جارحانہ سفارت کاری

جارحانہ سفارت کاری
جارحانہ سفارت کاری

  



وزیراعظم عمران خان کے غیر ملکی دورے بھی اب اسی طرح زیر بحث لائے جا رہے ہیں، جس طرح سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے غیر ملکی دورے……ہمارے بعض تجزیہ کار ان دوروں پر بات کرتے ہوئے دو بنیادی حقیقتیں فراموش کر دیتے ہیں۔ ایک دونوں کی شخصی زندگی اور دوم ماضی اور حال کی علاقائی اور عالمی صورت حال…… پہلے ہم شخصی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ عمران خان کا ماضی ایک عالمی سطح کے مقبول اور پسندیدہ کھلاڑی کا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عالمی سماجی کارکن کا…… بطور کھلاڑی عمران خان نے کرکٹ کی دُنیا کے تمام ملکوں کی درجنوں مرتبہ سیاحت کی اور ہر ملک میں وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، بھارت، جنوبی افریقہ ان کے سامنے ہتھیلی کی لکیروں کی طرح واضح اور شفاف ہیں …… پھر جب انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ کی مہم چلائی تو انہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بار بار جانا پڑا اور دُنیا کی اہم اور مقبول خواتین و حضرات نے ان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ سفر بھی کئے، لہٰذا ان کے لئے دُنیا کا سفر پکنک کی حیثیت نہیں رکھتا۔

میاں نوازشریف کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ پکنک کے بہت شوقین ہیں۔ اسلام آباد ہوں تو ہر روز مری کا سفر رہتا اور غیر ملکی دوروں کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے قبل ان کی عالمی سیاحت کے بارے میں دلچسپی کی کہانیاں بہت کم سنی گئی ہیں، البتہ وزیراعظم بننے کے بعد ان کے قدم پاکستان میں کم ہی ٹکتے تھے…… علاقائی صورت حال ان کی موجودگی میں بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھی۔ افغانستان تو مسلسل جنگ کی لپیٹ میں رہا۔ان کا دوسرا دور بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا رہا، لیکن یہ بہتر تعلقات نہ صرف کشمیر کے تنازع کے حل میں کوئی اہم پیش رفت نہ کر سکے، بلکہ یہ کارگل کی بے معنی جنگ کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ عالمی سطح پر بھی بھارت کے مقابل پاکستان بہتر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ نائن الیون کے بعد صورت حال ایک نیا رُخ اختیار کر گئی۔پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے تعلقات کی نوعیت ایسی تھی کہ دُنیا کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کے فوجی حکمران نے امریکہ کے تمام مطالبات بغیر کسی تحفظ کے تسلیم کر لئے،اس کے باوجود امریکہ پاکستان کے حوالے سے کبھی مطمئن نہیں رہا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ”ڈو مور“ کا مطالبہ شروع ہوا۔ شائد وہ اب تک کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ اس تمام عرصے میں جو اہم ترین تبدیلی واقع ہوئی وہ بھارت میں ایک فرقہ پرست اور نسل پرست جماعت کی کامیابی تھی۔ ایک ایسی جماعت کا سربراہ وزیراعظم بنا جو اس سے بیشتر بطور و زیراعلیٰ گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام اور ان کی جائیدادوں کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار تھا۔ اس نے برسرِ اقتدار آتے ہی دُنیا میں مسلم دشمن قوتوں کے ساتھ رابطے تیز کئے۔اسرائیل کے نسل پرست وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کی قیادت سے قریبی تعلقات قائم کئے۔ ٹرمپ کا برسر اقتدار آنا اس کے عزائم کے لئے مزید سود مند ثابت ہوا اور اس نے کشمیر میں اپنی نسل پرست ہندوتوا پالیسی کا آغاز کر دیا۔ یہ کشمیر کی جدوجہد آزادی پر ایک خوفناک وار تھا۔ دراصل یہ عمل پاکستان کے ساتھ ایک مسلسل حالت ِ جنگ کی پالیسی کا آغاز تھا۔ کشمیر پالیسی اور پاکستان پالیسی دراصل ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ پاکستان نے اس صورت حال میں امن کے قیام کے لئے پوری مستعدی سے سفارت کاری کی۔ اگرچہ دُنیا بھارت کے اس قدم کو حالت ِ جنگ کا آغاز سمجھتی تھی، لیکن عالمی اقتصادی مفادات نے بڑی طاقتوں کی زبان بند رکھی۔ شرمندہ شرمندہ لفظ ہونٹوں میں پھڑپھڑاتے رہے، لیکن پاکستان نے اپنی جارحانہ سفارت کاری جاری رکھی۔

اگرچہ اس حوالے سے ملک کے اندر اپوزیشن نے شروع میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی بات کی،لیکن آہستہ آہستہ حکومت پر تنقید جاری رکھی۔حکومت نے اس صورت حال سے مایوس ہونے کی بجائے اپنا مشن جاری رکھا۔عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کے نتیجے میں چین، ترکی اور ملائشیا نے پاکستان کے ساتھ ہر عالمی فورم پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔عمران خان نے اپنے غیر ملکی دورے تیز کر دیئے۔اگرچہ گزشتہ ایک برس سے انہوں نے کم ممالک کے دورے کئے تھے اور سابق وزرائے اعظم کے دوروں کے مقابل یہ نہ ہونے کے برابر تھے۔ان دوروں کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ عالمی میڈیا میں کشمیری عوام کے مصائب پر کھل کر بات ہونے لگی۔امریکی اور برطانوی میڈیا کے ساتھ ساتھ فرانس،کینیڈا، آسٹریلیا اور تیسری دُنیا کے ممالک کا میڈیا بھی حرکت میں آ چکا ہے۔اگرچہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں بھارت نے کشمیر کے حوالے سے ایسے خطرناک اور عوام دشمن اقدامات نہیں کئے تھے، اس کے باوجود مسئلہ کشمیر ہمیشہ سے جنگ کے لئے ایک وجہ ضرور تھا، لیکن گزشتہ حکومتیں کشمیر کے بارے میں عالمی رائے عامہ کو اس طرح بیدار نہیں کر سکیں،

جس طرح عمران خان کے دور میں ہوا۔ڈیووس میں عمران خان کی موجودگی ایک بار پھر کشمیر اور افغانستان میں امن کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے لائی ہے۔ ڈیووس میں صرف عالمی حکمران اور سیاست دان ہی شریک نہیں ہوتے،بلکہ دانشور، انسانی حقوق کے علمبردار اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے میڈیا پرسن بھی شریک ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ مکالمہ بذاتِ خود ایک پروپیگنڈہ مہم کی حیثیت رکھتا ہے اور عمران خان نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا…… کشمیر اور افغانستان میں عوام کی زندگی کو درپیش خطرات کو کم کرنے میں عالمی سطح پر میڈیا ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور پاکستان کو اس حوالے سے اپنی جارحانہ سفارت کاری کو جاری رکھنا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم