سی پی ڈی آئی کا معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذکا مطالبہ

سی پی ڈی آئی کا معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذکا مطالبہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سی پی ڈی آئی کے صوبائی کوآرڈینیٹر سندھ توفیق وسان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن (سی آر ٹی آئی ) نے سندھ حکومت پر زور دیا ہے کے وہ سندھ شفافیت و معلومات تک رسائی کے قانون 2016 پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری محکموں میں پبلک انفارمیشن افیسرز کی تعیناتی اور سندھ انفارمیشن کمیشن کو فعال کرنے جیسے اقدامات بھی نہیں کیے جا سکے۔ سی آر ٹی آئی جو کہ 55 مختلف غیر سرکاری تنظیموں کا اتحاد ہے جو پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حق کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔سی آر ٹی آئی پارٹنرز، سی پی ڈی آئی کی پروگرام کوآرڈینیٹر مونس کائنات اور پاکستان پریس فاونڈیشن کے سیکریٹری جنرل اویس علی کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا گیا کے سندھ کے تمام سرکاری محکموں میں پبلک انفارمیشن افیسرز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور سندھ انفارمیشن کمیشن کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی جائے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کی نامزدگی جولائی 2018 میں عمل میں لائی گئی تھی جسے ابھی تک مالی اور انتظامی لحاظ سے مضبوط نہیں بنایا جا سکا۔ معلومات تک رسائی کے حق کے بارے میں عوام کو آگاہی نہ دینا اور ایک کمزور انفارمیشن کمیشن کی موجودگی میں عوام کے معلومات تک رسائی کے عمل کو روک دیا گیاہے۔مونس کائنات نے کہا کہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب حکومت کی طرح سندھ حکومت نے بھی مارچ 2017 کو سندھ شفافیت و معلومات تک رسائی کا قانون 2016 نافذ کیا۔یہ قانون نہ صرف بہترین قانون ہے بلکہ عالمی سطح پر معلومات تک رسائی کے قوانین کو جانچنے کے اہم معیاروں پر پورا اترتا ہے ان معیاروں میں معمولی لاگت پر معلومات کی دستیابی، زیادہ سے زیادہ از خود معلومات کی فراہمی، مستنثیات کی مختصر فہرست اور شکایات دور کرنے کا موثر نظام شامل ہیں۔سیکریٹری جنرل پاکستان پریس فاونڈیشن اویس علی نے کہا کہ معلومات تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے جسے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19۔ A کے تحت تحفظ حاصل ہے، انہوں نے سندھ آر ٹی آئی قانون پر عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تصدیق شدہ اور مستند معلومات ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ موجودہ حکومت اس وقت تک صرف دعوں تک محدود رہے گی جب تک وہ معلومات تک عام آدمی کی رسائی کو یقینی نہیں بناتی تاکہ حکومتی معاملات میں شہریوں کی رسائی کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -