عظیم مربی ڈاکٹر اسلم صدیقی کی جدائی

عظیم مربی ڈاکٹر اسلم صدیقی کی جدائی
عظیم مربی ڈاکٹر اسلم صدیقی کی جدائی

  

نئے سال میں پہلے ہی بہت سے پیاروں کی جدائی کا غم کم نہیں ہو رہا تھا کہ4 فروری کو ہمارے عظیم مربی، خطیب، مفسر قرآن، مذہبی سکالر پروفیسر ڈاکٹر مولانا اسلم صدیقی کی اچانک رحلت کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جماعتی اور غیر جماعتی حلقوں میں یکساں مقبول شخصیت کے حامل مولانا اسلم صدیقی کی وفات ایسا قومی سانحہ ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔

ہمارے احباب حقیقت بیان کریں تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ جماعتی حلقوں میں ایسے نامور جید علمائے کرام جو گھنٹوں قرآن کی تفسیر بیان کر سکتے ہیں،گھنٹوں سیرت رسولؐ پر بول سکتے ہیں،خال خال ہی نظر آ رہے ہیں۔ مولانا اسلم صدیقی ایسی شخصیت تھے جو ہر ایک کے پسندیدہ اور ہر ایک کے دوست تھے، ان کی وفات عام واقعہ نہیں ہے ان کی جدائی پر کہہ سکتا ہوں:

داغ چراغ صحبت شب کی جلی ہوئی

اِک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خاموش ہے

مَیں بتا رہا تھا کہ نئے سال میں جانے والوں نے ہمیں واضح پیغام دیا ہے، ہم جا رہے ہیں،اب آپ کی باری ہے۔ قرآن آسان تحریک کے بانی عظیم دانشور عالم دین مولانا سید شبیر شاہ صاحب کے پوتے سید ذوالفقار شاہ جو ہمارے ساتھ چند گھر چھوڑ کر رہائش پذیر تھے، اچانک حرکتِ قلب بند ہونے سے اللہ کو پیار ہو گئے،

ان کا ایک پانچ سالہ پیارا سا صاحبزادہ ذوالفقار شاہ کی نہ صرف یاد دلاتا رہتا ہے، بلکہ ذوالفقار شاہ کی جدائی کے غم کو کم نہیں ہونے دے رہا۔ ذوالفقار شاہ کی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے علامہ اقبال ٹاؤن میں جماعت اسلامی کی ہر دِل عزیز شخصیت نوجوان لیڈر عباس چوہان کی رحلت کی خبر ملی جس کو سُن کر یقین نہیں آ رہا تھا، اب تک نہیں آیا، ان کی نمازِ جنازہ گجرات میں ہونے کی وجہ سے جنازہ میں شریک نہ ہونے کا ہمیشہ دُکھ رہے گا۔ عباس چوہان کی یادیں اور خوبصورت باتیں جاری تھیں، تو گوجرانوالہ جماعت اسلامی کے سابق ضلعی، امیر اسلامی جمعیت طلبہ سائنس کالج کے سابق قائد تھے، میرے ذاتی طور پر بڑے محسن۔ رانا خالد تنویر بھی ہمیں چھوڑ گئے،

رانا خالد تنویر ایک انجمن تھے جو بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، ان سے بھی ہماری خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔گوجرانوالہ ڈویژن کی تین سال تک ذمہ داری میں جہاں سیالکوٹ سے خواجہ احتشام، ذوالفقار ذکی، صوبہ سے سعید احمد بسرا، گوجرانوالہ سے زبیر وڑائچ، حمید الدین اعوان، شاہد منیر، باسط باجوہ کی محبتیں نہیں بھلا سکتا۔ کوئی رانا خالد تنویر کو بھلا سکتاہے۔

آدھی رات کو بھی ان کے گھر گئے، زبیر وڑائچ کی والدہ اور رانا خالد تنویر کے گھر والے ہمیشہ ہمارا انتظار کرتے پائے گئے، اللہ زبیر وڑائچ کی والدہ محترمہ ، رانا خالد تنویر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، ان کی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہونے کا بھی ہمیشہ غم رہے گا، انہی دوستوں کی جدائی میں غمزدہ تھا کہ ہمارے محترم دوست سید سجاد شاہ جو معروف ماہر تعلیم،انسان دوست تھے ان کے والد محترم اچانک اللہ کو پیارے ہو گئے، ان کی تدفین ایبٹ آباد میں ہونے اور تاخیر سے اطلاع ملنے کی وجہ سے اب تک شرمندہ ہوں، براہِ راست شاہ صاحب سے بات نہیں کر رہا، اپنے محسن پروفیسر سید سجاد شاہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

والد محترم کے لئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دُعا کرتے ہیں۔ آج کی نشست اپنے عظیم مربی اور محسن انسانیت ڈاکٹر اسلم صدیقی کے نام کرتا ہوں۔ فیصل آباد ڈویژن، لاہور ڈویژن، گوجوانوالہ ڈویژن کے تربیتی پروگراموں میں مولانا سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ جامعہ مسجد پنجاب یونیورسٹی میں اکثر جمعتہ المبارک کی ادائیگی نے ہمیں مولانا کے بہت قریب کر دیا تھا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد مولانا نے نئے عزم سے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے قرآن و سنت کی ترویج کو مشن بنایا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔ مولانا مرحوم اس لحاظ سے خوش قسمت ترین شخصیت تھے کہ ان کی باحیا اہلیہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنے بچوں کی انتہائی اچھے انداز میں تربیت کی، ان کے صاحبزادوں مبشر اقبال صدیقی، طیب صدیقی سے میرا بڑا گہرا تعلق ہے، دونوں دین کی فکر اور دوستوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔

مولانا کے حقیقی جانشین ثابت کرنے کے لئے مبشر بھائی، طیب بھائی، مظفر بھائی، مشرف بھائی کو بڑی محنت کرنا پڑے گی۔ مولانا نے تحریک اسلامی، فکر مودودی کو قرآن و سنت کی روشنی میں قریہ قریہ پہنچانے کا مشن مکمل کیا ہے،ان کی ترتیب دی گئی، روح القرآن کی12جلدیں، ان کی دیگر 10سے زائد کتب، ہزاروں کی تعداد میں سی ڈیز، دروس قرآن کی ہزاروں کی تعداد مولانا مرحوم کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے بڑا چیلنج ہو گا۔ نیک اولاد بڑی نعمت ہے، مولانا نے ورثے میں نیک اولاد چھوڑی ہے، ہماری دُعا ہے مولانا اور اُن کی شریک حیات کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ مولانا کے صاحبزادوں کو مولانا کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

مزید :

رائے -کالم -