اپنے ہی کم عمر بچوں سے چند پیسوں کے عوض جسم فروشی کرانے والے والدین گرفتار، بچوں کو کیسے گاہکوں کے ساتھ بھیجتے تھے؟ یورپی ملک سے شرمناک خبر آگئی

اپنے ہی کم عمر بچوں سے چند پیسوں کے عوض جسم فروشی کرانے والے والدین گرفتار، ...
اپنے ہی کم عمر بچوں سے چند پیسوں کے عوض جسم فروشی کرانے والے والدین گرفتار، بچوں کو کیسے گاہکوں کے ساتھ بھیجتے تھے؟ یورپی ملک سے شرمناک خبر آگئی

  

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جرمنی کے دارالحکومت برلن نے نابالغ بچوں سے جسم فروشی کرانے والے گروہ کے 4 کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ملزمان برلن کے ایک پارک میں چند پیسوں کے عوض نہ صرف اپنے بلکہ دوسرے بچوں کو بھی لے جاتے اور پھر انہیں چند پیسوں کے عوض گاہکوں کے حوالے کردیتے تھے۔

جرمن ٹی وی ڈوئچے ویلے کے مطابق دارالحکومت برلن کا ’ٹیئر گارٹن پارک‘ بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کا مرکز بن چکا ہے۔ رومانیہ سے تعلق رکھنے والے 4 ملزمان جن کی عمریں 26 سے 55 سال کے درمیان ہیں، اس پارک میں بچوں سے جسم فروشی کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ وہ کم عمر بچوں کو جن میں ان کی اپنی اولادیں بھی شامل تھیں، زبردستی جسم فروشی پر مجبور کرتے تھے۔

برلن کے دفتر استغاثہ اور منظم جرائم سے متعلق تحقیقات کرنے والے ادارے کی مشترکہ تفتیش کے نتیجے میں اس منظم گروہ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان ملزموں کو رومانیہ کی پولیس کے تعاون سے گزشتہ برس دسمبر میں رومانیہ کے شہر کرائیووا سے حراست میں لیا گیا تھا جبکہ نابالغ بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر کے چائلڈ ویلفیئر اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کارروائی کے بارے میں میڈیا کو اب آگاہ کیا ہے۔

برلن کے ٹیئر گارٹن کو نابالغوں سے جسم فروشی اور منشیات فروشی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ برلن کی ایک سماجی تنظیم سب وے کے مطابق اس پارک میں بے گھر جرمن شہریوں، غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور مشرقی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے نابالغ اور کم عمر بچوں سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -