجد میرکے ساتھ بڑے عمدہ مراسم تھے۔ سیکولر اور دین بے زار قوتوں کے مقابلے کے لئے دونوں جماعتوں میں مکمل ہم آہنگی تھی اور اس کے لئے کئی مشترکہ پروگرام کئے گئے۔ قاضی حسین احمد کئی مرتبہ اپنے ساتھیوں سمیت مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے دفتر 106 راوی روڈ لاہور تشریف لائے۔ متحدہ مجلس عمل میں بھی دونوں جماعتیں شریک سفر تھیں۔ مجھے بہت سے موقعوں پر محترم پروفیسر ساجد میر کے ساتھ ایم ایم اے کی پالیسیوں پر تبادل�ۂ خیال کا موقع ملا۔ قاضی حسین احمد رحمہ اللہ مجلس عمل کے صدر تھے۔ پروفیسر ساجد میر نے ہمیشہ ان کی شرافت، متانت، مقصدیت اور ذہانت کی تعریف کی۔ قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کا ذہن ہر وقت سوچتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو قوم کو نت نئے پروگرام دیتے تھے۔ کشمیر کے حوالے سے انھوں نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی تجویز دی۔ اس روز پوری پاکستانی قوم ہاتھوں میں ہال ڈال کر زنجیر بناتی ہے۔ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔ قاضی صاحب نے اسلامک فرنٹ کے نام سے ایک نیا تجربہ بھی کیا تھا، جو غالباً انہوں نے الجزائر کے اسلامک سالویشن فرنٹ سے لیا تھا۔ اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے سولو فلائٹ کے ذریعے الیکشن میں حصہ لیا،جو بدقسمتی سے بری طرح ناکام ہوا۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ بھی پیش کیا، مگر ارکان جماعت نے اسے قبول نہ کیا۔مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک لیڈر کا یہی وصف ہے

پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا

بلاشبہ جماعت اسلامی کا نظم بڑا مضبوط ہے۔ اگر کوئی اور جماعت ہوتی تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی،مگر یہ قاضی حسین احمد کی شخصیت کا سحر تھا کہ جماعت نے تھوڑے ہی عرصہ میں دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیا اب تو لوگوں کو اسلامک فرنٹ بھول بھی چکا ہے۔ میرا ذکر کرنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں،بلکہ قاضی صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو اُجاگر کرنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے جماعت کو مسلسل مصروف کار رکھا۔ جماعتوں کی زندگی میں اگر کارکنان کو مصروف رکھا جائے تو وہ متحرک رہتے ہیں اور جماعت زندہ رہتی ہے۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب میں یہ خوبیاں عام لیڈروں سے زیادہ تھیں۔

محترم پروفیسر ساجد میر جب بھی سعودیہ تشریف لاتے ہیں تو میرا زیادہ وقت ان کی رفاقت میں گزرتا ہے۔جماعتی اور دعوتی پروگراموں کے علاوہ جس موضوع پر ہماری سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے وہ پاکستان کے حالات اور سیاست ہے، جس میں مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کا بھی تذکرہ آتا رہتا ہے۔ پروفیسرساجد میر ہمیشہ قاضی صاحب کے بارے میں رطب اللسان رہے۔ محترم قاضی صاحب کی وفات کے بعد پروفیسر ساجد میر صاحب سے فون پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا:

قاضی صاحب بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔ چند ایک تو اُن کی شخصیت کا جزو لاینفک بن گئی تھیں۔ انہوں نے ساری زندگی اصول پسندی کو نہیں چھوڑا۔ ان کے سامنے بڑے واضح مقاصد تھے اور انہیں اپنے مقصد کے ساتھ بڑی لگن تھی۔

ان کی سوچ محدود نہیں،بلکہ آفاقی تھی۔ وہ صرف پاکستان کے لئے نہیں،بلکہ پاکستان سے باہر نکل کر کشمیر، افغانستان، فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے بارے میں سوچتے اور ان کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔

ان کا دِل دُنیا کے تمام مظلوم مسلمانوں کے لئے دھڑکتا تھا۔ انہوں نے پوری دُنیا کے دورے کئے۔ وہاں کی اسلامی تحریکوں سے تعلقات بنائے۔ یہی و جہ ہے کہ عالم اسلام میں ایک بڑا طبقہ ان کا احترام کرتا تھا۔

قاضی حسین احمد صاحب اب اپنے اللہ کے پاس چلے گئے ہیں، مگر وہ مشن جس کے لئے انہوں نے پوری زندگی گزار دی اس مشن، جذبے، سوچ اور فکر کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہئے۔وہ منصب کے خواہش مند لوگوں میں سے نہیں تھے،بلکہ منصب ان کے پیچھے بھاگتے تھے۔ان کے دِل کے دو بائی پاس ہوئے۔ اس کے باوجود ان کے کام، سفر اور ان کے پروگراموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اپریل2009ء سے جناب سید منور حسن نے جماعت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ قاضی صاحب جماعتی ذمہ داریوں سے آزاد ضرور ہوئے، لیکن امت مسلمہ کے درد میں بے چین اس روح کو کہاں قرار آنے والا تھا۔ ان کی سرگرمیاں جاری رہیں، کبھی وہ اتحاد امت کے لئے سیمینارز کرواتے اور کبھی پاکستان کے بارے میں دردِ رکھنے والے دفاعی ماہرین اور دانشوروں کے تھنک ٹینک بناتے نظر آتے۔ آخری وقت تک ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو شرف قبولیت بخشے اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ آمین ثم آمین!

مزید :

ایڈیشن 1 -