مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے ،سید مراد علی شاہ

مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے ،سید مراد علی شاہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے۔جمعرات کووزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ پاپولیشن ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، وزیراعلی سندھ کو ٹاسک فورس کے طالب لاشاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے۔اس موقع پر وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے، ہماری آبادی کے بڑھنے کے دو اسباب ہیں، ایک وجہ قدرتی پیدائش ہے جب کہ دوسری لوگوں کی نقل مکانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری سے ثابت ہوا کہ آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.4 فیصد سالانہ ہے، پاکستان کی آبادی 207.8 ملین ہے جبکہ سندھ کی آبادی 47.8 ملین ہے جو ہم سمجھتے ہیں کم دکھائی گئی ہے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑھتی آبادی سے روزگار کے ذرائع، صحت کی سہولیات، تعلیم، خوراک، رہائش وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ، ریپروڈکٹیو ہیلتھ رائیٹس بل، پاپولیشن پالیسی آف سندھ 2016 جیسے اقدامات کیے ہیں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے۔جمعرات کووزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ پاپولیشن ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، وزیراعلی سندھ کو ٹاسک فورس کے طالب لاشاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے۔اس موقع پر وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے، ہماری آبادی کے بڑھنے کے دو اسباب ہیں، ایک وجہ قدرتی پیدائش ہے جب کہ دوسری لوگوں کی نقل مکانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری سے ثابت ہوا کہ آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.4 فیصد سالانہ ہے، پاکستان کی آبادی 207.8 ملین ہے جبکہ سندھ کی آبادی 47.8 ملین ہے جو ہم سمجھتے ہیں کم دکھائی گئی ہے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑھتی آبادی سے روزگار کے ذرائع، صحت کی سہولیات، تعلیم، خوراک، رہائش وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ، ریپروڈکٹیو ہیلتھ رائیٹس بل، پاپولیشن پالیسی آف سندھ 2016 جیسے اقدامات کیے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -