”وہ مجھے مار ڈالیں گے “ اساتذہ کے تشدد سے بیہوش ہونے والا طالبعلم ہوش میں آیا تو ماں کو بھی نہ پہچان سکا

”وہ مجھے مار ڈالیں گے “ اساتذہ کے تشدد سے بیہوش ہونے والا طالبعلم ہوش میں ...
”وہ مجھے مار ڈالیں گے “ اساتذہ کے تشدد سے بیہوش ہونے والا طالبعلم ہوش میں آیا تو ماں کو بھی نہ پہچان سکا

  

ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) الوداعی پارٹی کیلئے 500 روپے کا فنڈ نہ دینے والے طالب علم کو تین اساتذہ نے پرنسپل آفس میں شدید تشدد کے بعد باندھ کر جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ طالبعلم کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اساتذہ کے تشدد سے بیہوش ہوگیا اور جب ہوش میں آیا تو اپنی ماں کو ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔

ملتان کے ایم اے جناح سکول میں میٹرک کے 17 سالہ طالبعلم احمر کیلئے استاد جلاد بن گئے۔ تین اساتذہ نے طالبعلم کو پارٹی کیلئے فنڈ نہ دینے پر پرنسپل آفس میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اساتذہ نے طالبعلم پر اتنا تشدد کیا کہ وہ بیہوش ہوگیا، جس کے بعد جلاد صفت اساتذہ نے طالبعلم کو باندھ کر جھاڑیوں میں پھینک دیا۔

متاثرہ طالبعلم احمر کا کہنا ہے کہ پرنسپل آفس میں اس پر سجاد لاشاری، سجاد یاسین اور پرنسپل نے تشدد کیا ۔ تینوں اساتذہ نے کان پکڑوا کر لاتوں ، گھونسوں اور ڈنڈوں سے تشدد کیا۔ طالبعلم کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کو احمر کے ایک ساتھی نے فون کرکے واقعے کے بارے میں بتایا جس کے بعد وہ اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ وہاں پہنچیں۔ ’ میں نے احمر کو بیہوش حالت میں جھاڑیوں میں دیکھا ، جس کے بعد میں نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور پانی پلایا، جب احمر ہوش میں آیا تو وہ مجھے بھی نہیں پہچان رہا تھا اور مسلسل چیخ رہا تھا کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔

خیال رہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے طالبعلم کی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں اساتذہ کے تشدد کے بعد اس پر پڑنے والی منفی نفسیاتی اثرات کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں طالبعلم اپنے گھر پر موجود ہونے کے باوجود انتہائی ڈرا ہوا اور مسلسل روتا نظر آرہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے کس قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مزید :

انسانی حقوق -علاقائی -پنجاب -ملتان -