مقبوضہ کشمیر کی صورت حال

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال

  



کشمیریوں کے ساتھ ہر سال 5فروری کو ”یکجہتی کا دن“منانے کی روایت تو 1990ء سے کسی نہ کسی طور چلی ہی آ رہی ہے۔ 1990ء سے 2019ء تک کے عرصے کے دوران مسئلہ کشمیر نے کئی طرح کے نشیب و فراز دیکھے۔1990ء سے 2002ء تک مقبوضہ وادی میں مسلح تحریک بھی چلی اور 1999ء میں کارگل کا واقعہ بھی ہوا،پھر2004ء سے 2007ء تک پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے تعلقات بہتر کئے تو مقبوضہ کشمیر میں بھی کسی حد تک امن قائم ہوا۔ اس وقت کی بھارتی حکومت نے حریت کا نفرنس کی قیادت کے ساتھ با ت چیت کا بھی آغاز کیا۔ اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی نے اپنی کتاب…… My Life My Country ……میں حر یت رہنماؤں کے ساتھ بھارتی حکومت کے مذاکرات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔

2004ء سے 2007ء تک کے اس دور میں کشمیر کے مسئلے کے ”آوٹ آف بکس“ حل کی باتیں بھی شروع ہو گئیں، یہی وہ دور تھا جب حریت کانفرنس کے کئی اہم رہنماؤں نے پاکستان کے بھی دورے کئے۔ دوسری طرف پا کستان کے کئی اہم صحافیوں کو بھی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کر وائے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے چنا ب فا رمولہ بھی میڈیا میں بحث کا مو ضوع بنا رہا۔2008ء کے بعد صورت حال ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو ئی اور دونوں ممالک اپنے اپنے معروضی حالات کے پیش نظر مسئلہ کشمیر پر اپنے پرانے موقف پر واپس چلے گئے۔ 2008ء کے بعد کشمیر میں جا ری تحریک میں ایک اہم تبدیلی آئی۔ اب کشمیر کے نوجوان اور خواتین بڑی تعداد میں اپنے شہروں اور قصبوں میں ہاتھوں میں پتھر لے کر بھارتی فو ج کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ اس عرصے میں کشمیر کے شہروں میں بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں کے نئے نئے ریکا رڈ بننا شروع ہوگئے اور دنیا بھر کے میڈیا میں کشمیر ی نو جوانوں کی اس تحریک کو توجہ بھی ملنے لگی۔

یوں دیکھا جائے تو گز شتہ کئی سال سے کشمیر کی تحریک میں کئی موڑ آتے رہے، تاہم اس سال5فر وری کے دن کی اہمیت گز شتہ سالوں کے مقابلے میں زیا دہ تھی، کیونکہ اس مرتبہ یہ دن 5اگست2019ء کے مودی حکومت جارحانہ اقدامات کے عین چھ ما ہ بعد منا یا جا رہا تھا ……5اگست2019ء کو جموں و کشمیر میں آرٹیکل370کو ختم کرنے کے بعد جموں وکشمیر کی تقسیم کرکے ریاست کا درجہ ختم کرکے اسے سیدھا نئی دہلی کی ایک اکائی بنا کر رکھ دیا گیا۔ اس اقدام کو 6 ماہ گزر چکے ہیں۔ حریت کانفرنس تو دور کی بات، مودی سرکار کے اس فیصلے پر ”نیشنل کانفرنس“ اور”پی ڈی پی“ جیسی جما عتیں بھی اس معاملے پر کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ بھارت کے اندر سے بھی اس فیصلے کے خلاف مختلف صورتوں میں ردعمل سامنے آرہا ہے۔جہاں تک بھارتی میڈیا کا تعلق ہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ کا رپوریٹ طبقے کا مرہون منت ہے اور مودی کی سیاست بھی اسی کارپوریٹ طبقے کی طفیلی ہے،اس لئے بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ مودی کی حمایت کر رہاہے،مگر دوسری طرف بھارتی میڈیا کا ایک چھوٹا حصہ ایسا بھی ہے جو مودی کی کشمیر سمیت دوسری پالیسیوں کو بھارتی جمہوریت، سیکولر از م اور آئین کے لئے انتہائی خطرناک قرار دے رہا ہے۔

راویش کمار، ارون وتی رائے،کرن تھاپرجیسے صحافی واضح طور پر مودی سرکار کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370ختم کر کے کشمیریوں کے ساتھ نام نہاد الحاق کے معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی، جس کی ضمانت نہرو نے شیخ عبداللہ کو دی تھی۔۔ پاکستان میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ پاکستان نے تو کبھی آرٹیکل 370کے ذریعے بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے نام نہاد الحاق کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا، کیونکہ پاکستان کا تو یہ موقف رہاہے کہ جموں وکشمیر کے مسئلے کو1948ء میں اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر 47کے ذ ریعے حل کیا جائے۔

دراصل شملہ معا ہد ے کے تحت آرٹیکل 370کو بھارت کا داخلی معا ملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جولائی1972ء میں پا کستان اور بھارت کے ما بین ہونے والے اس معا ہدے کے متن کے نکتہ نمبر 2میں واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ……Pending the final settlement of any of the problems between the two countries, neither side shall unilaterally alter the situation……یعنی مسائل کے حل تک دونوں میں سے کوئی بھی فریق موجودہ صورت حال کو اپنے طور پر تبدیل نہیں کر ے گا۔ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں اپنے طور پر اتنی بڑی تبدیلی لا کراُس ”شملہ معا ہدے“ کی بھی خلاف ورزی کی، جس کو بنیاد بنا کر بھارت جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ یا کسی تیسر ے فریق کی ثالثی کو قبول کرنے سے انکاری رہاہے…… مسئلہ کشمیر پر جہاں تک پاکستان کے آپشنز کا تعلق ہے تو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی امور کے معاملات میں نظریات اور اصولوں سے زیادہ اہمیت معا شی مفا دات کی ہو تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے معاملے پر ا مریکہ،یورپ، حتیٰ کہ عرب ممالک بھی کھل کر بھار ت کے خلاف سامنے نہیں آرہے……(تاہم ترکی اور ملا ئیشیا نے کھل کر اس معاملے میں مودی کی مذمت کی)……اکثر ممالک اس مسئلے پر بھارت کے ساتھ اپنے معاشی یا سٹرٹیجک تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے،تاہم بھارتی حکومت کے اس اقدام کو ایک موقع تصور کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو زیادہ موثر انداز میں سامنے لایا جا سکتا ہے۔

ہمارے پاس سب سے اہم دلیل تو یہ ہونی چا ہیے کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370ختم کرنے اور اسے مرکز کے تحت ایک اکائی کا درجہ دینے سے یہ ثابت ہو گیا کہ جموں و کشمیر، بھارت کے لئے صحیح معنوں درد سر بنا ہوا ہے، کیونکہ بھارت کی کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور ان علا قوں و ریاستوں میں ایسی تحریکوں کو کنٹرول کرنے کے لئے بھارتی آئین میں کئی آرٹیکلز کو شامل کیا گیا ہے، جیسے ناگا لینڈ میں آرٹیکل 371(A)،آسام میں آرٹیکل 371(B)، منی پور میں آرٹیکل 371(C)،سکم میں آرٹیکل 371(F)، میزوارم میں آرٹیکل 371(G) نافذ ہیں۔ بھارت نے نہ تو ان ریاستوں سے آرٹیکل371ہٹایا اور نہ ہی ان ریاستوں کو مرکز کی اکائی قرار دیا، کیونکہ ان ریاستوں میں ان آرٹیکلز کے ساتھ بھارت صورت حال کو ایک حد تک اپنے کنٹرول میں رکھنے میں کا میاب ہے، مگر دوسری طرف بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے ساتھ ساتھ اس کی ریاستی حیثیت کو بھی سرے سے ختم کرنا پڑا۔ یوں یہ ایک طرح کا اعتراف ہے کہ کشمیر میں بھارت کے لئے صورت حال اس حد تک قابو سے با ہر ہوچکی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اسے باقاعدہ دھونس اور جبر کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

اسی طرح عالمی ضمیر کو جگانے کے لئے اس بات پر زور دینا بہت ضروری ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے کشمیر کو یوں ہڑپ کر جانے کے عمل پر عالمی برادری نے کوئی ردعمل نہ دیا تو یہ ایک انتہائی بھیانک نظیر بن جائے گی۔ کل کو کوئی بھی طا قتور ملک کسی چھوٹی سی اکائی کوخود میں ضم کر لے گا، جیسے امریکہ، روس اور چین ایسے ممالک ہیں، جو اپنے ارد گرد کے متنا زعہ علاقوں کو اپنی اکا ئی کا درجہ دینے پر اتر آئے تو دنیا کا امن برباد ہو کر رہ جا ئے گا۔سب سے بڑھ کر پاکستان عالمی برا دری کے سامنے یہ واضح کر سکتا ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے جنوبی ایشیا کے خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچے گا،جبکہ جنوبی ایشیا کے اس خطے میں دنیا کی ہر بڑی طاقت امریکہ، روس اور چین کے مفادات موجود ہیں۔

مزید : رائے /کالم