شملہ پوٹھوہار کا:راجہ پرویز اشرف

شملہ پوٹھوہار کا:راجہ پرویز اشرف

  



پوٹھو ہار قدرت کی رنگا رنگیوں کا عجیب وغریب نمونہ ہے، کہیں اُونچی نیچی کٹی پھٹی زمین، ندیاں نالے، کہیں ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح کُھلے ”میرے“ میدان، کہیں اُونچی اُونچی کھردری چٹانیں اور کہیں نرم نرم مٹی اور ریت۔ میرے پوٹھو ہار کو صوبہ ہونا چاہیے، کیا ہے جو اس خطے میں نہیں۔ یہی حال اس خوبصورت وادی کے باسیوں کا ہے، جس سمت چلے، سب کو ساتھ لے کر چلے۔ پوٹھوہار دیس کے رہنے والے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہیں۔ اگر ہم صرف سیاست ہی کی بات کریں تو اس دھرتی نے کئی نامی سپوت پیدا کئے۔ چیئرمین مسلم لیگ (ن) و سیکرٹری جنرل ورلڈ مسلم کانگریس سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق (اپوزیشن لیڈر سینٹ)، چودھری نثار علی خان، راجہ حسن اختر مرحوم، سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر بخاری، نامور قانون دان مرحوم راجہ محمد انور، سابق وزیراعظم شاہد خاقان، راجہ نادر پرویز، راجہ شیر جنگ مرحوم، وزیر ریلوے شیخ رشید، عالمی شہرت یافتہ دانشور و ادیب راجہ انور، کرنل راجہ اشرف مرحوم، وفاقی وزیرسرور خان، کرنل حبیب مرحوم، دادا امیر حیدر، مرحوم خاقان عباسی، مہرین انور، چودھری ریاض، صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا راجہ سکندر زمان مرحوم، جنرل شاہنواز مرحوم،سابق چیئرمین بی آئی ایس پی محترمہ فرزانہ راجہ، مرحوم جنرل ٹکا خان، سردار غلام عباس، ایم این اے راجہ ریاض، راجہ جاوید اخلاص، سابق ایم این اے راجہ ظہیر مرحوم، ڈاکٹر بابر اعوان، زمرد خان، سابق ڈپٹی سپیکر حاجی نواز کھوکھر،مرحوم سردار فتح خان، انجینئر قمر الاسلام، قیوم بٹ مرحوم، سینیٹر چودھری تنویر خان، سابق وزیر پیداوار راجہ شاہد ظفر، مرحوم نذر کیانی، غلام مرتضیٰ ستی، مرحوم کرنل یامین، حنیف عباسی، سلطان ظہور اختر، راجہ اشفاق سرور، راجہ خرم نواز، ملک ابرار احمد، مرحوم چودھری خالد، راجہ افضل جہلم، راجہ ناصر دھمیال، مرحوم کالا خان مری، سینیٹر نجمہ حمید، راجہ ایم ستار اللہ، عامر کیانی، راجہ محمد علی، بیرسٹر دانیال، حنیف راجہ، حاجی امجد چودھری، ظفر علی شاہ، صداقت عباسی، شوکت بھٹی، راجہ صغیر، کرنل شبیر، انجم عقیل خان، مریم اورنگزیب…… اور بھی بڑے نام ہیں، لیکن آج میرا موضوع ہیں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جو میرے پوٹھوہار کی مٹی کی خوشبو ہیں۔ پورے پوٹھوہار میں پرویز اشرف جیسا مقبول ترین عوامی لیڈر کوئی نہیں۔ بھوکے ننگے، بے کس و مجبور غریب عوام انہیں جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر دعائیں دیتے دیکھے گئے۔

مَیں انہیں شملہ راجپوتوں کا اور راجہ آف پوٹھوہار بولتا ہوں۔مشرف آمریت میں سیاست کے بڑے بڑے پنڈت و پردھان بامشرف ہو گئے تھے۔تب پرویز اشرف نے ثابت کر دکھایاتھا کہ مَیں صبر استقامت والا ہوں اور ہمت کا ہمالہ ہوں۔ کون جیتا اور کون ہارا،یہ ”اور“ بات ہے، لیکن بہت ہی کم لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ عہد ِ پرویز مشرف میں پرویز اشرف نے کیسی مشکلات اورپُر خطر ترین حالات میں بڑی ہی بہادری اور بے باکی سے طارق محبوب کیانی کے مقابلے میں ضلعی ناظم کا الیکشن کس طرح لڑا اور نتیجتاً ہوا وہی جو یہاں ”ہونا ہوتا“ ہے۔ الیکشن 2018ء میں پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کو 1300 یا دو تین تین ہزار ووٹ ملے اور کسی نے بہت ہی تیر مار لئے تو 13000 ہو گے۔ جب پنڈی پوٹھوہار میں پِپلیوں کو امیدوار ہی نہیں مل رہے تھے تو ایسے حالات میں پی پی ٹکٹ کے ساتھ بھاری اکثریت سے جیتنا پارٹی نہیں،پرویز اشرف کا کمال ہے۔ بلاشبہ راجہ پرویز اشرف فخر ایشیا ذوالفقار علی شہید بھٹو کے سپاہی اور شہید ِوفا بے نظیر بھٹو کے بھائی ہیں، لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ وہ ضرورت مندوں اور بے سہاروں کا سہارا بھی ہیں اور لاکھوں لوگوں کے دِلوں کی دھڑکن ہیں۔

پرانی بات ہے پرویز اشرف نے مجھے اپنے گھر اسلام آباد بلایا،ان کے گھر ہم دونوں بیٹھے ہی تھے تو ڈاکٹر اسرار شاہ ّشاید بسلسلہ پارٹی ٹکٹ) وہاں آ گئے، انتہائی اہم موضوعات پر بات ہو رہی تھی تو اچانک پرویز اشرف کے انتخابی حلقے سے کافی لوگ آ گئے اپنے مسائل و مشکلات اور کاموں کی غرض سے۔ پرویز اشرف نے پُرتباک طریقے سے خوش آمدید کہا، ان کے کام کروائے اور خوب خدمت کی۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں کی اور بڑی بات یہ کہ بہت ہی محبت و خلوص کے ساتھ، حالانکہ ان میں کچھ مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی تھے۔ جب وہ لوگ خوشی خوشی واپس گئے تو مَیں نے کہا راجہ بھائی!اللہ حاکم ِ بر حق آپ کو عزت وعظمت عنایت فرمائیں، یہ جان کر دلی خوشی ہوئی کہ آپ سب کو ہی احترام دیتے ہیں، کوئی امتیاز و تفریق نہیں فرماتے۔ راجہ پرویز اشرف کہنے لگے کہ:

آدم کی کسی روپ میں تحقیر نہ کر

خدا بھی بھیس بدل کر پھرتا ہے زمانے میں

جب برسوں پہلے پرویز اشرف پر کرپشن کے مقدمات سامنے آئے تب پنڈی پوٹھوہار، بالخصوص گوجر خان کی خواتین ماؤں،بہنوں، بچیوں کے یہ جذبات و احساسات سنے گئے کہ پرویز اشرف مر سکتا ہے، مگر کرپشن نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ جھکنے والا ہے، نہ بکنے والا۔پرویز اشرف پر 437 افرادکو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کا الزام تھا۔ نیب نے سابق وزیراعظم سمیت آٹھ ملزموں کے خلاف 2016ء میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا اور آج وہ وقت بھی آگیا کہ احتساب عدالت نے راجہ پرویز اشرف کو پیپکو اور گیپکو میں جعلی بھرتیوں کے نیب ریفرنس سے بری کر دیا ہے۔شکر ہے کہ وہ ان کٹھن اور پتھریلے راستوں سے سرخرو ہو کر لوٹے ہیں اور میری نظر میں یہ ایک نئی سحر کا طلوع ہے۔ جیالوں اور راجہ جی کے متوالوں کے لئے یہ انتہائی خوش آئند خبر ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ فرماتی ہیں کہ راجہ پرویز اشرف کا بری ہونا حق اور سچ کی فتح ہے، جبکہ راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ ”ہم اپنے مقدمات کو عدالتوں میں لڑتے ہیں، عدالتوں کے ساتھ نہیں لڑتے، ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔ خوش ہوں کہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم ہوا، اللہ کی مہربانی سے آج ہمیں انصاف مل گیا ہے“۔ مجھے راجہ پرویز اشرف کی عوام دوستی اچھی لگتی ہے،اللہ قادر و قدیر انہیں ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھیں۔

مزید : رائے /کالم