جب بھی شرم وحیا کا وقت آیا تو’’آل شریف ‘‘کی طرف سے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا: فیاض الحسن چوہان

جب بھی شرم وحیا کا وقت آیا تو’’آل شریف ‘‘کی طرف سے اس پر کوئی عمل درآمد ...
جب بھی شرم وحیا کا وقت آیا تو’’آل شریف ‘‘کی طرف سے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا: فیاض الحسن چوہان

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی وزیر اطلات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ سینئروزیر عبدالعلیم خان کی پیشیوں کو ’’آ لِ شریف‘‘ اور آلِ زرداری کی پیشیوں سے ملانا منظر نامے کا ایک رُخ ہے لیکن منظر نامے کا دوسرارُخ جو ’’آ ل شریف‘‘ اور ’آلِ زرداری‘ کی نیب میں پیشیوں کے وقت نظر آتا تھا وہ یہا ں نظر نہیں آئے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر  اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا  کہ پچھلے کئی سالوں سے قومی اسمبلی کے فلورپر ایک دواخانہ کھلا ہوا تھاجس میں خواجہ آصف صاحب شرم وحیا کی دوایاں بیچاکرتے تھے لیکن جب شرم وحیا کا وقت آیا تو’’آلِ شریف‘‘ کی طرف سے اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، پاکستان تحریک انصاف نے بابر عوان کی صورت میں استعفیٰ دے کر ’’آلِ شریف‘‘ کوشرم وحیا کا انجکشن لگانے کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی اثر نہیں ہوا، پھر اعظم سواتی کی صورت میں وزارت سے استعفیٰ دے کرایک بار پھر ’’آلِ شریف‘‘ کوشرم وحیاکی گولی کھلائی لیکن انہیں پھربھی کوئی شرم نہیں آئی،اب اس صورتحال میں عبدالعلیم خان صاحب نے ’’آلِ شریف‘‘ اور اس کے دواخانے کو ایک اور شرم وحیا کاکیپسول دیاکہ اگر کسی حکومتی عہدیدار پر الزام لگ جائے تو اسکااستعفیٰ دینا ہی شرم وحیاکا ثبوت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ں کہ یہ بھی منظر نامے کا ایک رُخ ہے جو آپکوآ ل شریف اور آل زرداری میں نظر نہیں آئے گاجو عمران خان کےنئے پاکستان میں سب کے سامنے ہے۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ آل شریف پر تو الزامات بھی لگ گئے ریفرنس بھی ہو گئے، پراسیکیوشن بھی ہورہی ہے لیکن پھر بھی یہ پی اے سی کی چیئرمین شپ لینے کے لیے اتنے بے تاب تھے کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جاہے کے مصداق استعفیٰ دینے کو تیار نہیں تھے۔ فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ  پچھلے 5ماہ سے شہباز شریف صاحب ، زرداری صاحب اور اپوزیشن کی تمام پارٹیز امور مملکت، امورقومی اسمبلی اور امور پارلیمنٹ چلا نے کو تیار نہیں تھے، ان کی یہ شرط تھی کہ ہماری مرضی کے مطابق شہباز شریف صاحب کو پی اے سی کا چیر مین بنائیں۔ انھوں نے مسلسل پروپیگنڈا کیا ہوا تھا کہ اگر پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈرکو نہ بنایا گیا تو پاکستان میں میثاق جمہوریت تباہ وبرباد ہوجائے گی، جمہوریت اور 18ویں ترمیم کا جنازہ نکل جائے گا، اس صورت حال اور ماحول میں مجبورا زہر کا گھونٹ پی کر شہباز شریف صاحب کوبطورِ پی اے سی کا چیئرمین قبول کرنا پڑا لیکن انہیں کوئی شرم وحیانہیں آئی۔

مزید :

قومی -