ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ آج کس مقام پر ہے ؟ اپنے عہد صدارت کے دوسال مکمل ہونے اورکانگریس کے مشترکہ اجلاس سے 5فروری کی شپ روایتی سٹیٹ آف یونین صدارتی خطاب کے بعد یہ جائزہ لینے کا اتنہائی موزوں وقت ہے ۔صرف یہ تبصرہ نگار موزوں نہیں ہے جو اپنی کم علمی کے باعث شاید موضوع سے پورا انصاف نہ کر سکے اور دوسرے ان کا مخالف ووٹر ہونے کے سبب ہوسکتا ہے کہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پورا غیر جانب دار نہ رہ سکے ہر صورت جو کچھ میں نے سوچ رکھا ہے وہ آپ کو سننا ہی پڑے گا۔ڈونلڈٹرمپ نے ری پبلکن امیدوار کی حیثیت سے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو ہرا کر 20جنوری 2017ء کو وائٹ ہاؤس میں اپنا عہدہ صدارت سنبھالا تو شاید انہیں خود بھی اس کا پورا یقین نہیں تھا ۔

صدارتی مہم اور اتار چڑھاؤ سے گزرنے والے انتہائی کم مارجن والے کچھ کچھ متنازعہ تنائج سے گزر کر وہ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ وہ ایک کامیاب اور ہو شیار بزنس مین ضرور تھے لیکن سیاسی تجربے سے مکمل نابلد تھے۔ جب کہ ان سے ہارنے والی ہیلری ایک گھاگ سیاست دان تھیں۔ مصبرین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اصل میں اس عہدے ہی کے لئے اہل ہی نہیں ہیں اور وہ ایک سپرپاور کے اتنظامی سربراہ ہونے کی ذمہ داریاں سبنھالنے میں ناکام رہیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے ان کا لاابالی پن ، جذیاتی اور غصیلا انداز اورپارہ صفت مزاج دیکھا ۔آئے دن اپنی ٹیم کے ارکان کو بدلتے رہے آج اعتماد تو کل بد اعتماد ری شروع ہوجاتی ۔ وہ پہلے اس کے اہل تھے یا نہیں تھے لیکن اوول آفس میں دو سال بیٹھ کر انہوں نے ملک کو کامیابی کی راہ پر ڈال دیا۔ اور کچھ تو ان کے اتنے کارنامے ہیں کہ اس سے پہلے شاید ہی کسی صدر کے ہاتھوں سرانجام پائے ہوں۔

امریکی صدور یا عہدیداروں کے بارے میں ایک بات تو طے ہے کہ ان کا تعلق چاہیے کسی بھی جماعت سے ہو وہ نیتاً کوئی کام قومی مفاد کے خلاف نہیں کرتے۔ وہ اپنی قوم کا مفاد پر چیز پر مقدم رکھتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ اپنی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے مسلم ممالک یا امیگرینٹس میں غیر مقبول ضرور ہوئے ہیں لیکن وہ اپنے طور پر جو بھی کرتے ہیں وہ امریکی عوام کے بہتر مفاد میں کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سٹیٹ آف یونین خطاب میں زیادہ وقت داخلی امور پر صرف کیا ،جب کہ تھوڑا وقت خارجہ امور کی وضاحت کیلئے مخصوص کیا جس کے دوران انہوں نے بہت سے دعوے کئے مبصرین کی رائے میں انہوں نے کچھ داخلی معاملات پر مبالغہ کیا لیکن ان کے زیادہ دعوے درست تھے۔ سی این این نے جو صدر ٹرمپ کا مخالف شمار ہوتا ہے خطاب کے تھوڑی دیر بعد ایک سروے کیا جس کے مطابق خطاب سننے والے تقریباً ستر فیصد افراد نے صدر ٹرمپ کے موقف سے اتفاق کیا اس کا ایک سبب یہ ہے کہ انہوں نے کہیں کہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان پر بعض معاملات میں تنقیدکی کہ وہ بعض انتظامی نامزدگیوں کی توثیق کرنے میں دیرلگا رہے ہیں اور بعض اہم بلوں کو منظوری سے روکے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے پارٹی کی بجائے قومی مفاد کیلئے متحد ہونے پر زور دیا ۔

ان کے پیغام میں یقیناًزور دار اپیل موجود تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ ان کی حکومت کسی ایک جماعت کی نہ ہو بلکہ سب مل کر امریکی عوام کے مفاد کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتقام کی سیاست کو ترک کریں اور اپنے خلاف انتخابی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے لیکن سوال پیدا ہوتاہے کہ اس تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچا کر انصاف کا تقاضاکیوں نہ پورا کیا جائے۔ اگر اس میں کوئی راز ہے تو وہ منظر عام پر آناچاہئے کہ روس نے اس کے حق میں ہیلہری کلنٹن کے خلاف انتخابی تنائج کومتاثر کرنے کی کوشش کیوں کی۔ ٹرمپ کی کامیابی سے روس کا کیا سٹرٹیجک مفاد وابستہ ہوسکتاہے۔ یہ معاملہ کھل کر سامنے آناچاہئے۔

غیر قانونی تارکین وطن اور خصوصاً میکسیکو کی جنوبی سرحد کے پارسے ہسپانوی امیگرینٹس کے امریکہ رخ کرنے کے خلاف ترمپ نے سخت موقف اختیار کر رکھا ہے جو اگرچہ متنازعہ بھی ہے اور مخالف ڈیموکرئیک پارٹی اسے سیاسی طورپر استعمال بھی کررہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس موقف کی وجہ سے وہ عام امریکیوں اور خصوصاً سفید فام امریکیوں میں مقیول بھی بہت ہے کیونکہہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ امیگرنیٹس ان کے روزگار میں حصہ ڈالتے ہیں اور اپنے ساتھ جرائم لے کر امریکہ میں داخل ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ان کے دو سالہ عہد صدارت میں اتنی معاشی ترقی ہوئی ہے کہ اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ بات درست ہوسکتی ہے لیکن معاشی ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اس میں ان کا اتنا کمال نہیں ہے کہ جتنا بارک اوبامہ کا ہے جب ٹرمپ کو اقتدار ملا تو معیشت پہلے ہی تیز رفتاری سے ترقی کررہی تھی ۔ ہاںیہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ترقی کا یہ ٹمپو برقرار کھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے53لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کیں جن میں سے چھ لاکھ ملازمتیں منیو فیکچر نگ کے شعبہ سے متعلق ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس میں تھوڑا سا مبالغہ ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے دور میں ملازمتوں کا دائرہ بہت وسیع ہوا ہے ورکر طبقے کیلئے کم از کم تنخواہ میں اضافہ ہوا اور بیروزگاری کی شرح کم ہوئی۔ وہ اس بات کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ انہوں نے ٹیکسوں میں کمی کی جس کا متوسط طبقے بڑے بزنس میں کوبھی فائدہ پہنچا۔ صدرٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ میں کاروبار کرنے یا صنعتیں لگانے کیلئے قوانین اور ضوابطہ کو مختصر اور سادہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑی بڑی کمپنیوں نے امریکہ کا رخ کیا۔

بلاشک صدر ٹرمپ میں کچھ ضدی پن بھی ہے جسے ان کے ہم نوا موقف کی مضبوطی بھی قرار دیتے ہیں انہوں نے امیگرنیٹس اور خصوصاً غیر قانونی طورپر داخل ہونے والوں کے خلاف جو پالیسی اپنا رکھی ہے اسے امریکی عوام کے ایک وسیع طبقے کی تائید بھی حاصل ہے انہوں نے امریکیوں کی ایک وسیع تعداد کو فائل کرلیا ہے کہ جنوبی سرحد پر ہسپانوی باشندوں کے غیر قانونی کارواں روکنے کیلئے ایک دیوار کی تعمیر ضروری ہے جس کیلئے کانگریس پانچ ارب سترکروڑ ڈالر کا فنڈ فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے اپنے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے وہ ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ کو کھٹائی میں ڈالنے کو تیار ہیں۔ اس طرح حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن بھی انہیں منظور ہے ۔

معیشت کو مضبوط بنانے اور امیگرنیٹس کو کنٹرول کرنے کے ان کے داخلی اقدامات کے علاوہ خارجہ سطح پر متعدد ایسے اقدامات ان کے کریڈٹ میں جاچکے ہیں یا جانے والے ہیں جو نہ صرف امریکی عوام کو سکیورٹی اور امن فراہم کریں گے۔بلکہ شمالی کوریا صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک خوف ناک آتش فشاں کی صورت اختیار کرچکاتھا۔ ان سے سردگرم پالیسی اپنا کر مذاکرات کی میز پر لانا اور پھر ان کے ساتھ معاہدہ کرنا ایسا کام ہے جو اس سے پہلے کسی امریکی لیڈر بلکہ دنیا کے کسی لیڈر کے ہاتھوں سرانجام نہ ہوسکا اب دنیا بھر کو تہس نہس کرنے کی دھمکی دینے والا شمالی کوریا کا لیڈر اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کا وعدہ کررہا ہے۔

شام اور عراق کی جنگ اور افغانستان میں طالبان سے محاذآرائی صدر ٹرمپ نے شروع نہیں کی لیکن ان جنگوں کو ختم کرکے امن معاہدے کرنے کا سہرا ان کے سر باندھا جانے والاہے ان کی افغان طالبان کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی یہ بھی کہ یہ طالبان امن معاہدے کے بعد القاعدہ اور داعش کو افغانستان سے نکالنے میں مدد دینے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ چین ٹریڈکے نام پر امریکہ سے جو فائدہ اٹھارہا تھا اس کاہاتھ روکنے کی جرات ٹرمپ نے ہی کی۔

روس کے ساتھ ٹرمپ کاکیا ڈرامہ چل رہا ہے اس کا وقت آنے پر پتہ چل جائے گا چند ماہ میں ڈرامائی طورپر فلسطین ، اسرائیل امن معاہدہ سامنے آنے والاہے۔ جس کا کریڈٹ بھی ان کو ملے گا۔ صدر اوبامہ ہوتے تو ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہوجاتے ۔ صدر ٹرمپ اپنی وجوہات کی بناء پر ایران کے ساتھ محاذ آرائی کرنے جارہے ہیں مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کاداخلی اور خارجی سطح پر گراف یقیناًآگے بڑھا ہے

مزید :

رائے -کالم -