” پولیس نے مجھے گرفتار کرکے آئی ایس آئی کے بارے میں یہ جھوٹی بات پھیلائی“ پی ٹی ایم رہنما گلالئی اسماعیل نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے اہم انکشاف کردیا

” پولیس نے مجھے گرفتار کرکے آئی ایس آئی کے بارے میں یہ جھوٹی بات پھیلائی“ پی ...
” پولیس نے مجھے گرفتار کرکے آئی ایس آئی کے بارے میں یہ جھوٹی بات پھیلائی“ پی ٹی ایم رہنما گلالئی اسماعیل نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے اہم انکشاف کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی متحرک رہنما گلالئی اسماعیل نے کہا ہے کہ انہیں آئی ایس آئی نے حراست میں نہیں لیا بلکہ پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے یہ تاثر قائم کیا گیا اور ان کے گھر والوں کو بھی یہی بتایا گیا کہ انہیں آئی ایس آئی نے گرفتار کیا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی متحرک رہنما گلالئی اسماعیل کو پولیس نے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ جرمن ٹی وی ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے گلالئی اسماعیل نے اس تاثر کی نفی کی کہ انہیں آئی ایس آئی نے حراست میں لیا تھا۔ ’ مجھے پولیس نے حراست میں لیا اور ویمن تھانے میںرکھا، میرے گھر والوں کو میرے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ میں آئی ایس آئی کی حراست میں ہوں، میرے گھر والوں نے جی 7 ویمن تھانے سے میرے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ مجھے آئی ایس آئی والے صبح 4 بجے اٹھا کر لے گئے ہیں‘۔

گلالئی اسماعیل نے کہا کہ انہیں حراست میں لیے جانے کے بعد ویمن تھانے میں رکھا گیا جس کے بعد اگلے دن صبح 9 بجے انہیں قریب موجود خواتین کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں بند کردیا گیا۔ اس دوران باہر یہی مشہور کیا گیا کہ انہیں آئی ایس آئی نے اٹھایا ہے۔

گلالئی اسماعیل نے اپنی رہائی کے بارے میں بتایا کہ پولیس والے انہیں ایک گاڑی میں ڈال کر 6 بجے سے 11 بجے تک سڑکوں پر گھماتے رہے ۔ ’ ’میں گاڑی سے زیادہ نہیں دیکھ پارہی تھی لیکن ایک جگہ میں نے بورڈ پر لکھا دیکھا ’ویلکم ٹو اڈیالہ‘ اس کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے اڈیالہ جیل لے جایا جارہا ہے لیکن ساڑھے 11 بجے مجھے جی سیون پولیس سٹیشن واپس لایا گیا اور کہا گیا کہ عمران خان کے خصوصی حکم پر آپ کو رہا کر رہے ہیں“۔

خیال رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی کارکن گلالئی اسماعیل کو منگل کی شام اسلام آباد سے دیگر افراد کے ساتھ اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ وہاں اپنی جماعت کے ایک رکن ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے میں شریک تھیں۔ بعد ازاں ان کی گمشدگی کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی گرفتاری کا ملبہ آئی ایس آئی پر ڈالا جاتا رہا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -