اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 127

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 127

  

پھر خبر ملی کہ بادشاہ لکھنوتی بغاوت کو فرو کرنے کے بعد دہلی واپس آگیا ہے۔ خان رشید نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنے باپ سے ملنے اور لکھنوتی بغاوت رفع ہونے پر مبارک باد دینا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہم ملتان سے عازم دہلی ہوگئے۔ 

خان رشید اپنے والد کے لئے بہت سے گراں بہا تحفے بھی ساتھ لے گیا تھا دہلی کے شاہی محل میں پہنچ کر خان رشید نے یہ تحفے اپنے باپ کی خدمت میں پیش کئے۔ بادشاہ اپنے بیٹے کی آمد اور سعادت مندی پر بہت خوش ہوا اور اس سے پدرانہ شفقت سے پیش آیا۔ ہم نے دہلی شہر میں ایک بے چینی سی پائی۔ حقیقت حال یہ تھی کہ لکھنوتی کی بغاوت فرو کرنے کے بعد بلبن اپنے ساتھ وہاں سے باغیوں کی ایک بھاری تعداد بھی گرفتارکرکے لایا تھا، بادشاہ کے حکم سے چوراہوں میں پھانسیاں گاڑ کر ان سب باغیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جانے والا تھا۔ ان باغیوں میں بہت سے اہل شہر عزیز اور رشتے دار بھی تھے اور دہلی کے یہ شہری اپنے عزیزوں کے انجام پر آہ و زاری کررہے تھے۔ شہر کے ہر چوتھے گھرمیں سے نالہ و شیون کی آواز بلند ہورہی تھی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 126 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاضی شہر ایک متقی اور پرہیز گار شخص تھا اس سے شہریوں کو یہ مصیبت اور پریشانی نہ دیکھی گئی۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر بلبن کے دربارمیں پیش ہوگیا اوربادشاہ کو پرسوز اور پراثر انداز میں شہریوں کے الم سے آگاہ کیا۔ متقی و پرہیز گار قاضی شہر کی گفتگو نے بلبن کے دل پر اثر کیا اور اس نے تمام باغیوں کی جان بخشی کردی اسی زمانے میں مغلوں کی ہنگامہ آرائیاں تیز تر ہونے لگیں۔ بادشاہ نے خان رشی دکو کچھ اور نصیحتیں کرکے ملتان جانے کی اجازت دی اور خود مغل حملہ آوروں کی سرکوبی کے لئے شمال کی طرف روانہ ہوگیا۔

میں بھی خان رشیدکے ساتھ ملتان واپس آگیا۔ ملتان کے شمال مغربی علاقوں پر مغل ڈاکوؤں نے غارت گری کا بازار گرم کررکھا تھا۔ خان رشید نے ان ڈاکوؤں کا تہہ تیغ کرکے ان کے قبضے سے سارے علاقے واپس لے لئے۔ ان دنوں ایران کے تخت پر ارغون خان بن ایاق بن ہلاکو خان بیٹھا تھا اور نامی گرامی تاتاری امیر تیمور خان، ہرات، قندھار، بلخ، بدخشاں، غزنی اور بامیان کا حاکم تھا۔ وہ خان رشید سے اپنے ہم قوم مغلوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بیس ہزار تاتاریوں کا لشکر لے کر دیپالپور کے علاقے میں آن وارد ہوا۔ اور وہاں لوٹ مار مچانے کے بعد ملتان کی طرف بڑھا۔

خان رشید کو امیر تیمور خان کی آمد کی خبر ملی تو اس نے جنگ لڑنے کی تیاری شروع کردی۔ میرا دل جانے کیوں شہزادے کی طرف سے بوجھل بوجھل سا تھا۔ میں اسے جنگ پر جانے سے روک بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک بہادر بادشاہ کا جری اور لائق بیٹا تھا اور اپنے ملک کی رعایا کے جان و مال کی حفاظت اس پر فرض تھی لیکن میرا دل بار بار مجھے کہتا کہ شہزادے کو اس جنگ میں خود نہیں جانا چاہیے لیکن جانے کیا بات تھی کہ میں شہزادے کے اتنا قریب اور اس کے مزاج میں اس قدر دخل رکھنے کے باوجود جب بھی اسے کچھ کہنا چاہتا تو میری زبان ساتھ نہ دیتی الفاظ میرے منہ میں ہی تحلیل ہوجاتے۔ شاید یہ اشارہ ایزدی تھا کہ میدں خاموش رہوں۔

شہزادہ خان رشید نے صبح سویرے ملتان سے کوچ کیا اور آپ لاہور (راوی) کے کنارے جو ملتان کے ساتھ چلتا تھا ڈیرے ڈال دئیے اور دوپہر کے وقت کے وقت تیمور خان سے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا میں شہزادہ خان رشیدکے ساتھ تھا دوسری جانب تیمور خان نے دریا کو پار کرنے کے بعد اپنی فوج کے میمنہ، میسرہ اور قلب کو تربیت دی اور حملہ کردیا۔ گھمسان کارن پڑنے لگا۔ مین خان رشید کے دستہ خاص میں تھا اور اس کی حفاظت پر مامور تھا۔ خان رشید کی فوج نے بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ تیمور خان کی فوج کے چھکے چھوٹ گئے۔ نامی گرامی تاتاری سرداروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ تیمور خان کی فوج کو شکست ہوئی۔ جب تاتاری سپاہی میدان چھوڑ کر بھاگے تو خان رشید کی فوجوں نے دریا پار کرکے ان کا تعاقب شروع کردیا۔ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔

مشیت ایزدی کو شاید یہی منظور تھا اور عظیم المرتبت نیک نفس شہزادے کا آخری وقت قریب آچکا تھا۔ شہزادے نے نماز ظہر کے لئے دریا کے کنارے جا نماز بچھائی اور اپنے پانچ سو جانثارون کے ساتھ نماز پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ میں بھی اس کے پہلو میں اگلی صف میں نماز پڑھ رہا تھا۔ عین اس وقت دو ہزار تیموری سپاہیوں نے جو کمین گاہ میں چھپے ہوئے تھے نکل کر اچانک حملہ کردیا۔ میں نے فوراً اپنے دوست شہزاد خان رشید کو اپنے حصار میں لے لیا۔ میں اس کے عین سامنے آن کھڑا ہوا کیونکہ دشمن کا زور سامنے کی جانب زیادہ تھا پھر ایک ایسی بات ہو ئی جس پر آج بھی میں حیرت زدہ ہوکر رہ جاتا ہوں۔سامنے سے کسی تیموری سپاہی کا ایک فولادی تیر سنسناتا ہوا آیا اور سیدھا خان رشید کی چھاتی میں آکر پیوست ہوگیا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ مجھے یقین ہے کہ تیر سب سے پہلے میرے سینے پر آکر لگا تھا کیونکہ میں شہزادے خان رشید کے آگے کھڑا تھا۔ تو کیا یہ تیر میرے سینے سے پار ہونے کے بعد خان رشید کے دل میں پیوست ہوگیا تھا۔ یقین نہیں آتا تھا۔ مگر گمان ہے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا کیونکہ میرے دوست کا وقت آخر آن پہنچا تھا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی موت کو ٹال نہیں سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میرا آہنی حصار بھی شہزادے کے کچھ کام نہ آیا اور وہ میری بانہوں میں دم توڑ گیا۔ اس دوران تاتاری ہمارے کچھ سپاہیوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ ان گرفتار شدگان میں امیر خسروؒ بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی ایک تصنیف، خضر فانی او ردیواری‘‘ میں اپنی اس قید اور بعد میں رہا ئی کی روداد بیان بھی کی ہے۔

غیاث الدین بلبن کو اپنے فرزند ارجمند کی موت کی خبر ملی تو اس پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کی عمر 80 برس کی ہوچکی تھی۔ اس بڑھاپے میں اولاد کے غم نے اسے بستر سے لگادیا۔ بیٹے کی دائمی مفارقت سے اس کی حالت نازک صورت اختیار کرگئی۔ اس نے مجھے اپنے پاس دہلی بلوالیا تھا۔ مجھے وہ اپنے مرحوم بیٹے کی نشانی سمجھ کر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اگرچہ بظاہر بلبن راضی برضا تھا اور یہی کہہ کر اپنے آپ کو حوصلہ دیتا کہ خدا کو ایسا ہی منظور تھا لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ تنہائی میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے بیٹے کو یاد کرتا تھا اور زار و قطار روتا تھا۔ آہ و فریاد کرتا تھا۔ اپنی اس حالت کو دیکھتے ہوئے اس نے لکھنو سے اپنے دوسرے بیٹے بغرا خان کو بلالیا۔ بغرا خان جلد از جلد سفر کی منزلیں طے کرتا ہوا دہلی پہنچا۔ باپ کی حالت دیکھ کر ملال ہوا اور باپ کو تسلی دی۔ بلبن کی کمزوری نے شدید بیماری کی صورت اختیارکرلی تھی۔بغرا خان باپ کی پائنتی کے پاس ادب سے فرش پر بیٹھا تھا۔ میں بھی ساتھ ادب سے کھڑا تھا۔ شاہی طبیب بھی موجود تھے۔ بلبن نے اشارے سے شاہی طبیب کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا۔ شاہی طبیب کو رنش بجالاکر چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ بلبن چونکہ اپنے بیٹے سے امور سلطنت کے بارے میں کوئی اہم بات کرنے والا ہے اس لئے شاید مجھے بھی وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کرے لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ اپنے چہیتے بیٹے خان رشید کی وفات کے بعد اسے مجھ سے بڑا لگاؤ ہوگیا تھا۔ اس نے بغرا خان کی طرف اپنا کمزور شاہانہ چہرہ اٹھا کر کہا۔

’’میرے بیٹے! تمہارے بھائی کے غم نے مجھے گور کنارے پہنچادیا ہے۔ میں موت کے قریب پہنچ گیا ہوں۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے خان رشید کے بعد سلطنت کا تمہارے سوا اور کوئی وارث نہیں۔ ایسی حالت میں تمہارا مجھ سے دور رہنا کسی طرح مناسب نہیں۔ تمہارا بیٹا کیقباد اور خان رشید کا بیٹا کیخسرو دونوں ابھی نوعمر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی کے ہاتھ حکومت آگئی تو خدا ضانے وہ اپنی ناتجربہ کاری اور جوش جوانی کے باعث کیا کچھ کریں۔ تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لکھنو کے حاکم کو ہر حالت میں دہلی کی اطاعت گزای کرنی چاہیے اور اگر تم بھی سلطنت دہلی پر بیٹھو تو تمہیں چاہیے کہ لکھنو کے حاکم کو اپنا مطیع اور باجگزار بنائے رکھو۔ ان حالات کے پیش نظر میں تم سے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے دور نہیں رہنا چاہیے۔‘‘

پھر بلبن نے میری طرف نظر ڈال کر بغرا خان سے کہا

’’امیر عبداللہ اگرچہ نوجوان ہے مگر سچا اور وفادار دوست اور سلطنت کا خیر خواہ ہے، اس کی صورت میں مجھے خان رشید کی صورت نظر آتی ہے اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا۔‘‘

بغرا خان اپنے باپ کی بات کو سمجھ گیا اور دہلی ہی میں مقیم ہوگیا۔ چند روز بعد بلبن کی طبیعت سنبھلنے لگی۔ یہ دیکھ کر بغرا خان کو باپ کی طرف سے اطمینان ہوگیا اور وہ شکار کے بہانے بلبن سے اجازت لئے بغیر ہی لکھنو کی طرف روانہ ہوگیا۔ بلبن کو بغرا خان کی اس جدائی کا اپنے بیٹے خان رشید کی موت ایسا ہی صدمہ پہنچا۔ بغرا خان ابھی لکھنو پہنچا ہی تھا کہ بلبن کے مرض نے پھر اس پر حملہ کردیا۔ بلبن کو یقین ہوگیا کہ اب اس کا زندہ رہنا بہت مشکل ہے اور وہ چند گھڑیوں کا مہمان ہے اس نے فوراً خان رشید کے بیٹے کیخسرو کے پاس آدمی بھیجے اور اسے بلوا کر اپنا ولی عہد مقرر کردیا۔ جب بلبن چند لمحوں کو مہمان رہ گیا تو اس نے وزیر الملک وکیل السطنت اور فخر الدین کوتوال کو اپنے پاس بلا کر کہا’’تم لوگ یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں شہزادہ بغرا خان سے ہمیشہ ناخوش اور آزردہ رہا ہوں۔ اس کے برعکس میں خان رشیدسے ہمیشہ خوش اور راضی رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خان رشید میری ہر بات مانا کرتا تھا اور میرے ہر حکم کی تعمیل کرتا تھا۔ وہ میرے کسی فرمان سے ذرا سی بھی تجاوز نہیں کرتا تھا لیکن بغرا خان نے کبھی میری بات نہیں مانی۔ وہ ہمیشہ میرے احکام کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور اگر اس نے میری کوئی بات مانی بھی ہے تو محض خان رشید کے خوف سے۔ مجھے باپ اور واجب الاطاعت سمجھ کر اس نے کبھی میرا کہا نہیں مانا۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں نے اپنی علالت کے زمانے میں بغرا خان کو لکھنو سے بلوا کر یہاں دہلی میں رہنے کی تاکید کی اور اسے اپنا ولی عہد مقرر کیا لیکن افسوس کہ اس نے میرے اس آخری حکم کی تعمیل بھی نہ کی۔ اس صورت حال میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ بغرا خان کو ولی عہدی سے معزول کردوں اور کیخسرو کو اپنا جانشین مقرر کردوں۔ میرے بعد تم لوگ کیخسرو کو اپنا بادشاہ منتخب کرلینا اور کسقباد کو اس کے باپ کے پاس لکھنو بھیج دینا۔‘‘

کوتوال فخر الدین اور دوسرے امراء نے بادشاہ سے اس وصیت پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ اس کے بعد غیاث الدین بلبن انتقال کرگیا۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 128 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار