شیخ زید ہسپتال کے تمام آپریشن تھیٹر بند، ہر قسم کی سرجری روک دی گئی

  شیخ زید ہسپتال کے تمام آپریشن تھیٹر بند، ہر قسم کی سرجری روک دی گئی

  



لاہور(جاوید اقبال)شیخ زاہد ہسپتال لاہور میں ماں کو جگر کا عطیہ دے کر اسے نئی زندگی دینے کے آرزو مند بیٹے سمیت پانچ مریضوں کی یکے بعد دیگرے ہلاکت نے ہسپتال کے درودیوار کو ہلا کر رکھ دیا جس کے خلاف پنجاب ہیومن اورگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے ایکشن لیتے ہوئے جگر کی ٹرانسپلانٹیشن روک دی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ جگر کی ٹرانسپلانٹیشن کے سرجن پروفیسر طارق بنگش کا موقف ہے کہ مریض دوران آپریشن جاں بحق نہیں ہوئے بلکہ ہلاکتیں آپریشن کے دوران مریضوں کو دی جانے والی بیوشی کی ناقص ادویات کی وجہ سے ہوئی ہیں جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے تمام آپریشن تھیٹرز بند کرکے ہر قسم کی سرجری تاحکم ثانی روک دی ہے جبکہ میڈیسن خریدنے والے پر چیز سیل کے مطابق مریضوں کی اموات ناقص بے ہوشی کی دوائی سے نہیں، جگر کی ناقص پیوند کاری کا نتیجہ ہے کیونکہ ڈونر سمیت تمام مریضوں کی اموات دوران آپریشن ہوئی کیونکہ وہ آپریشن کے دوران دی گئی بیہوشی سے باہر نہیں آئے جبکہ پروفیسر بنگش نے کہا ہے کہ مریضوں کی اموات آپریشن کے دو سے تین دن کے بعد ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے شیخ زاید ہسپتال کے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر میں جگرکے تین مریضوں کے آپریشن ہوئے اور تینوں ہی جان کی بازی ہار گئے۔جاں بحق ہونے والوں میں محمد ریاض حسین، نسیم بی بی اور ڈونر عمر فاروق شامل ہیں۔جوان سالہ عمر فاروق اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لئے ہسپتال میں داخل ہوا اور اسے جگر کا عطیہ دیا مگر عطیہ دینے کے چند گھنٹے بعد ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔ ڈونر کی موت نے پورے ہسپتال کو سوگوار کردیا۔ دنیا میں ڈونرز کی زندگی محفوظ ہوتی ہے مگر شیخ زید ہسپتال میں دوسری مرتبہ جگر کا عطیہ دینے والے ڈونر کی موت نے دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ پہلا ڈونر کامران تھا جس کا تعلق ڈی جی خان سے تھا وہ اپنے باپ کو جگر کا عطیہ دینے کے لیے اپنے پاؤں پر چل کر آیا مگر جاتے ہوئے سفید چادر میں لپٹ کر میت بن کر واپس گیا۔ان واقعات کے خلاف چیف ایگزیکٹو پنجاب ہیومن اورگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ڈاکٹر مرتضی حیدر نے فوری ایکشن لے لیا ہے اور انہوں نے سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی اینستھیزیا ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ پروفیسر نائلہ اسد کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیٹی میں ڈاکٹر عزیز قریشی ایسوسی ایٹ پروفیسر آف سرجری سروسز ہسپتال لاہور۔ ڈاکٹر سلمان جاوید عدنان بھٹی کے نام شامل ہیں۔ دوسری طرف لیور سرجن ڈاکٹر بنگش کے اس موقف پر کہ ادویات دو نمبر ہیں پر تمام ہسپتال کی انتظامیہ نے ہر قسم کے آپریشن روک دیئے ہیں اور تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس حوالے سے ہسپتال کے ایڈمن ڈاکٹر اکبر سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ پانچ نہیں تین اموات ہوئی ہیں،دو پرانی ہیں۔ تحقیقات ہو رہی ہیں روپورٹ سامنے آنے پر کچھ بتانے کے قابل ہونگا جو بھی ذمہ دار ہوا سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

آپریشن بند

مزید : صفحہ آخر