شادی بیاہ کی رسموں کا بائیکاٹ 

شادی بیاہ کی رسموں کا بائیکاٹ 
شادی بیاہ کی رسموں کا بائیکاٹ 

  

عصرحاضر میں جنگ و جدال کے طریقہ کار یکسر بدل چکے ہیں۔ اب دشمن کو نسل در نسل شکست سے دوچار کرنے کیلیے اسلحہ و بارود کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے ۔ایٹمی جنگیں نہیں ہوتیں بلکہ زیادہ تر معاشی و ثقافتی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔۔۔ کسی قوم کے فکر و نظریات بدل کر قومی غیرت و حمیت کا بحران پیدا کیا جاتا ہے اور دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے مسائل کے گرداب میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ ہم ہندؤں کو مسلمانوں کا ازلی دشمن تو سمجھتے ہیں لیکن ان کی ثقافتی سرگرمیاں بالخصوص شادی بیاہ کی رسومات تیل، مہندی، نیوندرا گوڈا پھڑائی، دودھ پلائی اور جوتا چھپائی فرض سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں

بدقسمتی سے ہمارے ہاں شادیوں پر ایسی فضول اور غیر شرعی رسومات کو عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے اور خوشی و مسرت کے نام پر بے پردگی و بے حیائی کی حدیں عبور کیے ہوئے مرد و زن کے مخلوط پرگروامز اور ساری ساری رات بیہودہ ناچ گانا بھی چلتا ہے۔۔۔ لاکھوں روپے شادی ہالوں کی بکنگ اور کھانوں کے پرتکلف انتظامات پر بیدریغ اڑا دیے جاتے ہیں۔ سارے خاندان ہر تقریب میں شرکت کیلیے الگ سے کپڑوں کی شاپنگ پر ہزاروں لاکھوں کا خرچہ الگ سے ہوتا ہے۔۔۔ مووی و فوٹوگرافی کا خصوصی انتظام بھی فرض سمجھا جاتا ہے۔۔۔ برادری میں نمود و نمائش، جھوٹی عزت اور ناک بچانے کی خاطر جن کے پلے کچھ نہیں ہوتا وہ بھی بھاری بھرکم قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔۔۔ بعدازاں جب قرض لینے والے دروازے پر آکر واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں تو جھوٹی عزت کا خیالی مینار ریت کے گھروندے کی طرح دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔۔۔ پھر سارا محلہ و برادری تماش بین ہوتے ہیں اور چسکے لے لیکر تبصرہ بازی کرتے ہیں۔۔۔ پھر مشکل وقت میں معاون و مددگار کوئی نہیں بنتا۔ سمجھ نہیں آتا ہے کہ آخر ایسی کیا مجبوری ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت جسے دو وقت کی عزت کی روٹی بھی میسر نہیں۔۔۔ وہ ان غیر ضروری و غیر شرعی رسومات کا طوق گلے سے کیوں نہیں اتار پھینکتی۔۔۔ جس کی نحوست کی وجہ سے چار دن کے جشن کے بعد عزت کا جنازہ دھوم سے نکلتا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری نے ایک بار اپنے خطاب میں شادی بیاہ کی تیل مہندی جیسی فرسودہ و بیہودہ رسومات منانے سے اتنے احسن انداز میں منع فرمایا کہ ہماری فیملی نے اسی دن یہ عزمِ مصمم کیا اور اصولی فیصلہ کر لیا کہ آج کے بعد ہم سب کسی صورت بھی غیر اسلامی و غیر اخلاقی ہندؤانہ رسومات کا حصہ نہیں بنیں گے۔ چچا سمیت ہمارے سارے خاندان نے گذشتہ 23 سال سے ہمیشہ کیلیے تیل مہندی جیسی تقریبات کرنا یا کسی کے ہاں شرکت کا بھی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔۔۔ ہمارے کسی بھائی بہن کی شادی پر یہ ہندؤانہ رسم نہیں منائی گئی۔۔۔ اب تک ہمارے گھرانے میں 9 شادیوں ہوچکی ہیں جن کی تیل مہندی کی رسم بالکل نہیں کی گئی اور درجنوں شادیاں عزیز و اقارب کے ہاں ہوئیں لیکن کسی کے ہاں بھی ایسی فضول تقریبات میں شرکت نہیں کی۔۔۔ یقین مانیں کوئی قیامت نہیں آئی بلکہ راحت ملی ہے۔۔۔ اب تو عرصہ دراز ہوا کہ ان فضول و بیکار رسومات میں ہماری غیر حاضری پر کوئی معترض بھی نہیں ہوتا۔ سب کو بخوبی پتہ ہے۔۔۔ شروع شروع میں کچھ مسائل پیدا ہوئے تھے کسی کو ناراضگی کا بخار تو کوئی بحث و تکرار پر اتر آیا اور جب عدم دلائل کی وجہ سے مناظرانہ شکست کا سامنا ہوا۔۔۔ تو کچھ جاہلوں نے ہم پر وہابی ہونے کا الزام تک لگا دیا۔ ہر وقت دوسروں کو برا بھلا کہنے سے کہیں بہتر ہیکہ کسی برائی یا فرسودہ رسم و رواج کے خاتمے میں پہلے ہم خود مثال بنیں تاکہ ہماری بات میں وزن اور زبان میں تاثیر پیدا ہو۔

قارئین! میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے امراء اور صاحب حثیت لوگوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلامک کلچر کو فروغ دینے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔۔۔ آج نکاح جیسے مقدس فریضہ کو آسان اور سستا بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے بے حیائی اور بیراہروی کا قلع قمع ہو سکے۔۔۔ شادی و ولیمہ کے علاوہ تمام رسومات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔۔۔ شادی سے پہلے بس منگنی و نکاح کی حسب ضرورت سادہ سی تقریب ہو تو غریب و متوسط عوام کیلیے آسانی پیدا ہوگی۔۔۔ احساس محرومی ختم ہوگا اور برادری کی طعنہ زنی سے بچ جائیں گے۔۔۔ سفید پوش اور کمزور طبقہ ہمیشہ کھاتے پیتے گھرانے کی پیروی کی کوشش کرتا ہے جس سے متعدد مسائل جنم لیتے ہیں بہت سے لوگ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں یا خواہشات و رسومات کی تکمیل کیلیے جائز و ناجائز حربوں سے مال اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوف خدا رکھنے والے حلال و حرام کی تمیز کرکے روزی روٹی کمانے والوں کی بیٹیوں کے بروقت ہاتھ پیلے نہیں ہوتے۔۔۔ شادی کی عمر ڈھل جاتی ہیں۔۔۔ غریب والدین کے گھر خوابوں کے شہزادے دولہا بن کر نہیں آتے اور جوان بہنوں بیٹیوں کے بالوں میں چاندی آجاتی ہے۔۔۔ رفتہ رفتہ سہانے خواب ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔ چنانچہ بیٹی کیلیے جہیز اکٹھا کرنے اور ظالمانہ رسم و رواج کی تکمیل کیلیے پائی پائی اکٹھے کرتے کرتے بیچارے والدین اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔۔۔ دینی حدود کا خیال رکھتے ہوئے ایک مناسب حد تک بینڈ باجاجا اور خوشی منانا جائز ہے۔۔۔ اتنی سادگی اور خاموشی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ برات اور جنازے میں کوئی فرق ہی نہ رہے۔۔۔ سادگی سے نکاح کو ’’جنازہ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن قرض لے کر دھوم دھام سے شادی کرنے والے غریب والدین کا اکثر ’’جنازہ‘‘ تو ویسے ہی نکل جاتا ہے۔

آخر کوئی تو بارش کا پہلا قطرہ بنے جو ان غیر اسلامی فضول رسم و رواج پر لعنت بھیج کر سادگی کو اپنا لے۔۔۔ اسلام نے شادی کے بعد لڑکی کو علیحدہ رہائش کا حق دیا ہے اگر لڑکا یا لڑکی کے خاندان والے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کو تجاویز دے کر سادگی سے نکاح کر لیں اور پیلا جوڑا، تیل، مہندی، سونا، کپڑے، سلامی، مقلاوہ وغیرہ پر جتنا خرچ آتا ہے اس کو بچا کر دلہا دلہن کو دو یا تین مرلے کا مکان لے دیں تو ساری زندگی کیلیے ان کا بھلا ہو جائے گا۔۔۔ آئندہ مشترکہ فیملی سسٹم کی کھچا تانی اور جھگڑوں سے خونی رشتوں کا تقدس بھی پامال نہ ہوگا۔۔۔ خاندان میں عمر بھر محبت و احترام کا رشتہ بھی قائم رہے گا۔ والدین کو اپنی اولاد اور جہاں رشتہ کیا جا رہا ہے ان سے سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ وقتی معاشرتی دکھاوا، رونق اور دل بہلاوے کو چھوڑ کر ساری زندگی کا فائدہ لیا جائے۔ جنھیں اللہ تعالی نے وافر مال و دولت اور جائیدادوں سے نوازا ہے لمبے چوڑے جہیز اور نمود و نمائش کی بجائے وراثت میں سے بیٹی کا حصہ دے کر اپنے جیتے جی فرض ادا کر دیں تو زیادہ بہتر ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ