اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 90

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 90
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 90

  

ایک دفعہ ایک دیوانہ شیخ امانؒ پانی پتی کے پاس آیا اور کہا ’’امان! اسی وقت میرے لیے آسمان سے ہزار گائیں اتری تھیں اور ابھی مغلوں نے سب چھین لیں۔ تم ذرا میرے ساتھ چلو اور ان سے میری گائیں دلوادو‘‘

حاضرین مجلس نے مضحکہ اُڑایا۔ آپ نے ان کو منع کیا۔ آپ نے درویش کی خدمت کی اور کھانا حاضر کیا ور پانی دیا۔

درویش نے کھانا کھایا اور پانی پی کر سورہا۔ تب اس کی وہ حالت جاتی رہی اور چلا گیا۔ پھر آپ نے اپنے یاروں سے کہا ’’مجذوبوں کو چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ تم کیسے انکار کرتے ہو۔ عالم خودی سامنے نہیں ہے۔ کیا عجب اگر اس کو ایسے ہی دکھلایا گیا ہو۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 89 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ملا نور محمد نارنولیؒ نے فرمایا کہ ایک دفعہ مسجد میں کچھ محتسب بیٹھے ہوئے تھے اور صبح کی نماز کا وقت تھا۔ سلطان جلال الدینؒ قریشی آئے اور صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور نماز کی نیت باندھ لی۔

لوگوں کو ان کی یہ حرکت ناگوار معلوم ہوء ی پھر چونکہ نماز کا وقت تنگ تھا۔ اور انہوں نے لمبی قرأت پڑھی اور نماز بھی ننگے سر اد اکی۔ لہٰذا اس کو وجہ الزام بنا کر لوگ ان سے بحث کرنے لگے۔انہوں نے فقر کی اتنی رواتیں پڑھیں کہ سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ آخر میں اس حدیث کا ذکر کیا

ترجمہ: ’’جو مجھے دل میں یاد کرتا ہے، مَیں بھی اس کو دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو مَیں اس سے بہتر مجلس میں اس کو یاد کرتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد بے اندازہ کلام کیا۔ اس کے ساتھ ہی اُٹھ کر جنگل کی جانب روانہ ہوگئے۔

***

حضرت امام ابو حنیفہؒ کے بیٹے حماد نے سورہ فاتحہ مکمل پڑھ لی تو امام ابو حنیفہؒ کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ امام نے فوراً معلم کو بلوابھیجا۔ وہ آیا تو امام صاحبؒ نے بڑے ادب و احترام سے اس کی خدمت میں ایک ہزار درہم کی تھیلی پیش کی اور استدعا کی ہ اسے قبول کرلیا جائے۔

معلم نے تھیلی ہاتھ میں لے کر کہا ’’محترم امام! میں حیران ہوں کہ آپ کے صاحبزادے حماد کو سورہ فاتحہ ختم کراکے میں نے کون سا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ آپ مجھے اتنی بڑی رقم عطا فرمارہے ہیں۔‘‘

یہ سن کر حضرت ابو حنیفہؒ نے معلم کو جواب دیا ’’تم نے میرے بیٹے کو سورہ فاتحہ ختم کراکر حقیقتاً ایک بڑاکارنامہ سرانجام دیا ہے کیونکہ میری رائے میں علم سے واقف کرانا ایک روشن کارنامہ ہے۔ خدا کی قسم اگر اس وقت میرے پاس ایک ہزار درہم سے زائد رقم ہوتی تو مَیں بلا تاخیر ساری کی ساری تمہیں دے ڈالتا۔‘‘

***

حضرت شاہ ابوالمعالیؒ اپنے پیرومرشد روشن ضمیر اور عم محترم جناب شیخ داؤدؒ شیر گڑھی کی خدمت میں تیس برس رہ کر لاہور تشریف لائے اور سلسلہ رشد و ہدایت کا آغاز کیا۔ نیز کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق جب شیر گڑھ سے لاہور کا سفر اختیار کیا تو راستہ میں جہاں جہاں آپ ٹھہرے وہاں مسافروں کی سہولت کے لیے جابجا کنویں باغیچے اور پختہ تالاب بناتے چلے گئے۔

***

ایک دن حضرت غوث الاعظمؒ وعظ فرمارہے تھے۔ حضرت شیخ علی بن ہتیبیؒ آپ کے قریب بیٹھے تھے کہ ان کی آنکھ لگ گئی۔

غوث الاعظمؒ نے اہل مجلس سے کہا کہ چپ ہوجاؤ۔ آپ خود بھی منبر سے نیچے اتر آئے اور شیخ کے سامنے باادب ایستادہ ہوگئے۔ پوری توجہ سے شیخ کو دیکھتے رہے جب شیخ نے آنکھیں کھولیں تو غوث الاعظمؒ نے دریافت کیا ’’ کیا رسول پاک ﷺ کو آپ نے خواب میں دیکھا ہے۔‘‘

انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا ’’میں آنحضرت ﷺ کے احترام کے لیے کھڑاہوگیا تھا۔

آپ نے شیخؒ سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ نے کن کن باتوں کی تلقین فرمائی ۔

انہوں نے کہا ’’اس بات پر زور دیا ہے کہ مَیں آپ کی صحبت میں رہوں۔‘‘

بعدازاں شیخ علی ہتیبیؒ سے بعض اشغاص نے پوچھا کہ غوث الاعظمؒ کے اس ارشاد کا کیا منشا ہے کہ ’’من ازبرائے باادب آں ایستادہ بودم‘‘

جواب میں ارشاد فرمایا ’’میں جو کچھ خواب میں دیکھ رہا تھا، غوث الاعظمؒ اس کا مشاہدہ بیداری میں فرمارہے تھے۔‘‘

***

ایک دفعہ حضرت شیخ ابو سعید قیلویؒ طہارت کے لیے تشریف لیے جاتے تھے۔ پانی کا لوٹا کسی مرید کے ہاتھ میں تھا۔ اتفاقاً لوٹا ہاتھ سے چھوٹا اور گر کر ٹوٹ گیا۔ حضرت نے ٹوٹے ہوئے لوٹے کو درست کردیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ خود بخود پانی سے لبریز بھی ہوگیا۔ چنانچہ آپ نے اسی سے وضو فرمایا۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 91 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے