خسارہ

خسارہ

  



حضرت سعدیؒ ایک قافلے کے ہمراہ بیابان قید طے کر رہے تھے کہ ایک پڑاؤ پر قافلہ رکا تو نیند کے غلبے نے ایسا مدہوش کیا کہ قافلے کی روانگی کا احساس نہ ہوا۔ ایک شتر سوار نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر جگایا اور کہا۔

"کیا مرنے کا ارادہ ہے جو یوں غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ یاد رکھ، قافلے سے بچھڑنے کی صورت میں اس لق و دق بیابان میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔ وقت کسی کی خاطر اپنی رفتار کم نہیں کرتا۔ اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اسے غفلت کی نیند میں برباد نہ کر۔"

حاصل کلام

سفر حیات کی نزاکتوں اور دشواریوں کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ بیابان قید کے غافل مسافر کی طرح ہلاکت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اعمال حسنہ کی برکتوں سے خالی دامن کی وجہ سے خسارے میں رہتے ہیں اور عاقبت میں نہ ختم ہونے والا عذاب ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1