کیسا گلہ ؟

کیسا گلہ ؟
کیسا گلہ ؟

  

وطنِ عزیز سے ہر قسم کی خبر پردیس میں رہنے والوں کے لئے اہم ہوتی ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی اور بڑھی ہے۔ غریب لوگ پہلے سے بھی زیادہ غریب ہو گئے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے تو دوسری طرف بیماریوں نے عوام کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ غریب عوام کے پاس کھانے کے پیسے نہیں۔ ایسے حالات میں اُنکا صحت کی طرف دھیان دینا عجیب لگتا ہے۔ تنگدستی بذات خود ایک بیماری ہے۔ ہر وقت کی سوچ بچار اچھے بھلے آدمی کو نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے۔ اُس کے بعد اعصابی کھچاؤ شوگر جیسی بیمار یاں کو جنم لیتی ہیں۔ پھر سارا جسم بیمار اور لا غر ہو جاتا ہے۔ دل کی بیماری اور گُردوں کی بیماری آدمی کو بستر پر گرا دیتی ہے۔ لہذا گھر چلانے وا لا فرد جس کی کمائی سے بمشکل گھر کا خرچہ چلتا ہے۔ بیمار پڑ جاتا ہے۔ جس کے لئے غریب خاندان کے پاس مالی وسائل نہیں ہوتے کہ وُہ بیمار آدمی کا مُناسب علاج کرو اسکیں۔بیان کردہ کہا نی ہر متوسط درجہ گھر کی کہانی ہے۔ بھوک، افلاس، بیروزگاری اور بیماری انسان کو بے بس کر د یتی ہیں۔ ایسے حالات میں ر شتہ داروں یا دوسروں سے امداد طلب کرنا بہت مُشکل ہوتا ہے۔ کیو نکی عزیز و اقارب بہانہ بنا کر محتاج اور مستحق رشتے دار کو ٹال دیتے ہیں۔ حکومت کے وسائل بھی محدود ہوتے ہیں۔

ہمارے مُلک کا ا لمیہ یہ ہے کہ ہمارے قومی بجٹ کا بڑا حصہ د فاع پر لگ جاتا ہے۔ اُس کے بعد جو کُچھ بچتا ہے اُسکو دوسرے شعبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بہت کم صرف کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان شعبوں پر ز یادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ مُلک کو ا قتصادی اور مالی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی بنیادی طور پرمنصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ دعوے ہر حکومت نے کئے ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ مُلک کو ایڈہاک بنیادوں پرچلا کر حُکمرانوں نے اپنے آپ کو کامیاب تصور کر لیا۔ یہ ایک ایسی خُوش فہمی ہے۔ جس کی کوئی بُنیاد نہیں۔ پہلی حکومتوں نے قرض حاصل کرنے کو ہی ا پنی کامیابی سمجھا ہے۔ حالانکہ حاصل شُدہ رقوم کو درست انداز میں خرچ کرنا ایک ایسی حکمت عملی جس کے فقدان سے مُلک کنگال سے کنگال تر ہوتا جاتا ہے۔

پاکستان میں قرضے حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیوروکریسی کے افسروں کو چھوٹ مل جاتی ہے کہ وُہ اس میں سے اپنا حصہ طلب کر سکیں۔ وُہ سرکاری ملازمتوں کے ساتھ ساتھ اپنا پراؤیٹ بزنس کھول لیتے ہیں جو ظاہر ہے اپنے نام نہیں ہوتا بلکہ ایک فرضی نام سے ہوتا ہے یا اُسکو آج کل بے نامی بھی کہا جاتا ہے۔ سر کاری افسر اپنے آپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے بے نامی کمپنیوں کو بڑے بڑے ٹھیکے الاٹ کروا لیتے ہیں۔ بولی بھی اپنی مرضی سے لگاتے ہیں اور ٹیکس کی چھوٹ حاصل کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ یا پھر بینک سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے جعلی کمپنیاں صرف کا غذوں میں کھولی جاتی ہیں۔ جن کے مقصد یہ ہوتا ہے سرکاری افسران اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ دھن کما سکیں۔ ایسی صورت میں مُلک کی معیشت کا سنبھلنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ مُلک میں معدودے چند ایسے لوگ ہیں جو ایماندای سے اپنا ٹیکس ادا کر تے ہیں۔ ورنہ ٹیکس چوری کرنا سب کا محبوب مشغلہ ہے۔ جو کسی وجہ سے ٹیکس پُوری ایمانداری سے ادا کرتا ہے اُس کو احمق سمجھا جاتا ہے۔ 

یہ بُری باتیں ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چُکی ہیں۔ جن کو ہم عیب نہیں سمجھتے بلکہ ٹیکس چوری کرنے کو ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جب مُلک کی کمائی نہیں ہو گی تو خزانے کا خالی ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے کے لئے قسمیں اٹھانے سے زیادہ ہمیں اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ہی اپنے مُلک سے مخلص نہیں تو ہم دوسرے سے کیا گلہ کر سکتے ہیں؟۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے مُلک سے مخلص ہیں ؟ کیا ہم اس کے وفادار ہیں؟ ہم نے اپنے طور پر مُلک سنوارنے کے لئے کیا کیا ہے؟ جب آپ اپنے سے سوال کریں گے تو آپ کو شر مندگی ہوگی۔ تاہم ہر حکومت کی خو اہش ہوتی ہے کہ عوام اُسکی کار کردگی کو بہتر سمجھیں اور عوام میں وُہ حکومت مقبول ہو۔ لیکن عوام کی بھلائی کے لئے مستقل بنیادوں پر مثبت انداز میں کام کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں غر یبوں کے معالجے کے لئے صحت کارڈز کا اجراء شروع ہو چُکا ہے۔ غریب خاندان اس کارڈ سے سات لاکھ بیس ہزار روپے تک علاج مُفت کر واسکیں گے۔ وُہ لوگ جو فوری طبی سہولت کے فقدان سے پریشان تھے، اُن کے لئے یہ سہولت بڑی نعمت ہے۔ عمران خان کی حکومت نے غریب عوام کی صحت کے بارے میں عملی قدم اُٹھا کر غریب لوگوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ہیلتھ کارڈ سکیم سارے مُلک کے عوام کے لئے بھی ایک دن میسر ہو گی۔ یہ ایک اچھا اور بر وقت قدم ہے جو کہ دُرست سمت میں اُٹھایا گیا ہے۔ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ