بچے کی بازیابی میں ناکامی پر وزیراعلٰی خود 18فروری کو پیش ہوں

بچے کی بازیابی میں ناکامی پر وزیراعلٰی خود 18فروری کو پیش ہوں

  



لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی نے بچہ بازیابی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی طلبی کا عبوری تحریری حکم جاری کردیاہے، عدالت کے عبوری تحریری حکم میں کہاگیاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار تمام وسائل بروکار لا کر 3 سالہ عبدالرافع کر بازیاب کروائیں، بچہ بازیاب نہ کروانے کی صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب 18 فروری کو خود وضاحت کے لئے پیش ہوں،فاضل جج نے درخواست گزار یاسمین عبدالرشید کی درخواست پر عبوری حکم جاری کیاہے،عدالت کے عبوری تحریری حکم میں مزید کہاگیاہے کہ سی سی پی او لاہور حکم کے مطابق بچے کو بازیاب کروانے سے متعلق عدالت کو مطمئن نہ کر سکے، آئی جی پنجاب پولیس کو معاملہ خود دیکھنے کی ہدایت کی تھی، آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو 3 سالہ عبدالرافع کو بازیاب کروانے کا حکم دیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود 3 سالہ بچے کو بازیاب کروا کر پیش نہیں کیا گیا، بچے کی عدم بازیابی اپر عدالتی حکم کے باوجود آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے پیش ہونے کی زحمت بھی گوارا نہ کی، عدالت کے دوبارہ طلب کرنے کے بعد آئی جی پنجاب ایک گھنٹے بعد پیش ہوئے، آئی جی پنجاب کا عدالت کے سامنے اپنایا گیا موقف پیش کی گئی دستاویزات سے ثابت نہیں ہوا، ایسا لگتا ہے کہ پولیس کے اعلی ترین افسر نے عدالتی حکم اور کارروائی کو اہمیت نہیں دینا چاہتے، بادی النظر میں آئی جی پنجاب شعیب دستگیر عدالتی حکم کے مطابق اپنے فرائض بھی انجام نہیں دینا چاہتے، آئی جی پنجاب نے 3 سالہ عبدالرافع کو بازیاب کروانے کا دورانیہ بتانے سے بھی گریز کیا، آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے بچے کو بازیاب کروانے سے متعلق اپنی نااہلی ظاہر کی، عدالت کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کا کہا جائے، اس کیس مزید سماعت 18 فروری کوہوگی۔

عبوری حکم

مزید : صفحہ آخر