یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی، کوکنگ آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 5سے 30روپے تک اضافہ

یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی، کوکنگ آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 5سے 30روپے تک ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 5سے30روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔ درجہ دوئم گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں 5سے 12روپے، درجہ سوئم گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں 5سے 10،چاول کی قیمتوں میں 8 سے 17، مختلف کمپنیوں کے جام کی قیمتوں میں 6سے30روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر ٹوتھ پیسٹ، کیچپ اور بسکٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب عالمی جریدے کے اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح آئندہ آنے والے مہینوں میں بھی کم ہوتی نظر نہیں آرہی۔سیاسی دباؤ کے باعث حکومت گیس کی قیمت میں اب تک اضافہ نہیں کرسکی ہے مگر محصولات کے ہدف کو پورا کرنے اور آئی ایم ایف شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت کو گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دسمبر 2010 کے بعد 2019 میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر رہی جبکہ جنوری 2020 میں بھی قیمتوں میں اضافہ توقعات سے زائد رہا۔انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی توقعات سے زیادہ بڑھی جس کا بنیادی سبب اشیائے خور و نوش خصوصاً گندم، ٹماٹر اور چینی کی قیمتیں ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی رسد تسلسل سے نہ ہونے نے قیمتوں کو بڑھاوا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں میں 18.6 فیصد اضافہ بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب ہے، اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کو ہدف میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی اختیار کی ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کی نان ٹیکس آمدنی بڑھے گی۔اکانومسٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب میں ٹڈی دل حملے سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی، حکومت نے ٹڈی دل کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے 7 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور رواں سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی جو کہ پی ٹی آئی حکومت میں سب سے زیادہ ہے۔

مہنگائی

مزید : صفحہ اول