بھیک کا منظم کاروبار، مافیاز کو کون پکڑے گا؟

بھیک کا منظم کاروبار، مافیاز کو کون پکڑے گا؟
بھیک کا منظم کاروبار، مافیاز کو کون پکڑے گا؟

  



وزیراعظم عمران خان ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی دُنیا میں سب سے زیادہ خیرات دینے والے لوگ ہیں،لیکن یہ حضرات ٹیکس نہیں دیتے،ان کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ہمارے ملک میں خیرات بہت کی جاتی ہے اور شاید اسی وجہ سے یہاں مانگنے والے بھی بہت ہیں اور بھیک کے حوالے سے بھی مافیا کام کرتے ہیں۔یہ بھی ایک منافع بخش کاروبار ہے اور بڑے بڑے گینگ ہیں،جو جرائم کی دلدل میں بھی گھٹنے گھٹنے پھنسے ہوئے ہیں، ایک سے زیادہ بار یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ہمارے مخیر حضرات کو حقیقی ضرورت مند تلاش کرنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ آج ہی صبح منور حسین مرزا بتا رہے تھے کہ جب وہ ملازمت کرتے تھے تو ایک خاتون کو بھیک مانگتے دیکھا جو جوان تھی، وہ فریاد کرتی تھی کہ اس کا خاوند مر چکا اور تین بچوں کے ساتھ مشکل سے گذارا کرتی ہے، مزید درد پیدا کرنے کے لئے خاتون نے جو کہانی سنائی وہ یہ تھی کہ اس نے شوہر کی وفات کے بعد باعزت روٹی اور گذارے کے لئے ملازمت کی کوشش کی تو اسے ہوس کا شکار کرنے والے ملے اور جب وہ انکار کرتی تو ملازمت سے جواب مل جاتا، خاتون نے مزید یہ بھی بتایا کہ مرحوم اس کے لئے، بچوں کے لئے مکان چھوڑ کر گیا ہے۔ منور مرزا صاحب کو بہت ترس آیا اور پوچھا کہ کتنے میں گزارا ہو سکتا ہے، جواب ملا پانچ ہزار روپے مہینہ کافی ہے، چنانچہ یہ ذمہ داری انہوں (مرزا) نے اٹھا لی اور ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے پانچ ہزار دینے لگے،یونہی وقت گذرتا رہا، آٹھ، نو ماہ کے بعد ڈیفنس سے گذرے تو اس خاتون کو وہاں دیکھا جو پہلے ہی انداز میں بھیک مانگ رہی تھی۔

یہ صدمے والی بات تھی، چنانچہ جب باز پرس کی گئی تو وہ مان گئی کہ پیشہ ور بھکارن ہے، چنانچہ تب سے وظیفہ بند کر دیا گیا،ہم صبح گھر سے صاحبزادے کے ساتھ دفتر کے لئے نکلتے ہیں تو کریم بلاک چوک اور پھر بھیکے وال موڑ کے چوک پر بھکاری ملتے ہیں، جو مختلف انداز سے بھی مانگتے ہیں،اس حوالے سے عاصم چودھری نے اپنا دلچسپ مشاہدہ سنایا، آج اس نے کہا کہ چاروں طرف دیکھ لیں،اِس وقت بھیک مانگنے اور مانگنے والیاں سب بوڑھے اور بوڑھیاں ہیں، یہ صبح کے وقت ہوتے ہیں، بعد دوپہر سے شام تک ان کی جگہ نابالغ لڑکے لے لیتے ہیں اور رات کو خواجہ سراؤں کا قبضہ ہوتا ہے۔ ان میں کہیں کہیں کچھ اور بھکاری بھی پائے جاتے ہیں،عاصم چودھری نے بائیں ہاتھ گرین بیلٹ میں بیٹھے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو ایک اور ساتھی کے ساتھ کچھ کھا رہا تھا، یہ شخص ان بھکاریوں کا نگران اور ٹھیکیدار کا خاص الخاص آدمی ہے،جی! ہاں ٹھیکیدار کا مطلب ٹھیکیدار ہی ہے،جو چوراہے کا ٹھیکہ بھرتا ہے اور یہ مافیاز سے ملتا ہے، جو اس کے عوض نہ صرف بھکاری دیتے،بلکہ پولیس سے بھی تحفظ کے ذمہ دار ہوتے ہیں یہ ایک منظم کاروبار ہے اور مافیاز بچوں کے اغوا میں بھی ملوث ہیں، جو بچے خرید کر ان کو معذور بنانے کے بعد بھیک کے کام پر لگا دیتے ہیں اور یہ بھکاری جن کو مشینیں کہا جاتا ہے،

بکتے بھی ہیں،اس حوالے سے کئی بار پرنٹ میڈیا میں نشاندہی ہو چکی،لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا، اسی طرح مساجد کے بعد نمازِ فجر اور نمازِ جمعہ کے بعد بھکاریوں کی بھیڑ ہوتی ہے،جو خیرات دینے والوں کے پیچھے پیچھے جا کر زبردستی بھیک مانگتے ہیں،اس سلسلے میں انتظامیہ کئی بار اعلان کر چکی اور کئی بار گرفتاریاں بھی ہوئیں،یہ لوگ پھر چھوٹ کر آتے ہی یہ دھندا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ ان کا مستقل انتظام کرنے کی ضرورت ہے اور جہاں تک ایسی خیرات کا تعلق ہے تو یہ خود حکومت کو کرنا چاہئے تاکہ لوگ اطمینان سے خیرات دے سکیں۔ایران کے شہر تہران میں یہ نظام ہے، وہاں کوئی بھکاری نظر نہیں آتا اور شاہراؤں پر صدوقچی رکھی ہوئی ہیں، لوگ خیرات ان میں ڈال دیتے ہیں اور متعلقہ محکمہ اس سے متعلقین کی مدد کرتا ہے، جو تحقیق کے بعد دی جاتی ہے،ایسا نظام یہاں ہو جائے تو لوگوں کو سہولت مل جائے، تاہم اب جو بھی ہے اس میں مافیاز ملوث ہیں،جو مل کر کام کرتے ہیں اور ان کو خوف بھی نہیں کہ وہ ماہانہ وظائف پیش کرتے ہیں،اس سلسلے میں پولیس سمیت تفتیشی ادارے کچھ کرتے ہیں نہ حکومت اس کا سد ِباب کرتی ہے۔ یوں یہ مافیا اپنا کام کرتے چلے جا رہے ہیں۔اس حوالے سے اتنا کہا جا سکتا ہے کہ مستحقین تلاش کرنا مشکل ضرور ہے تاہم اگر اخوت جیسے ادارے وجود میں آئیں تو راستے کھل بھی جاتے ہیں۔

جہاں تک وزیراعظم کا یہ شکوہ کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے، اس کا جواب ہمیں گذشتہ ہی روز ایک نوجوان ٹیکس گذار سے ملا،جو ماسٹر تک کا تعلیم یافتہ ہے،وہ اپنے تجربے کی بناء پر کہتا ہے کہ یہاں کاروبار بہت آسان ہے اور وہ ٹیکس نہ دینے والوں کے لئے کہ وہ رشوت دے کرکام چلاتے اور متعلقہ محکمے ان کو خود راہ دکھا کر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں، لیکن ٹیکس دے کر کاروبار کرنا بہت مشکل ہے۔اس کے لئے اسے (ٹیکس گذار نوجوان) دس سال محنت کرنا پڑی ہے اور اب وہ رشوت کے بغیر پورا ٹیکس دیتا اور اپنا کاروبار کر لیتا ہے،لیکن دستاویزات اور ریکارڈ رکھنا انتہائی مشکل کام ہے کہ جگہ جگہ ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہے، چنانچہ ٹیکسی کے سفر سے ہوائی جہاز اور کھانے تک کی رسیدیں رکھنا ہوتی ہیں، تو جناب! یہ دونوں نظام کون ٹھیک کرے گا؟

مزید : رائے /کالم