کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ ایک بار پھر التوا کا شکار ،تجاوزات آپریشن ناکام

کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ ایک بار پھر التوا کا شکار ،تجاوزات آپریشن ناکام

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تجاوزات کے خلاف آپریشن معطل ہو جانے کے باعث ایک بار پھر التوا کا شکار ہوگیا ہے۔ نئی صورتحال نے منصوبے کو ناکامیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی اورسندھ حکومت کے اعلانات کے باوجود صرف 7 کلومیٹر کے رقبے پر قبضہ خالی کرایا جاسکا ہے اور 40 کلومیٹرز رقبے پر بلند ترین عمارات، کمرشل پلازے، شاپنگ سینٹرز اور دیگر رہائشی و کمرشل و کاروباری مراکز قائم ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کی مشترکہ حکمت عملی کے پیش نظر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جال بچھانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کو بھی حتمی شکل دی گئی تھی اور طے کیا گیا کہ تمام رکاوٹیں ختم کرکے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا جائے گااس مقصد کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں تجاوزات ختم کرنے کا آپریشن بھی شروع ہوا لیکن ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پٹڑی کے اطراف صرف 7 کلومیٹر تک کا علاقہ خالی کرایا جا سکا ہے۔ جبکہ 40 کلومیٹرز پر اب بھی انکروچمنٹ قائم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلوے پولیس میں کم و بیش دو ہزار جوانوں کی شدید کمی کا رونا رویا جارہا ہے جبکہ سندھ پولیس میں بھی نفری کی کمی اور دیگر رکاوٹیں حائل ہیں جس کے باعث منصوبے پر مزید کام رکا ہوا ہے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ حکومت سندھ اختر حسین غوری کے مطابق مقصد کی تکمیل میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کر دی جائیں گی اور مقررہ وقت کے اندر کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -