کپتان کو فسادیوں سے بچنے کا مشورہ:فسادی ہے کون؟

کپتان کو فسادیوں سے بچنے کا مشورہ:فسادی ہے کون؟
کپتان کو فسادیوں سے بچنے کا مشورہ:فسادی ہے کون؟

  



ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ سوتن کون ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم عمران خان کو فسادیوں سے بچنے کا مشورہ دے دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ فسادی انہیں اتحادیوں سے دور کر رہے ہیں۔ چودھریوں کی باتیں سمجھنے کے لئے بھی شاید سیاست میں پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے،بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ چودھری برادران کی سیاست کو سمجھنا بھی کسی عام تام بندے کا کام نہیں،جو صرف چند ارکانِ اسمبلی کے ساتھ پرویزمشرف کی سرپرستی میں مسلم لیگ (ق) بنا کر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ اور ملک کی وزارتِ عظمیٰ حاصل کر لیتے ہوں،انہیں عام سیاست دان کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ اب وہ دوبارہ یہی فلم چلانا چاہتے ہیں،مگر چل نہیں رہی۔ عمران خان پرویز مشرف ثابت نہیں ہو رہے اور نہ وہ ہیں۔ پرویز مشرف کو اپنے ناجائز اقتدار کے لئے سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت تھی،اِس لئے مسلم لیگ(ق) بنا کر کام چلایا۔عمران خان تو خود ایک منتخب وزیراعظم ہیں اور اُن کی اپنی جماعت بہت مقبول ہے۔انہیں نظریہئ ضرورت کے تحت حکومت بنانے کے لئے اتحادیوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے چودھری برادران کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا،اس سے پہلے اُن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کی۔ اب اچانک ایک اُبال سا آیا ہے۔ حکومت کا کوئی اتحادی بھی اتنا شوروغل نہیں کر رہا، جتنا مسلم لیگ(ق) کر رہی ہے، وارننگ پر وارننگ دی جا رہی ہے اور دونوں برادران اپنے آئے روز کے انٹرویوز اور بیانات میں حکومت پر بدعہدی کے الزامات لگا رہے ہیں،لیکن وزیراعظم عمران خان ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے،بس اُن کی طرف سے ایک گھڑا گھڑایا بیان آ جاتا ہے کہ اتحادیوں کو مطمئن کریں گے۔

چودھری برادران کے نزدیک غالباً فسادی وہ ہیں،جو بنا بنایا کھیل بگاڑ دیتے ہیں۔اب بات اس پر آ رکی ہے کہ حکومت وہی کمیٹی بحال کرے جو جہانگیر ترین کی سربراہی میں بنائی گئی تھی۔گویا فسادی وہ ہیں،جنہوں نے جہانگیر ترین کو کمیٹی سے نکلوایا اور وزیراعظم کو نئی کمیٹی بنانے کا مشورہ دیا۔ کئی لوگوں کو تو یہ بات ہی ہضم نہیں ہو رہی کہ جہانگیر ترین پر عمران خان کسی حوالے سے عدم اعتماد بھی کر سکتے ہیں۔جہانگیر ترین غالباً کچھ دِنوں کے لئے بیرون ملک گئے تھے، اُن کی غیر موجودگی میں یہ ردوبدل کیا گیا۔ یہ بات بھی انہونی لگ رہی ہے کہ عمران خان سے جہانگیر ترین کی ملاقات نہیں ہو پا رہی۔کیا دونوں میں کوئی خلیج حائل ہو چکی ہے اور کیا اس خلیج کا باعث فسادی ہیں؟ یہ تو کپتان کے لئے واقعی تشویش کی بات ہونی چاہئے کہ کچھ لوگ اتنے کاریگر ہو چکے ہیں کہ عمران خان کے پُراعتماد دوستوں کو بھی ان سے دور کر رہے ہیں۔معاملہ کچھ بھی ہو ”دال میں کچھ کالا“ ضرور ہے۔چودھری برادران سے عمران خان کا یوں دور ہونا معمولی بات نہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ موجودہ سیٹ اَپ میں اتحادیوں کی کیا اہمیت ہے، عمران خان کا یوں خاموش ہو کر دور ہو جانا، صرف اس وجہ سے ممکن نہیں کہ فسادیوں نے کوئی کام دکھا دیا ہے……بلکہ کچھ تو ہے، جس نے یہ سب گل کھلائے ہیں۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ چودھری برادران کی ”خفیہ“ سرگرمیاں کپتان کے علم میں آ گئی ہوں اور وہ سرگرمیاں پنجاب کے حوالے سے ہوں یا مرکز کے حوالے سے، اُن کا گھوم پھر کر کھرا اگر چودھری برادران کی طرف جاتا ہے تو کپتان کو نارمل ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔باتیں توچودھری برادران بھی ملفوف انداز میں کر رہے ہیں۔سوتن اور فسادیوں جیسی اصطلاحتیں استعمال کر کے اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ چاہئے تو یہ کہ اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں، مگر وہ کمیٹی میں بندے بھی اپنی مرضی کے چاہتے ہیں ……جہانگیر ترین کی تحریک انصاف میں اہمیت کیا ہے،اس پر کسی کو شک نہیں۔اتحادی بنانے اور بندے تحریک انصاف میں شامل کرنے کے حوالے سے اُن کا کردار ڈھکا چھپا نہیں،مگر کچھ تو ایسا ہوا ہے کہ کپتان نے مذاکراتی کمیٹی سے انہیں نکال کر نئی کمیٹی بنائی۔ اب چودھری برادران کا اصرار ہے کہ انہیں کمیٹی میں شامل ہونا چاہئے،معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔

اگر چودھری برادران پرویز مشرف دور جیسے حالات ڈھونڈ رہے ہیں کہ جب ”گلیاں سنجیاں ہو گئی تھیں اور وچ مرزا یار پھرتا“ تھا تو وہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ حالات میں مماثلت بڑی حد تک وہی ہے۔ شریف برادران ملک سے باہر جا چکے ہیں۔پیپلزپارٹی دیوار سے لگی ہوئی ہے، پنجاب کے سیٹ اَپ میں مسلم لیگ(ق) کی کلیدی اہمیت ہے،مگر اس کے باوجود اُن کے حق میں پانسہ نہیں پلٹ رہا۔ پنجاب کے فیصلوں میں انہیں شامل نہیں کیا جا رہا، حتیٰ کہ پولیس اور انتظامیہ کو بھی اُن کی دسترس سے دور کر دیا گیا ہے۔ چودھری برادران کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ عمران خان دو بڑے برج پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ق) کو گرا کر اقتدار میں آئے ہیں،وہ پرویز مشرف کی طرح سیاسی حمایت سے محروم نہیں،بلکہ اس وقت بھی انہیں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔اب انہیں اگر کوئی نمبر گیم سے متاثر کرنا چاہے گا تو شاید اُسے کامیابی نہیں ہو گی۔ غالباً عمران خان شراکت ِ اقتدار کا کوئی ایسا فارمولا بھی نہیں چاہتے،جس سے اُن کا سیاسی ایجنڈا ہی متاثر ہو کر ختم ہو جائے۔اس صورتِ حال کو اگر اُن کے اتحادی نہیں سمجھ پا رہے تو اصل مسئلہ یہ ہے۔پرویز الٰہی جب ٹی وی پر آ کر یہ کہیں گے کہ میرا عثمان بزدار سے تو کوئی مقابلہ ہی نہیں،میرا موازنہ تو صرف شہبازشریف سے کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی پنجاب میں گورننس کے معاملے پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھائیں گے تو اس کا کیا مطلب لیا جائے گا؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ نے صرف اتحادی ہونے کا لبادہ اوڑھا ہو، باقی آپ کے سب کام اپوزیشن والے ہوں۔

اُدھر طارق بشیر جیسے مسلم لیگ(ق) کے رہنما جو وفاقی کابینہ میں بھی ہیں، یہ کہتے دکھائی دیں کہ تحریک انصاف حکومت کی ناکامیوں کا ہم کیوں حصہ بنیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ حکومت کے ساتھ نہیں ہیں …… کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ تحریک انصاف پنجاب میں حکومت نہ بناتی تو تب بھی پرویز الٰہی سپیکر پنجاب اسمبلی بن جاتے؟اگر مسلم لیگ(ن) حکومت بنا لیتی تو مسلم لیگ(ق) شاید اپنی چند سیٹوں کے ساتھ اپوزیشن کے کسی اتحاد میں شامل ہوتی اور اس کا سیاسی اثرو رسوخ نہ ہونے کے برابر ہوتا۔ تحریک انصاف کے حکومت بنانے سے چودھری پرویز الٰہی ایک بار پھر پنجاب کی سیاست میں اِن ہو گئے، اُن کی اہمیت بڑھ گئی،وہ سپیکر پنجاب اسمبلی بن کر ایک بڑا آئینی و سرکاری عہدہ بھی پا گئے۔ کپتان کے نقطہ ئ نظر سے تو غالباً اُن کے سیاسی استحقاق سے بڑھ کر پذیرائی تھی،کیونکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں صوبائی اور وفاقی وزارتیں بھی دی گئیں،مگر ہائے یہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ۔ ایک بار کسی کے منہ لگ جائے تو پھر اس کا ذائقہ ساری عمر ستاتا ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ عمران خان نے ایک نئے اور غیر تجربہ کار نوجوان کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا،جس پر یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ پنجاب کو سنبھالنے کے لئے عمران خان پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے پر مجبور ہو جائیں گے،لیکن کپتان نے عثمان بزدار کو اپنی ضد بنا لیا اور اُن سازشوں کو بھی بھانپ گئے،جو عثمان بزدار کو ناکام ثابت کرنے کے لئے کی جا رہی تھیں۔اِن سازشوں کے تابوت میں انہوں نے مضبوط چیف سیکرٹری اور آئی جی لگا کر آخری کیل ٹھونک دی،جس کے بعد بہت سارے طوفان اُٹھے۔ابھی تک تو کپتان اِن طوفانوں سے متاثر نہیں ہوئے،آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم