قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر 83ارب خرچ کرینگے، محمود خان

قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر 83ارب خرچ کرینگے، محمود خان

  



خیبر (بیورورپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع خیبر سے عوامی رسائی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد ضم شدہ اضلاع میں صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں سے قبائلی عوام کو آگاہ کرنا اور منصوبوں کے حوالے سے عوام کی رائے لینا ہے تاکہ قبائلی عوام صحیح معنوں میں حکومتی اقدامات سے فائدہ اُٹھا سکیں اور اُن کی ترجیحات کے مطابق مسائل حل کئے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے روزانہ کی بنیاد پر قبائلی اضلاع میں عوامی رسائی مہم جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے قابل عمل ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت 83 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے اور قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے بہر صورت پورے کریں گے۔ اگر سب ایک پیج پر ہوں گے تو ترقی کا سفر دس سال کی بجائے پانچ سال میں پورا ہو گا، اُن کا کوئی ذاتی مقصد نہیں، قبائلی عوام کی ترقی ترجیح ہے، میرٹ اور شفافیت پر ترقیاتی منصوبے مکمل کریں گے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع خیبر کے دورہ کے دوران لنڈی کوتل میں صوبائی حکومت کی عوامی رسائی مہم کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی، دیگر صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی مشران، سرکاری اداروں اور تاجرتنظیموں کے نمائندگان، ضلعی انتظامیہ کے حکام، نوجوانوں اور صحافی حضرات نے نشست میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اُن کی حکومت نے میرٹ اور شفافیت کا نعرہ لگایا ہے، جس پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں سے رقم واپس لیکر عوام پر خرچ کریں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ ہم عوامی وسائل عوام کی فلاح کیلئے خرچ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 83 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے اور قابل عمل منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اگر مزید بھی کسی سکیم کی نشاندہی کی گئی تو اُسے بھی منظور کریں گے۔عوام نے ہمیں ووٹ دیا ہے، ہم عوام کے حق کیلئے لڑیں گے، اُنہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کیلئے جلد وظیفہ شروع کیا جائے گا اور قبائلی علاقوں میں آسامیوں پر قبائلی عوام کو بھرتی کیا جائے گا۔ خیبر میں سیاحتی سفاری ٹرین کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے مشاور ت جاری ہے۔ قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر نے عوامی آگاہی کیلئے ضلع میں جاری صوبائی حکومت کے اقدامات اور افادیت پر تفصیلی بریفینگ دی۔ تفصیلات کے مطابق 55ارب 44کروڑروپے کی لاگت سے پشاور طور خم ایکسپریس وے تعمیر کیا جائے گا جوعوام کو سفری سہولت کیساتھ ساتھ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ ضلع خیبر میں معاشی زون کا قیام بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم منصوبے کا تخمینہ لاگت 16ارب روپے ہے، منصوبے کا مقصد طورخم بارڈر پر سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات کی فراہمی ہے۔ طورخم بارڈر ہفتہ بھر 24گھنٹوں کے لئے کھول دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ انصاف روزگار سکیم کے تحت ضلع خیبر کے 567ڈومیسائل ہولڈرز کو 11کروڑ روپے کے بلا سود قرضے فراہم کئے گئے ہیں۔کامیاب جوان سکیم کے تحت ضلع خیبر کے 508افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ صحت انصاف پروگرام کے تحت ضلع خیبر میں 2لاکھ 17ہزار خاندانوں کوانصاف کارڈ ز فراہم کئے جارہے ہیں۔ اب تک ایک لاکھ 33ہزار 159کارڈز رجسٹرڈ کئے جا چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ کارڈز کی رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے۔ اس سکیم کے تحت ہر رجسٹرڈ شہری سالانہ 7لاکھ 20ہزار روپے تک کی علاج معالجے کی سہولیات حاصل کر سکے گا۔اس کے علاوہ شعبہ صحت میں دیگر بڑی سکیموں میں طورخم میں پاک افغان فرینڈ شپ ہسپتال کا قیام،24کروڑ روپے کی لاگت سے تیراہ باغ میدان میں ٹائپ ڈی ہسپتال کا قیام، 17کروڑ روپے کی لاگت سے بازار ذخہ خیل ہسپتال کے فیز ٹوکی منظوری،5.6کروڑ روپے کی لاگت سے ایمرجنسی سنٹرز اور ٹراما سنٹرکا قیام اور 11 کروڑ روپے کی لاگت سے 20سول ڈسپینسریز جبکہ 4.2کروڑ روپے کی لاگت سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی بہتری وغیرہ شامل ہیں۔ شعبہ تعلیم میں باڑہ میں مکمل تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو و بحالی کے لئے 240کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دیگر سکیموں میں 27.8کروڑ روپے کی لاگت سے سکولوں کی اپگریڈیشن،16.9کروڑ روپے کی لاگت سے باڑہ اور خیبر میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا قیام، 14.4کروڑ روپے کی لاگت سے اضافی کلاس رومز اور امتحانی ہالوں کی تعمیر نو و بحالی اور ناپید بنیادی سہولیات کی فراہمی،گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ شلمان میں 10کروڑروپے کی لاگت سے سکول آف ٹیکنالوجی کا قیام، پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کی طالبات کو ماہانہ ایک ہزار روپے جبکہ کالج کی طالبات کو ماہانہ دو ہزار روپے وظیفہ کی فراہمی جس سے پرائمری سطح پر ضلع خیبرمیں 41ہزار طالبات اس پروگرام سے مستفید ہوں گی، شامل ہیں۔ ضلع خیبر کے شعبہ مواصلات میں پیکج ون کے تحت جمرود بائی پاس روڈ کی تعمیر،پیکج ٹو کے تحت پل کی تعمیر اور پیکج تھری میں جمرود روڈ کی تعمیر شامل ہیں،ان تینوں پیکجز کی مجموعی لاگت 966.7کروڑ روپے ہے۔ علاوہ ازیں باڑہ مستک سے شین کمر روڈ کی توسیع اور بہتری کے فیز ون کے لئے 83.5کروڑ روپے، جبکہ فیز ٹو کے لئے 89.2کروڑ روپے اور جمرود سے چھپڑی روڈ کی تعمیر کے لئے 39.9کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔اسی طرح باغ آدم خیل قبیلہ کے لئے روڈ کی تعمیر کے لئے 12 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ واٹر سپلائی اور ایریگیشن کے شعبے میں لنڈی کوتل اور جمرود میں سولر اور گریویٹی کی بنیاد پر واٹر سپلائی سکیموں کیلئے 55کروڑ روپے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی غیر فعال سکیموں کی بحالی اور سولر بیسڈ نئی سکیموں کی تعمیر کے لئے 3.4کروڑ روپے،واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لئے 2.1کروڑ روپے فراہم کئے جارہے ہیں۔ جبہ ڈیم کی تعمیر کے ذریعے 10لاکھ آبادی کو پانی مہیا کیا جائیگاجبکہ باڑہ ڈیم کی تعمیر سے 6میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 1700ایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔تالابوں اور چیک ڈیمز کے لئے 5.6کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔3.5 کروڑ روپے کی لاگت سے زرعی اور باغبانی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ زمین کی بحالی کے لئے 7 کروڑ روپے کی لاگت سے مشینری خریدی جائے گی، زرعی مصنوعات میں ویلیو چین کی معاونت کے لئے ایک کروڑ روپے فراہم کئے جارہے ہیں، 40کروڑ روپے کی لاگت سے جمرود بازار میں میونسپل سروسز کی فراہمی، پولیس تھانوں کی تعمیر کے لئے 2.1کروڑ روپے کی فراہمی بھی منصوبوں میں شامل ہے۔ ضلع خیبر کے ٹیکنیکل ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹس میں کمپیو ٹرلیبارٹریز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ سیاحتی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے 4.5کروڑ روپے اور مچنی پارک کے لئے 3کروڑ روپے کی فراہمی کے ساتھ ریلیف و بحالی کے شعبے میں 35کروڑ روپے کی لاگت سے ایمرجنسی ریسکیو سروسز (ریسکیو1122) کا قیام بھی شامل ہے۔ 11کروڑ روپے کی لاگت سے سوشل ویلفیئر کمپلیکس قائم کیا جائے گا، جس میں یتیم خانہ، دارالامان اور مخصوص افراد کیلئے سکول وغیرہ شامل ہیں۔ شعبہ لائیو سٹاک میں 25.8کروڑ روپے کی لاگت سے خیبر میں 18وٹرنری سنٹر ز اور 26اے آئی سیز کھولے جائیں گے۔شعبہ جنگلات میں طورخم اورمادہ خیل واٹر شیڈ کی ایفارسٹیشن کیلئے 18.5کروڑ روپے، شعبہ کھیل میں لنڈی کوتل میں سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر کے لئے 10کروڑ روپے جبکہ ضلع خیبرمیں مساجد، مدارس اور دارالعلوم کی تعمیر نو، بحالی اور بہتری کے لئے 1.5کروڑ روپے فراہم کئے جارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا منرل سیکٹر گورننس ترمیمی ایکٹ 2019 کے تحت منرل ٹائٹل کی فراہمی کے لئے مقامی برادری کو ترجیح دی گئی ہے۔ لوکل کمیونٹی کے ذریعے منرل ٹائٹل ہولڈر نامز دکیا جائیگا۔ قبائلی عوام کے روایات کیمطابق جلسہ عام کے ذریعے ضلعی انتظامیہ مقامی برادری کے شیئر کی نشاندہی / تعین کرے گی۔ مائننگ کے حوالے سے تنازعات کے حل کے لئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔ موجودہ منرل ٹائٹل ہولڈر ز کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

مزید : صفحہ اول