مبینہ سیاسی دباؤ،پولیس نے احمد شاہ کیخلاف مقدمہ ’’سی کلاس‘‘کر دیا

مبینہ سیاسی دباؤ،پولیس نے احمد شاہ کیخلاف مقدمہ ’’سی کلاس‘‘کر دیا

  

کراچی (کرائم رپورٹر) پولیس نے مبینہ سیاسی دباؤ کے نتیجے میں آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ کے خلاف خاتون رکن قندیل جعفری پر حملے اور تشدد کا مقدمہ ’’سی کلاس‘‘ کرکے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی۔23دسمبر کو آرٹس کونسل الیکشن کے موقع پر احمد شاہ اور ان کے حواریوں نے قندیل جعفری پر بہیمانہ تشدد کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی تھیں۔واقعہ کا مقدمہ اسی روز آرام باغ تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔قندیل جعفری نے مقدمہ سی کلاس کرنے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 23دسمبر 2018کو کراچی آرٹس کونسل کے الیکشن کے موقع پر جب جنرل باڈی اجلاس جاری تھا تو احمد شاہ اور ان کے حواریوں نے آرٹس فورم پینل سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن قندیل جعفری کو تقریر کرنے سے روکنے کے لیے ان پر حملہ کیا اور شدید زدو کوب کیا۔اس واقعہ کی تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ احمد شاہ گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد قندیل جعفری کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ اسی دوران قندیل جعفری کو بچانے کے لیے آنے والے سینئر صحافی نعیم طاہر پر بھی تشدد کیا گیا،جس کے بعد آرٹس فورم پینل نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا اور واقعہ کا مقدمہ آرام باغ تھانے میں درج کرادیا گیا تاہم پولیس نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرتے ہوئے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس روز ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور مقدمے کو سی کلاس کردیا ہے۔اس ضمن میں جب روزنامہ پاکستان نے مقدمہ کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ واقعہ کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی گئی ہے اور اس حوالے سے آرٹس کونسل میں انتخابات سے قبل جنرل باڈی اجلاس میں موجود کئی معززین کے بیانات بھی لیے گئے اور ان تمام افراد کا کہنا ہے کہ آرٹس کونسل کراچی میں الیکشن کے موقع پر اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔بیانات ہی کی روشنی میں عدالت میں مقدمہ سی کلا س کرنے کی رپورٹ جمع کرائی ہے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے مبینہ سیاسی دباؤ کے باعث مقدمے کی صحیح خطوط پر تفتیش نہیں کی اور احمد شاہ کی منشاء4 کے مطابق مقدمہ ختم کردیا ہے۔اگر واقعہ کی غیر جانبدارنہ طور پر تفتیش کی جاتی تو یہ بات واضح تھی کہ قندیل جعفری پر احمد شاہ کی ایماء پر حملہ کیا گیا تھا۔اس حوالے سے قندیل جعفری کا کہنا ہے کہ 23دسمبر کو آرٹس کونسل میں جو کچھ ہوا اس کے سیکڑوں افراد گواہ ہیں جبکہ واقعہ کی وڈیوز بھی موجودہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ احمد شاہ پینل سے تعلق رکھنے والے افراد ان کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس پہلے دن سے ہی ملزمان کا ساتھ دے رہی ہے پہلے تو آرام باغ تھانے کا ایس ایچ او مقدمہ ہی درج نہیں کررہا تھا ہمارے احتجاج کرنے پر ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ آئے اور انہوں نے ایس ایچ او کو حکم دیا کہ فوری مقدمہ درج کرو جس پر ایس ایچ او نے مقدمہ درج کیا، ہم نے جن ملزمان کے نام پولیس کو دہے تھے پولیس نے انہی ملزمان کی گواہی کو بنیاد بنالیا ، پولیس کا رویہ پہلے دن سے ہی میرے ساتھ ہتک آمیز تھا قندیل بلوچ نے مزید کہا کہ مقدمہ سی کلاس کرنے کے حوالے سے وہ تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -