صوبہ پنجاب میں جنگلی حیات بہت متاثر ہور ہی ہے،ملک اسد کھوکھر

صوبہ پنجاب میں جنگلی حیات بہت متاثر ہور ہی ہے،ملک اسد کھوکھر

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری ملک اسد علی کھوکھر نے کہا ہے کہ شہری و صنعتی آبادیوں کے پھیلاؤ، زرعی ادویات کے بے جا استعمال، مساکن کی تباہی اور غیرقانونی شکار جیسے سنگین عوامل کے باعث پاکستان میں باالخصوص صوبہ پنجاب میں جنگلی حیات بہت متاثر ہوتی چلی جار ہی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپتے ہوئے ہماری حکومت خصوصاًوزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہنگامی بنیادوں پر گرین اینڈ کلین پاکستان پروگرام کاآغاز کردیا ہے جس سے نہ صرف جنگلات و جنگلی حیات کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ ہمارے ماحول پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔قانونی شکار کا فروغ اور غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی اولین ترجیح ہے، کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بات وڈھا ل کلر کہار میں منعقدہ فیزنٹ شوٹ پروگرام 2020 ء کی افتتا حی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرڈی جی وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی، ڈپٹی کمشنر چکوال عبدل ستار رئیسانی، اعزازی چیف گیم وارڈن پنجاب بدر منیر، سالٹ رینج کی پانچوں کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز کے صدور، اعزازی ڈویژنل گیم وارڈن سرگودھا شہزاد میکن اور محکمہ کے افسران کے علاوہ علاقے کے معززین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ فیزنٹ شوٹ پروگرام 2020 ء کے انعقاد کا بنیادی مقصد شکاریوں کو قانونی شکار کے مواقع فراہم کرنا اور محکمہ جنگلی حیات اور قانونی شکاریوں کے مابین فاصلوں کو کم کر کے باہمی تعلقات کو مزید بہتر و مضبوط اور خوشگوار بنانا ہے تاکہ وہ محکمے کے سفیر بن کر اپنے حلقہ احباب اور کمیونٹی میں قانونی شکار کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ محکمے کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ اس سلسلہ میں وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان سے کھل کر بات کریں گے۔ انہوں نے فیزنٹ شوٹ پروگرام 2020 ء کے شاندار انعقاد پر منتظمین کی کارکردگی کو سراہا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبہ میں موجود جنگلی حیات ہمارا اثاثہ ہے اور ہم سب کو مل کر اس کی ہر صورت حفاظت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کی تعداد میں ایک خاص حد تک اضافے کی صورت میں ہی شکاری حضرات کو قانونی شکار کے مواقع فراہم کرنا اور فیزنٹ شوٹ جیسی قانونی، صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لئے حکومت اپنے طور پر تمام ضروری اقدامات لے رہی ہے تاہم ہماری یہ کوششیں تب ہی بار آور ثابت ہو سکتی ہیں جب عوام بھی سرکار کے شانہ بشانہ جنگلی حیات کے تحفظ و حفاظت کے عمل میں ہمارا ساتھ دیں۔ ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ محکمہ مختلف تقریبات کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے عوام آگہی پیدا کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کے زیر اہتمام بریڈ کروا ئے گئے پرندوں کا شکار کروانے سے جنگلوں میں موجود جنگلی حیات کی آبا دی کو پورا رکھنا ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نامساعد حالات اور انتہائی محدود وسائل کے باوجود اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے کارہائے نمایاں سرانجام دے رہا ہے۔ اس محکمہ کی کل افرادی قوت 2007 ہے جن میں افسران و اہلکاران دونوں شامل ہیں جبکہ اس وقت تقریبا 1500 افسران و اہلکاران اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں اور 500 سے زائد آسامیاں افسران و اہلکاران کے ریٹائر ہوجانے، وفات پا جانے اور نئی بھرتیوں پر پابندی کے باعث خالی ہیں۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کے زیر انتظام صوبہ کے طول وعرض میں 16 وائلڈلائف پارکس اور 04چڑیاگھر، 35 وائلڈ لائف سینکچوریز، 23 گیم ریزروز، 4 نیشنل پارکس، صوبہ بھر کی شکار گاہیں اور اوپن ایریاز ہیں جن کی نگرانی و دیکھ بھال اور غیر قانونی شکار کی روک تھام محکمہ کے ان 1500 نہتے مجاہدوں کے ذمے ہے۔ ملازمین کی تعداد سے آپ سب خود بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ محکمہ محدود وسائل اور انتہائی کم افرادی قوت ہونے کے باوجود انتہائی جانفشانی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔شکاری حضرات اور معزز مہمانوں کی اس ایونٹ میں بھرپور شرکت قابل ستائش ہے اور میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ محکمہ آپ کے شوق کی تسکین کے لئے آئندہ بھی قانونی شکار کے ایسے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔افتتاحی تقریب کے بعد صوبائی وزیر ملک اسد علی کھوکھر اور ڈی جی وائلڈ لائف نے گن فائر کرکے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا۔ فیزنٹ شوٹ پروگرام 2020 ء کے سلسلہ میں آج پہلے روز نا صرف صوبہ پنجاب بلکہ دیگر صوبوں سے آئے ہوئے26 شکاری حضرات نے حصہ لیا۔

مزید : کامرس