کرونا وائرس کے 6مشتبہ مریض پمز کی آئسو لیشن وارڈ میں منتقل، چین میں ہلاکتیں 600سے تجاوز

      کرونا وائرس کے 6مشتبہ مریض پمز کی آئسو لیشن وارڈ میں منتقل، چین میں ...

  



اسلام آباد،بیجنگ،ووہان (مانیٹرنگ ڈیسک،شِنہوا) اسلام آباد میں کرونا وائرس کے 6 مشتبہ مریضوں کو آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، ترجمان پمز ہسپتال کے مطابق مریضوں میں 3 پاکستانی اور 3 چینی شہری شامل ہیں۔ترجمان پمز ہسپتال کا کہنا ہے کہ مریضوں کے سیمپل وائرس کی تشخیص کیلیے این آئی ایچ بھیج دئیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی ہے کہ قومی ادارہ صحت کو کرونا کے 25 سیمپل موصول ہوئے جن میں سے کسی میں بھی وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اجلاس میں کیا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں، تمام بندرگاہوں پر انٹر نیشنل ریگولیش کے تحت عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے، عوام کو تحفظ دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب چین میں کرونا وائرس کے باعث مزید 73افراد ہلاک اور3ہزار143 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 636جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد31ہزار161 ہوگئی ہے جن میں سے 4ہزار821 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔چین کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ صحت یاب ہونے والے1ہزار540 مریضوں کو ہسپتالوں سے ڈسچارج کیاگیا ہے۔

کرونا وائرس

لاہور (آئی این پی) لاہور میں تعینات چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بین نے کہا کہ جلد ہی کورونا وائرس پر قابو پا لیا جائے گا،خوف و ہراس میں کمی آ جائیگی،سی پیک میں دوطرفہ تعاون کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچے گی،سی پیک منصوبوں کی معطلی محض افواہیں ہیں،ووہان میں 500سے زیادہ پاکستانی طلبا آزاد ہیں، تمام ضروری چیزیں ان کی یونیورسٹیوں کی حدود میں پائی جاتی ہیں،چین وبا پر کنٹرول کیلئے پاکستان کیساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے، دونوں حکومتیں قریبی رابطے میں ہیں،چین نے پاکستان کو ایک ہزار ٹیسٹ کٹس فراہم کی ہیں۔سروسز ہسپتال لاہور میں کورونا وائرس کے معاملات سے متعلق طبی سہولیات سے نمٹنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چائنہ اکنامک نیٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بین نے کہا ہے کہ یکم جنوری 2020سے شروع ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے دوسرے مرحلے میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ اس مشکل صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاک چین تجارت کا رخ بد لے گا۔ کاروباری ماحول میں کبھی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ عام طور پر اسے آن لائن یا فون اور مواصلات کے دوسرے موڈ کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔چونکہ اصلی چیلنج لوگوں سے رابطے کی کمی کرنا ہے جو متعدی بیماری کیلئے بہت سازگار ہے۔ لہذا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کم سے کم لوگوں سے لوگوں کی ملاقاتوں کی سفارش کی جاتی ہے۔

چینی قونصل جنرل

مزید : صفحہ اول