دانا شخص

دانا شخص

  



ایک دانا شخص کسی جنگل میں جا رہا تھا۔ اس نے دو اشخاص کو دیکھا جو بڑے پریشان جنگل میں پھر رہے تھے۔وہ ان کے قریب گیا اور پریشانی کی وجہ دریافت کی انہوں نے اس دانا شخص کو بتایا کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا ہے۔

دانا شخص نے کہا اچھا تو یہ بات ہے۔اونٹ کی گمشدگی کے باعث تم دونوں پریشان ہو۔ دونوں آدمیوں نے اثبات میں سر ہلائے۔ تھوڑے توقف کے بعد دانا شخص نے پوچھا:کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے کانا ہے؟

دونوں آدمی جلدی سے بول پڑے ہاں، ہاں وہ ایک آنکھ سے کانا ہے، کیا تمہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟

اس سے پہلے کہ دانا شخص اس سوال کا جواب دیتا اس دوسرے نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کیا وہ اونٹ لنگڑا کر چلتا ہے؟

ایک آدمی ان میں سے بولا، ہاں وہ اونٹ لنگڑا ہے۔

دانا شخص نے تیسرا سوال کیا:کیا اونٹ کے کچھ دانت ٹوٹے ہوئے ہیں؟

دوسرے آدمی نے کہا: ہاں اس کے دو دانت ٹوٹے ہوئے ہیں۔

دانا شخص نے آخر میں پوچھا: کیا اونٹ پر ایک طرف شہد اور دوسری طرف گیہوں لدا ہوا ہے؟

دونوں آدمی فوراً گویا ہوئے: بالکل، بالکل ایسا ہی ہے۔ آپ کی ٹھیک، ٹھیک نشانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسے کہیں دیکھا ہے۔

دانا شخص بولا، میں نے تمہارا اونٹ کہیں دیکھا ضرور ہے مگر مجھے اب یاد نہیں رہا۔ان میں سے ایک مسافر آدمی بولا: تم نے ان پر لدھے ہوئے جواہرات کا ذکر نہیں کیا،ضرور تم نے وہ جواہرات چرا لئے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہو کہ کچھ یاد نہیں آ رہا۔ دونوں مسافر آدمی اسے کافی دیر تک سمجھاتے رہے کہ اونٹ کے بارے میں اور جواہرات کے بارے میں صحیح صحیح بتا دے مگر وہ دانا شخص ٹس سے مس نہ ہوا تو دونوں آدمیوں کو اس دانا شخص پر بہت غصہ آیاا ور وہ اسے پکڑ کر قاضی کی عدالت میں لے گئے۔ قاضی نے مسافروں اور دانا شخص کا بیان سنا تو دانا شخص سے کہا کہ تمہارا بیان ہے کہ تم نے اونٹ کہیں دیکھا مگر یاد نہیں پڑ رہا۔پھر تم نے اس اونٹ کی بہت سی نشانیاں صحیح بتا دی ہیں مگر جواہرات کے متعلق کچھ نہیں بتایا جس نے تمہیں مشکوک بنا دیا ہے۔

دانا شخص نے نہایت عاجزی سے کہا کہ راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا،راستہ کی ریت پر ایک اونٹ کے چلنے کے نشانات تھے مگر ایک نشان بہت ہلکا تھا جس سے میں سمجھ گیا کہ اونٹ ایک پاؤں سے لنگڑا ہے پھر میں آگے چل کر دیکھا کہ اونٹ نے ایک طرف سے کھیتوں میں کھڑی گھاس کھائی جس سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ اونٹ ایک آنکھ سے کانا ہے۔ اس کے علاوہ گھاس بیچ میں سے چھوٹی ہوئی تھی، اس سے مجھے معلوم ہواگیاکہ اس اونٹ کے کچھ دانت ٹوٹے ہوئے ہیں۔ راہ چلتے ہوئے میں نے ایک طرف مکھیوں کو بھنبھناتے ہوئے دیکھا جس سے میں سمجھ گیاکہ اس کی ایک طرف شہد ہے اور کچھ دور میں نے دوسری طرف دیکھا کہ دور تک گیہوں کے دانے راہ میں بکھرے ہوئے ہیں جس سے مجھے گمان ہوا کہ اس اونٹ کی دوسری طرف گیہوں لدا ہوا ہے۔ قاضی اس کی ذہانت پر حیران تھا۔پھر اس نے چند سپاہیوں کو اونٹ کی تلاش میں روانہ کیا اور دونوں مسافروں اور دانا شخص کو وہیں رکنے کے لئے کہا۔چند گھڑ سوار سپاہیوں نے چند منٹ کی تلاش کے بعد اونٹ تلاش کر لیا اور اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے آئے۔ دونوں مسافروں نے اونٹ کو پہچان لیا۔قاضی نے غور سے اونٹ کو دیکھا تو دانا شخص کی تمام نشانیاں صحیح نظر آئیں اور اس پر جواہرات بھی لدے ہوئے تھے۔ قاضی آدمی کی ذہانت کا تو پہلے ہی قائل تھا، اس کی ایمانداری نے بھی اسے متاثر کیا۔اس نے اونٹ مسافروں کے حوالے کیا اور دانا شخص کو با عزت رہا کر دیا۔

مزید : ایڈیشن 1