میڈیکل بورڈ کی سفارشات مسترد ،نواز شریف جیل منتقل،عبدالعلیم خان 9روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے ،پیشی پر پی ٹی آئی کارکنوں کی دھکم پیل نعرے بازی ،احتساب جج کا اظہار ناراضگی

میڈیکل بورڈ کی سفارشات مسترد ،نواز شریف جیل منتقل،عبدالعلیم خان 9روزہ ...

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے پی ٹی آئی کے راہنما اورسابق سینئرصوبائی وزیرعبدا لعلیم خان کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔نیب حکام نے آف شور کمپنی اور آمدنی سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے راہنما علیم خان کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں پیش کیا۔نیب حکام علیم خان کو لے کر عدالت پہنچے تو عدالت کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی،اس موقع پر عدالت کے باہر بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس نے کنٹینر زلگاکر عدالت جانے والے راستے بند کررکھے تھے ، دورانِ سماعت نیب کے پراسیکیورٹر وارث جنجوعہ نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ علیم خان کا 2002ء میں 190 لاکھ روپے کا پرائنزبانڈ نکلا ، 10کروڑ 90 لاکھ روپے علیم خان کے والد کو باہرسے رقم آئی مگر بھیجنے والا کا پتہ نہیں کون ہے ، اے اینڈ اے سے والدہ کو 198 ملین روپے2012 ء میں آمدنی ہوئی ،علیم خان باہر سے آئی آمدنی تسلیم نہیں کرتے لیکن پرائزبانڈ تسلیم کرتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ علیم خان نے 2018 ء میں 871 ملین روپے کے اثاثے ظاہر کئے، ان کے اثاثے آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ ملزم اثاثوں اور آمدنی سے متعلق نیب کومطمئن نہیں کر سکے۔علیم خان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل کے تمام اثاثے قانونی ہیں جس کی دستاویزات ہم نے خود دیں، نیب نے آج تک آف شور اثاثوں سے متعلق ایک ثبوت بھی پیش نہیں کیا، نیب جن دستاویزات کی بات کر رہی ہے وہ ہم نے خود فراہم کیں، پبلک آفس ہولڈر ہونا کوئی جرم نہیں، علیم خان کاروبار کرتے ہیں، انہوں نے آج تک اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا اور نہ ہی ان پرکسی کرپشن کا الزام لگا، علیم خان کو جب بلایا گیا وہ پیش ہوئے ،جسمانی ریمانڈ کی ضروت نہیں،عدالت نے نیب پراسیکیوٹر اور علیم خان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرلی۔عدالت نے علیم خان کو 9 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے انہیں 15 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیب نے سابق صوبائی وزیر علیم خان کو احتساب عدالت میں پیش کیا تواس موقع پر تحریک انصاف کی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور ان کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کی گئی پی ٹی آئی کارکنوں نے احتساب عدالت میں گھسنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں پیچھے دھکیل دیاعدالت میں شور شرابے اور رش پر جج احتساب عدالت نجم الحسن برہم ہو گئے علیم خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیاآپ کا کوئی بندہ عدالت سے باہر رہ تو نہیں گیا،اگرکوئی باہر رہ گیا ہے تو اس کو بھی اندار بلوا لیں ۔دوسری طرفعبد العلیم خان نے بھی وکالت کیلئے شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کر لیں۔عدالت میں علیم خان نے خود بھی اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ نیب کے پاس آج جو بھی کاغذات ہیں وہ میں نے خود دیئے تھے، اگر نیب کوئی ایک کاغذ دکھا دے جو نیب نے خود منگوایا ہو تو جو کہیں گے میں کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ایک مرلے کا بھی اثاثہ بتائیں جو میں نے ڈیکلیئر نہ کیا ہو، جو جو ڈاکومنٹس نیب نے مانگے انہیں مہیا کیے۔علیم خان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے 878 ملین کے اثاثہ جات ڈیکلیئر کیے ہیں، ان کے سیاست میں آنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ حکومتی رقم سے سب کچھ بنایا۔انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ میری جانب سے ایک خط نیب کو بجھوایا گیا جس پر چیئرمین نیب ناراض ہیں، کیا ناراضگی پر گرفتار کیا جاتا ہے؟،حلفاً کہتا ہوں میرے وکیل کی جانب سے نیب کو بھجوائے گئے خط کا کوئی علم نہیں اپنی صفائی میں علیم خان نے کہا کہ میرے دوروں کی تمام سرکاری رقم ریکارڈ پر موجود ہے، نیب نے کل جب بلایا تو میں نے مکمل تعاون کیا۔جو سوالنامہ مجھے دیا گیا وہ 3 سوالات پر مشتمل تھااس دوران ڈیڑھ گھنٹے تک مجھ سے مسلسل تفتیش کی اور سوالات پر سوالات کیے گئے جبکہ میں نے تمام سوالات کا جواب دیا البتہ جن کا علم نہیں تھا ان کے لیے وقت مانگا۔جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ علیم خان کے اثاثے ان کی آمدن سے زائد ہیں اور وہ نیب کو دورانِ تفتیش مطمئن نہیں کرسکے۔

علیم خان

لاہور(جنرل رپورٹر، کرائم رپورٹر) سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی سفارشات کو محکمہ داخلہ پنجاب نے مسترد کرتے ہوئے انھیں امراض قلب کے ادارے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی میں ریفر کرنے کی بجائے سروسز ہسپتال سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیاہے۔واضع رہے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز اور دیگر ممبران نے اپنی سفارشات میں تجویز کیا تھا کے نواز شریف کو پی آئی سی میں منتقل کیا جائے جہاں انکے دل کا معائنہ بہت ضروری ہے مگر محکمہ داخلہ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر پہلے انھیں پی آئی سی منتقل کرنے کی منظوری دی اور چند گھنٹے بعد ہی منظوری واپس لیتے ہوئے نواز شریف کو پی آئی سی کی بجائے جیل منتقل کر دیا گیا ۔بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو 6 دن بعد ہسپتال سے واپس جیل منتقل کیا گیا، نواز شریف نے پی آئی سی کے بجائے جیل منتقلی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ قبل ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ شمیم اختر پوتی مریم نواز کی ہمراہ اپنے بیٹے نواز شریف کی تیمارداری کیلئے سروسز ہسپتال پہنچیں۔ اس موقع پر والدہ کا کہنا تھا کہ اللہ میرے بیٹے کو صحت دے، دونوں بیٹوں نواز شریف اور شہباز شریف کیلئے دعا گو رہتی ہوں۔ مسلم لیگ ن کے بزرگ رہنما جاوید ہاشمی نواز شریف کی مزاج پرسی کیلئے ہسپتال پہنچے مگر جیل حکام نے محکمہ داخلہ کی اجازت نہ ہونے پر انہیں ملنے نہیں دیا۔ دریں اثناپا مریم نواز نے کہا کہ اگر حکومت نے علاج کے نام پر نواز شریف کی تضحیک کرنی ہے تو ہمیں یہ برداشت نہیں اور ہمیں رحم کی بھیک نہیں چاہیے ،سب کو معلوم ہے کہ نواز شریف دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں لیکن انہیں پانچ روز تک اس ہسپتال میں رکھا گیا جہاں کارڈیک یونٹ ہی نہیں ،مسلم لیگ (ن) متحدہے اور رہے گی ۔ سروسز ہسپتال سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی صحت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن انہیں کبھی ایک اور کبھی دوسرے ہسپتال لے جایا گیا ۔جو بھی بورڈز بنائے گئے وہ حکومت نے خود تشکیل دئیے اس میں ہمارا کوئی بندہ شامل نہیں تھا ، چاروں بورڈز نے تجویز کیا کہ نواز شریف کو دل کا عارضہ لا حق ہے اس لئے امراض قلب کے ہسپتال میں لے جایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا بنیادی مسئلہ دل کا عارضہ ہے لیکن انہیں چار روز تک سروسز ہسپتال میں رکھا گیا،اس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ کا رویہ غیر سنجیدہ ہے اس لئے مجھے واپس جیل لے جائیں اور وہ جیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نواز شریف کو جیل سے پی آئی سی لایا گیا پھر پی آئی سی سے جیل واپس لے جایا گیا اور پھر سروسز ہسپتال لے آئے اور اب انہیں کہا جارہا ہے کہ آپ پی آئی سی چلے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک تو نواز شریف کو دل کا پرانا مرض لا حق ہے اور اب مزید نئی علامات ظاہر ہو رہی ہیں اور انہیں اسی وجہ سے تکلیف ہے ۔ اس کے باوجود کسی کی صحت کے ساتھ اس قسم کاکھلواڑ کرنا اور وہ بھی ایسے انسان کے ساتھ جو تین مرتبہ اس ملک کا وزیر اعظم منتخب ہوا ہے اور اس کی ملک کے خدمات ہوں اور پورے ملک میں اس کے چاہنے والوں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو کیوں سروسز ہسپتال میں رکھا گیا جہاں کارڈیک سنٹر ہی نہیں ، میڈیکل بورڈ پانچ روز تک کیا کرتا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف تو جیل سے آنا ہی نہیں چاہتے تھے یہ انہیں خود اصرار کر کے لے کر آئے ۔حکومت سے نہ کبھی علاج کی درخواست کی نہ کریں گے ۔ انہوں نے اس ساری صورتحال ابہام پیدا کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کے پیچھے حکومتی کارندے ہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ خوف خدا سے عاری لوگوں نے جو اب حکومت میں ہیں نے بستر مرگ پر میری مرحومہ والدہ کا مذاق اڑایا تھا ، ۔مریم نواز نے کہا کہ میں نے چپ رہ کر سب کچھ سہا ہے اور مانگا تو صرف اللہ سے ،کسی چیز پر سیاست نہیں کی مگر اب اگر میرے والد کی صحت سے کھلواڑ کیا گیا یا اس کو سیاست کی نذر کیا گیا یا ان کو خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمے داری حکومت پر ہو گی ۔

جیل منتقل

مزید :

صفحہ اول -